قومی سلامتی کو لاحق اندرونی خطرات
- تحریر چوہدری ذوالقرنین ہندل
- سوموار 02 / اپریل / 2018
- 3870
آج پاکستان مختلف خطرات (سیکیورٹی تھریٹس) کی وجہ سے متعدد محاظ پر الجھا ہوا ہے۔ ایسا تصور کیا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کی سیاست کا ماحول اس کے جغرافیائی مقام کی اہمیت پر منحصر ہے۔ کسی بھی ملک کے لئے اس کے زمینی حقائق اور اثرات سے بچنا ناممکن ہوتا ہے۔ اہم یہ ہے کہ کوئی ملک کیسے اپنے اوپر اثر انداز ہونے والے عوامل و دباؤ کو ہینڈل کرتا ہے۔ کسی ملک کی پالیسیاں بھی اس کی زمینی اہمیت پر منحصر ہوتی ہیں۔ جغرافیائی لحاظ سے جنوبی ایشیا کو بحر ہند کا ذیلی خطہ کہا جا سکتا ہے ۔
پاکستان ایسی جکہ پر واقع ہے جہاں تین اہم علاقے آپس میں ملتے ہیں۔ جیسے جنوبی ایشیاء، وسطی ایشیاء اور جنوبی مشرقی ایشیاء جسے' فلکرم آف ایشیاء' بھی کہتے ہیں۔ اس زمینی مقام کی بنا پر دنیا بالخصوص ایشیاء کی طاقتیں پاکستان پر اپنی نظریں مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ پاکستان نہ چاہتے ہوئے بھی ایسی لڑائیاں لڑنے پر مجبور ہے جو دنیا کی سیاست کی بدولت پاکستان کے حصے میں آرہی ہیں۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں تبدیلیاں بھی اسی جغرافیائی لوکیشن کی بدولت ہیں۔ پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں بہت سے مذہبی گروپ فقط چھوٹی چھوٹی باتوں پر شدت کی انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں مذہب، ذات، زبان، عقیدے اور حالات کی بنا پر ایسے بہت سے تنازعات نے جڑیں مضبوط کر رکھی ہیں جو ہماری اندرونی سلامتی کے لئے خطرات کا باعث ہیں۔ یہی وجوہات پاکستان کی اقتصادی ترقی کو روکنے کے ساتھ ساتھ سماجی و سیاسی عدم استحکام کا بھی باعث بن رہی ہیں۔
پاکستان میں قائد کی وفات کے بعد کوئی بڑا قومی لیڈر سامنے نہیں آیا جو ملک کو سیاسی مصلحت کے ساتھ چلا سکے۔ مفاد پرست وڈیروں ، بزنس ٹائیکونوں اور سرکاری افسروں نے ملک کی سیاست میں عمل دخل شروع کر دیا اور سیاسی جمہوری نظام کی آڑ میں مفادات کے کھیل کھیلے گئے۔ ایسے ملک میں اندرونی و بیرونی خطرات ہمیشہ منڈلاتے رہتے ہیں جہاں سیاسی نظام مفلوج ہو اور جس کی لاٹھی اس کی بھینس والے اصول کے تحت آمریت و جمہوریت نامی الفاظ کی آڑ میں کم عقل، کم فہم مگر با اثر لوگ سیاست جیسے مقدس شعبے کو ملک و قوم کی مفادات کی بجائے اپنے مفادات و اثر رسوخ کے لئے استعمال کرتے ہوں تو اس سے سیاسی نظام کا خراب ہونا طے ہے ۔ ہن بھی اسی صور حال کا شکار ہیں۔
عالمگیریت نے جہاں مغرب کو بے بہا وسائل فراہم کئے ہیں وہیں ترقی پذیر ممالک کے اقتصادی نظام میں جیسے چھید کردیا گیا ہو۔ ورلڈ ٹریڈ آرڈر کے تحت مغرب نے اپنی بنی ہوئی ٹیکنالوجی کو اتنا عام کیا کہ دنیا اس کی حیرت میں گم ہو گئی اور اسی کے برعکس دنیا بھر سے غذائی اجناس اور تیل جیسے بہت سے ذخیروں تک رسائی حاصل کی ۔ پاکستان بھی ایسے ترقی پذیر ممالک میں سے ایک ہے جہاں الیکٹرانک کی جدید اشیاء ، عیش و عشرت سے مزین ہوٹل، توجہ کا مرکز ہیں۔ مگر اپنی معیشت ، زراعت پر جیسے پردہ پڑ گیا ہو ۔ آج ہماری غذائی اجناس اور دوسری پراڈکٹس کی قیمتیں بہت کم ہیں جس کی بنا پر ہمارا ملک مالی مسائل کا شکار رہتا ہے اور عوام غربت کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ روزگارموجود نہیں۔ مغرب نے پاکستان کو بھی ایک منافع بخش مارکیٹ سمجھتے ہوئے لوگوں کے دلوں میں عیش و عشرت اور جدید ایجادات کی لگن کو فروغ دیا ۔ آج پاکستان میں لوگوں کے پاس موبائل اور کمپیوٹر ضرور موجود ہوگا چاہے وہ معیاری خوراک حاصل نہ کرسکے۔ پاکستان آج بھی بجلی و پانی کے مسئلے سے دو چار ہے ۔ مغرب نے گلوبلائزیشن سے اپنے مفادات کو حاصل کیا ہے باقی دنیا آج بھی مسائل سے دوچار ہے۔
