پتنگ لوٹنے اور وکٹیں اڑانے والوں سے درخواست
- تحریر سید محمد اشتیاق
- ہفتہ 31 / مارچ / 2018
- 11448
بسنت کے تہوار پر تو پابندی لگ گئی اور افسوس کے ساتھ لکھنا پڑ رہا ہے کہ یہ پابندی جمہوری دور میں لگی۔ بسنت کا تہوار صدیوں سے زندہ دلان لاہور مناتے آرہے ہیں لیکن خونی ڈور کی وجہ سے بسنت کے تہوار کو پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ خونی ڈور کی تیاری پر پابندی لگتی اور ایسی ڈور تیار کرنے والوں کو پابند سلاسل کیا جاتا، لیکن وطن عزیز میں الٹی گنگا بہنے کا رواج زور پکڑ گیا ہے اس لیے بسنت کا تہوار پابندی کی زد میں آگیا۔
بہرحال لاہور ہویا کراچی، پنڈی یا وطن عزیز کے دیگر شہر، موسم بہار کے ساتھ پتنگ بازی کا آغاز ہوجاتا ہے اور نیلا آسمان رنگ برنگی پتنگوں، گڈے اور گڈیوں سے سج جاتا ہے۔ یہ منظر بہت بھلا معلوم ہوتا ہے جیسے جمہوری دور بھی بہت بھلا محسوس ہوتا ہے کہ ہر طرف سیاسی گہماگہمی اور رونق۔ لیکن چند افراد ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایسے وقت میں پتنگ نہیں اڑاتے بلکہ پتنگ اڑانے والوں کے ساتھ اس انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں کہ ان کی پتنگ کٹے اور ہم لوٹیں۔ ایسے افراد بھگوڑے بہت اچھے ہوتے ہیں، بانس اور چھوٹی موٹی بلیوں سے بھی لیس ہوتے ہیں اور لڑ جھگڑ کر کسی نہ کسی طور پتنگ لوٹ بھی لیتے ہیں۔ ایسے افراد پتنگ کیوں لوٹتے ہیں، وجہ اس کی یہی ہے کہ ان میں اتنی صلاحیت اور استطاعت نہیں ہوتی کہ خود اپنی پتنگ بناسکیں یا خرید سکیں۔
ایسے افراد پتنگ لوٹ تو لیتے ہیں لیکن پتنگ اڑاتے ہوئے ڈرتے ہیں۔ جن کے پاس پنڈی کا تیار شدہ مانجھا ہوتا ہے وہ تو بے خوف خطر پتنگ لوٹنے کا اعلان بھی کردیتے ہیں اور اڑانا بھی شروع کردیتے ہیں کیونکہ ایک تو پنڈی کے تیار شدہ مانجھے کی چاروں طرف دھوم ہے اور پتنگ کٹنے کا بھی کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ لیکن پھر بھی بعض افراد اس وقت پتنگ اڑانے سے محروم رہتے ہیں جس وقت خوش طبع و وضع افراد پتنگ اڑاتے ہیں۔ بعض پتنگ لوٹنے والے ایسے بھی ہوتے ہیں جو اس وقت پتنگ اڑانا پسند کرتے ہیں، جب کسی اور فرد کی پتنگ فضا میں نہ ہوکیونکہ ان کو یہی خدشہ لاحق رہتا ہے، کہیں ان کی پتنگ کٹ نہ جائے کیونکہ رو پیٹ کر ایک آدھ پتنگ ہی ہاتھ لگتی ہے، نہ مانجھا اپنا اور نہ ڈور، تو پتنگ اڑائیں کس زور پر۔ جمہوری دور میں بھی انتخابات سے قبل سیاسی گہماگہمی اور رونق عروج پر ہوتی ہے اور یہی سننے میں آتا ہے کہ فلاں کی پتنگ کٹ گئی اور فلاں نے لوٹ لی، فلاں کی وکٹ فلاں نے اڑادی۔ یہ سب باتیں پتنگ لوٹنے والے اور وکٹ اڑانے والے کو تو اچھی لگتی ہوں گی کیونکہ ان کی ڈور ہوسکتا ہے، آہنی اور آہنی ہاتھوں والی ہو یا کہیں اور سے ہلتی ہو، لیکن جمہوریت پسند افراد کو ان کی یہ ادا بھلی معلوم نہیں ہوتی۔
ہر جمہوریت پسند کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی پتنگ نہ لوٹی جائے اور وکٹ غیر جمہوری طریقے سے نہ اڑائی جائے۔ لیکن اس میں غلطی جمہوریت پسندوں کی بھی ہے کہ جب جمہوریت کا دور ہوتا ہے تو سب کچھ پتا ہونے کے باوجود پتنگ لوٹنے اور وکٹیں اڑانے والوں، آمریت کے سائے میں پرورش پانے اور فیض یاب ہونے والوں کو اپنی صفوں میں جگہ دیتے ہیں۔ ایسی صورت میں پتنگ کٹنے، لٹنے اور وکٹ اڑنے کا ملال نہیں ہونا چاہئے۔ بحیثیت محب وطن شہری یہی عرض کریں گے وطن عزیز کے تمام شہری اور سیاست دان بے وقت پتنگ لوٹنے اور وکٹیں اڑانے سے باز رہیں۔ انتخابات کے دنوں میں ہی پتنگ اڑائیں اور ایک دوسرے کی وکٹیں اڑائیں کیونکہ یہی پتنگ بازی اور وکٹ لینا جمہوریت کا حسن ہے۔