اعلیٰ تعلیمی اداروں کی سربراہی اور شفافیت

پاکستان میں اعلی تعلیم کے معیار کو موثر ، شفاف اور عالمی معیار کے مطابق بنانا ایک بڑا چیلنج ہے ۔ کیونکہ اس وقت عالمی درجہ بندی میں ہماری اعلی تعلیم کے معیارات پر کئی سوالیہ نشان ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پرائمری تعلیم سمیت اعلی تعلیم کی ساکھ پر بھی ماہرین تعلیم اور اہل دانش سنگین نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہماری ہر طرح کی تعلیم عملی طور پر ریاستی و حکومتی ترجیحات میں محض لفظوں ، تقریروں اور بیان بازی تک محدود ہے ۔ عملی طور پر تعلیم کے حوالے سے ہمارے عمل اور عملدرآمدی نظام نہ تو موثر ہیں اور نہ ہی شفافیت کے زمرے میں آتے ہیں۔

وفاق اور صوبائی سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن موجود ہیں ۔ اس کمیشن کا مقصد ملک میں اعلی تعلیم کے معیارات اور جامعات کی کارکردگی کو موثر اور شفاف بناکر ہائر ایجوکیشن کی ساکھ کو بہتر بنانا ہے ۔ 18ویں ترمیم کے تحت صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ کیونکہ صوبوں میں جامعات کے معیارات کو بہتر بنانے کی بڑی ذمہ داری صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کی بنتی ہے ۔ لیکن بدقسمتی سے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو دو نوعیت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔ اول وفاق اور صوبوں کے درمیان ہائر ایجوکشن کمیشن کے درمیان اختیارات و کردار کی جنگ۔ دوئم صوبائی حکومتوں اور صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے درمیان مسائل ۔ ان ہی مسائل کی وجہ سے صوبائی ہائر ایجوکیشن کمیشن کا قیام محض پنجاب اور سندھ تک محدود رہا ، خیبر پختونخواہ او ربلوچستان میں یہ کمیشن تشکیل ہی نہیں دیئے جاسکے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم قانون سازی اور پالیسیاں تو بنالیتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارا نظام کافی موثر ہے ۔ لیکن عملی طور پر ابھی بھی ہمارا نظام مرکزیت کی بنیاد پر کھڑا ہے ۔ وفاق میں ایسے لوگ موجود ہیں جو حقیقی معنوں میں صوبوں کو زیادہ موثر اور بااختیار بنانے کے لیے تیار نہیں۔ منطق دی جاتی ہے کہ صوبوں میں ابھی وہ صلاحیت نہیں کہ وہ آزادانہ بنیادوں پر خود اپنے معاملات کو چلاسکیں ۔ اول تو اس یہ سچ مکمل سچ نہیں او راسی دلیل کو بنیاد بنا کر صوبوں کو کمزور رکھا جاتا ہے ۔ اگر صوبوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان کو کام کرنے کا موقع ملے گا تو وہ اپنی صلاحیتوں کو بڑھاسکیں گے ۔ اصل مسئلہ نیتوں کا ہے، کیونکہ اگر ہم اختیارات دینا ہی نہیں چاہتے تو پھر جواز تلاش کرکے اس کی تلافی کی جاتی ہے ۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن کو موثر اور فعال و جوابدہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس نظام میں  وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی سیاسی مداخلت  کو روکا جائے ۔ کیونکہ تعلیم ہی نہیں مجموعی طور پر ادارہ جاتی عمل کو بگاڑنے میں سیاسی سطح پر ہونے والی مداخلتوں نے نظام کو زیادہ بگاڑا ہے ۔ میرٹ کی عدم پالیسی سے ہر ادارے کو خراب کیا اور اس کا نتیجہ ہمیں مزید بگاڑ کی صورت میں دیکھنے کو ملا ہے ۔ اس لیے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں اگر ملک میں اعلی تعلیم کے  معاملات کو بہتر انداز میں چلانا ہے تو سیاسی مداخلتوں کے خلاف ایک منظم کردار ادا کرنا ہوگا ۔ یہ کام کسی لڑائی اور بگاڑ کی صورت میں نہیں ہونا چاہیے بلکہ علمی اور فکری محاذ پر اس مباحثہ کو آگے بڑھانا ہوگا کہ سیاسی مداخلتوں سے پاک فیصلہ سازی کے عمل کو آگے بڑھایا جائے ۔ اس تناظر میں ملک میں موجود تعلیم پر کام کرنے والے اعلی تھنک ٹینک، اکیڈمکس ایسوسی ایشن ، سول سوسائٹی اور میڈیا کو ایک موثر واچ گروپ اور ایڈوکیسی کے عمل کو طاقت فراہم کرکے بہتر ی کے عمل کو زیادہ طاقت دینی ہوگی ۔ وفاقی سطح پر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ کی مدت ملازمت اپریل 2018میں ختم ہورہی ہے ۔ وفاقی سطح پر نئے ہائرایجوکیشن کمیشن کے سربراہ کی تقرری کا عمل بھی آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ اس سے قبل  سندھ حکومت نے ڈاکٹر عاصم حسین کو سندھ ہائر ایجوکیشن کمیشن کا دوبارہ سربراہ مقررکیا ہے ۔ ڈاکٹر عاصم کی تقرری پر سندھ حکومت کو شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑاہے جو ظاہر کرتا ہے اصل مسئلہ سیاسی تقرریوں کا ہے ۔ ہمارے نظام کی ایک خرابی یہ بھی ہے کہ ہم اہم پوسٹوں پر توسیع کا کھیل کھیلتے ہیں ۔ اس سے یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ کچھ شخصیات ناگزیر ہیں اور ان کو شامل کیے بغیر بات آگے نہیں بڑھ سکتی ۔ توسیع دینے کا یہ کھیل ختم ہونا چاہیے اور نئے لوگوں کو موقع ملنا چاہیے کہ وہ اہم عہدوں پر اپنا کام بہتر طور کرسکیں ۔

وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن کے نئے سربراہ کی تلاش میں فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے سربراہ ڈاکٹر کلیم اللہ بریچ کی جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھا گیا ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے اعلی تعلیمی کے ماہرین پر مبنی سرچ کمیٹی کی تشکیل کو سراہتے ہیں اور مطالبہ کرتے ہیں کہ نئے سربراہ کی تقرری میں سیاسی مداخلتوں کو قبول نہ کیا جائے ۔ اسی طرح اس خط میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ جلد ازجلد نئے سربراہ کی تقرری تک قائم مقام چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کا بھی تقرر کیا جائے کیونکہ موجودہ چیرمین کی مدت 14اپریل2018کو ختم ہورہی ہے ۔ اسی طرح سے نیشنل ڈیموکریٹک فاونڈیشن کے سربراہ کنور دلشاد نے بھی اپنے فورم کی جانب سے وزیر اعظم کو خط لکھا ہے کہ جامعات کے سربراہان بالخصوص چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن کی تقرری میرٹ اور شفافیت پر مبنی ہونی چاہیے اور اس اہم عہدے پر کسی بھی متنازعہ شخصیت کی تقرری نہ کی جائے ۔ وفاقی سطح پر ہائر ایجوکیشن کو موثر بنانے کے لیے اہل دانش پر مشتمل ’’ ورکنگ گروپ برائے اعلی تعلیمی اصلاحات‘‘ کام کررہا ہے اور سید مرتضی نور اس کو چلارہے ہیں۔ اس ورکنگ گروپ نے بھی اپنی تجاویز پر مشتمل ایک ورکنگ پیپر وفاقی سطح پر وزیر اعظم اور دیگر ماہرین کو بھیجا ہے ۔ یہ ورکنگ گروپ کافی عرصے سے ملک میں اعلی تعلیم کے مسائل کی موثر انداز میں نگرانی کرتا ہے ۔ اس میں بھی مطالبہ شامل ہے کہ نئے چیرمین کی تقرری میرٹ پر ہونی چاہیے ۔ کیونکہ ماضی میں سیاسی بنیادوں پر جو تقرری کی گئی اس سے منفی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور بدقسمتی سے نیب میں ان کے خلاف مقدمات بھی چل رہے ہیں جو سوالیہ نشان ہے ۔

مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس عالی دماغ یا قابل صلاحیتوں کے لوگ نہیں۔ اصل مسئلہ اگر ہم نے اعلی دماغ اور صلاحیت پر مبنی لوگوں کو دیوار سے لگاکر پیچھے رکھنا ہے تو اعلی تعلیم کیسے بہتر ہوسکے گی ۔ پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین سمیت صوبوں میں کئی ایسے اہم تعلیمی ماہرین کے نام ہیں جو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی قیادت کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور ان سے حکومتوں کو ہر سطح پر مدد اور راہنمائی لینی چاہیے ۔اس وقت ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ایسے ماحول میں جب وفاق اور صوبوں کے درمیان اعلی تعلیم پر تنازعات ہوں تو چیرمین ہائر ایجوکیشن کی تقرری کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے ۔ تاکہ نئے چیرمین وفاق اور صوبوں کے درمیان رابطہ کاری کا موثر کردار ادا کرسکے اور تناؤ کم ہوسکے۔ مثال کے طور پر پچھلے دنوں جب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ نے تمام جامعات کے وائس چانسلرز کی کانفرنس طلب کی تو پنجاب اور سندھ کی حکومتوں نے وائس چانسلرز کو اس کانفرنس میں جانے سے روک دیا، جو بداعتمادی اور داخلی مسائل کے پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے۔ اسی طرح یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ نئے سربراہ کے طور پر ایسے فرد کو سامنے لایاجائے جو وفاق، صوبوں اور جامعات سب کے لیے قابل قبول ہو، کیونکہ اس وقت ہمیں ہائر ایجوکیشن میں کسی ٹکراؤ کی صورت حال کو مضبوط نہیں کرنا چاہیے ۔ وفاق کی سطح پر کمیشن کا سربراہ ایسے فرد کو  ہونا چاہیے جو کسی حد تک صوبوں میں کام کرنے کا تجربہ بھی رکھتا ہو اور جو سمجھتا ہو کہ صوبوں کے مسائل کیا ہیں۔

جو لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اہم تعلیمی  عہدوں پر تقرری کرنا حکومت کا حق ہے ، اس سے حکومتوں کو کیسے دست بردار کیا جاسکتا ہے ۔ مسئلہ کسی کے حق کو ختم کرنا نہیں بلکہ اس حق کو منصفانہ اور شفاف  میرٹ کے تقاضوں کے اندر لانا ہے ۔ کیونکہ ہم سب مانتے ہیں کہ جب ہم میرٹ سے ہٹ کر تقرریاں کرتے ہیں تو اس کا مقصد نظام کو چلانا نہیں بلکہ اپنے ذاتی یا حکومتی مفادات کو زیادہ طاقت فراہم کرنا ہوتا ہے ۔ ہمیں دنیا کے تجربات سے سیکھنا چاہیے کہ انہوں نے کیسے اپنے ہائر ایجوکیشن کے معیارات کو موثر اور بہتر بنایا ہے ۔ یقینی طور پر جن ملکوں نے ہائر ایجوکیشن میں ترقی کی ہے اس کے پیچھے ایک بنیادی وجہ سیاسی مداخلتوں سے تعلیمی نظام کو پاک کرنا اور اہل افراد کی میرٹ پر تقرریاں تھا۔ جس نے ان کی عالمی درجہ بندی کو بھی موثر بنایا۔ یہ ہی حکمت عملی ہماری اپنی بھی ہونی چاہیے۔