نظام میں موجود خرابیاں اور ناکافی صلاحیتیں پاکستان کو گھر میں ہی کمزور کر رہی ہیں۔ وڈیروں، سیاستدانوں اور افسروں کی طاقت کے غلط استعمال اور ظلم و جبر سے تنگ لوگوں کے لئے ملک صرف امراء کی جاگیر ہوتا ہے۔ حالات و واقعات سے اکتائے لوگ خود کو ملک سے بیگانہ تصور کرتے ہیں۔ یہ رویہ ملکی سلامتی کے لئے بڑا خطرہ ہے۔ اس کے علاوہ میڈیا پر بزنس ٹائیکونوں کا قبضہ بھی ہماری مشکلات میں اضافہ کررہا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کو اکثر ایسے لوگ چلا رہے ہیں جنہیں صرف روپے سے غرض ہے چاہے اس میں ملکی سلامتی داؤ پر لگ جائے۔ مختلف چینلز پر من گھرٹ کہانیاں ملک میں صرف افراتفری اور انتہا پسندی کو فروغ دے رہی ہیں۔ ایسے میں صحافتی اداروں کو حکومت کا ساتھ دینا چاہئے تاکہ ملک سے بکاؤ میڈیا گروپس کا خاتمہ ہو سکے۔ بدقسمتی سے پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سیاست کی کوئی درسگاہ نہیں یہاں مقدس و خالص سیاست سے کسی کو کوئی سروکار نہیں۔ یہاں سیاست کی آڑ میں کاروبار چمکائے جا رہے ہیں ۔ سیاست کی آڑ میں اثر ورسوخ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ معاشرہ خود غرض ہے ، ووٹر خود غرض ہیں، سیاستدان خود غرض ہیں۔ کوئی روپے دے کر صرف اس امید پر ووٹ خریدتا ہے کہ منتخب ہو کر اس سے کہیں زیادہ کما لے گا۔ اور کوئی اتنا خود غرض اور جاہل ہے کہ قیمے والے نان ، گلیوں نالیوں، موبائل فون ، نقدی اور نوکری کے لالچ میں ووٹ فروخت کر دیتا ہے۔ سیاسی کاروبار کی خریداری کا موسم پھر شروع ہوا چاہتاہے۔ ایسا ملک خطرات کی زد سے کیسے باہر نکلے گا جہاں ملک و وطن کے نام کا چورن بیچ کر منافع کمانے والے لوگ موجود ہوں۔
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں فرقہ پرستی اور مذہبی انتہا پسندی عام ہے۔ غیر ریاستی اداکاروں کی بھرمار ہے۔ آپس کی تفرقہ بازی غیر ریاستی اداکاروں کے اضافے کا سبب ہے۔غیر ریاستی طاقتیں ہمارے بہت سے علاقوں اور لوگوں کو کنٹرول کرتی ہیں۔ علماء اور جدید تعلیم یافتہ طبقاتی تقسیم بھی ہمارے ملک کے اندرونی معاملات کے خطرات کی بڑی وجہ ہے۔ علماء حضرات کی اکثریت جدید طرز تعلیم سے عاری ہے اور جدید طبقہ مذہبی پہلوؤں کو سمجھنے سے قاصر ہے اور یوں دو دھڑے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے چکرمیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے میں جتے ہوئے ہیں ۔ ان کے لئے ایک پیج پر متفق ہونا جیسے قیامت ہو۔
بے روزگاری و غیر ملکی مداخلت عام ہے۔ بے روزگاری ایک اہم اور بڑا مسئلہ ہے۔ بہت سے غریب حالات سے تنگ آکر غلط کاموں کا سہارا لیتے ہیں۔ بے روزگاری انسان کو کمزور اور اندھا بنا دیتی ہے اچھے و برے کی تمیز ختم کر دیتی ہے۔ انسان رزق کی تلاش میں اچھے برے کی تمیز کھو بیٹھتا ہے۔ ایسے اکتائے ہوئے لوگ عدم برداشت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ ملک میں افراتفری پھیلتی ہے اور غیر ملکی ایجنسیاں مداخلت کرتی ہیں۔ بہت سے حالات کے مارے لوگ دشمن کے لئے کام کرتے ہیں اور دشمن ممالک ہمارے ملک میں افراتفری کو مزید فروغ دے کر اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرتے ہیں۔
یہ ہمارے ملک کے اندرونی خطرات کی بنیادی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے آج بھی ملک حالت جنگ میں ہے۔ جن پر قابو پانا وقت کی بڑی ضرورت ہے۔ ہمیں مل جل کر ایسے کام کرنے چاہئے جو ہمارے ملک کی بہتری کے لئے ضروری ہے۔