ملک کی تباہی میں فیصلے کرنے والے سب بڑے شامل ہیں

جب کسی بھی خاندان کے بڑے  آپس میں بچوں کی طرح لڑتے رہیں اور انا پرستی کا شکار ہو کر لمبے عرصے تک ایک دوسرے کو نقصان پہنچانے اور نیچا دکھانے کے درپے رہیں تو ذرا سوچیں کہ اس خاندان کے بچوں کا کیا ہوگا۔ کیا وہ بچے تعلیم حاصل کر سکیں گے، ان بچوں کی صحت کیسی ہو گی، ان کا بچپن اور لڑکپن کس حال میں گزرے گا اور یہ اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں کہ  ان کا مستقبل کیا ہو گا۔ ایسے والدین کے بچے اگر بے راہ روی کا شکار ہو جائیں تو ان بچوں کو کیوں  کر الزام دیا جا سکتا ہے۔ لازمی بات ہے کہ ان بچوں میں گستاخ بھی ہوں گے، جرائم پیشہ بھی ہوں گے اور کئی تو گھر سے علیحدگی کا بھی مطالبہ کر دیں گے۔

ہمارے ہاں ایک بار تو ایسا ہو بھی چکا ہے ۔۔۔۔ جی ہاں کسی ملک کے وزیراعظم، چیف آف آرمی سٹاف، ڈی جی آئی ایس آئی اور سپریم کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کو ملکی عوام کے لیے والدین ہی کا درجہ حاصل ہوتا ہے البتہ موجودہ صدر صاحب کی مثال ایسے دادا کی ہے جو گھر کی رکھوالی تو نہیں کر سکتے البتہ گھر کے کسی کونے کھدرے میں بیٹھ کر دعائیں کر سکتے ہیں۔  اگر ہم اپنے ماضی اور ماضی قریب کی تاریخ یا موجودہ پاکستان کی پوری تاریخ جو کل 47 سال بنتی ہے پر ایک نظر  ڈالیں تو ہمیں نو  ستارے، تحریک نظام مصطفی، جنرل ضیاء کا مارشل لاء، ذوالفقار علی بھٹو صاحب کا عدالتی قتل، افغانستان کا غدر،  کشمیر جہاد، غیر جماعتی انتخابات، آئین پاکستان میں آٹھویں ترمیم، جنیوا معائدہ اور جونیجو کی رخصتی، سانحہ  بہاولپور 1988 سے 1999 تک اسمبلیوں کا بننا ٹوٹنا اور 8 سال میں چار بار عام انتخابات کا انعقاد اور نگران حکومتوں کا قیام، گھوڑوں کی منڈیاں اور لوٹوں کے بازار، چھانگا مانگا، مری ایبٹ آباد، صدور اور چیف جسٹس کی جبری رخصتی اور سپریم کورٹ پر حملہ، حکومتی زعماء اور اعلی عدلیہ کے ججوں کے  ٹیلیفون  گفتگو کی ریکارڈنگ، 1999 کا نئی شکل کا مارشل لاء(جو مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کی جگہ چیف ایگزیکٹیو کے عہدے کے ساتھ  لگایا گیا تھا)  اس کے بعد نیب کا خوف سیاستدانوں کی قلابازیاں اور پھر   9/11 اور افغان جنگ جو بعد میں ہماری اپنی جنگ ٹھہری، بینظیر کا قتل اور پھر عام انتخابات کے بعد جنرل پرویزمشرف کی باعزت رخصتی، ججوں کی بحالی کی تحریک، مختصر لانگ مارچ ، ملالہ پر حملہ، طالبان کا خوف ، این آر او، میمو گیٹ، وکلاء کی بدمعاشیاں، تاریخ کا طویل ترین دھرنا اور پھر پانامہ کا زمانہ آیا۔

یہ ہے ہماری تاریخ, مگر  اس سب کے بیچ عوامی مسائل کہیں نظر نہیں آتے۔ نہ عوامی مسائل کسی بڑے کے لیے کوئی اہمیت رکھتے ہیں۔ تو پھر کیا عجب ہے جو ہر سطح پر بدعنوانی ہے، ملاوٹ ہوتی ہے، ذات برادری اور مفادات کی سیاست کا دور دورہ ہے۔ آج ملک کی صورت عجیب ہو گئی ہے، کسی کو سربراہ کا پتا ہے نہ اختیارات کی خبر۔ کون جانے بادشاہ اور فریادی کا فرق کیا ہے،  گھر کے مالک اور حفاظت پر مامور میں تمیز کرنا نہایت مشکل ہے۔

محترم کالم نگار جناب وجاہت مسعود  نے جرمنی کے شوپنہار کا واقعہ بیان کیا ہے کہ وہ اکثر انگریزوں کے ریستورانوں سے کھانا کھانے جاتے تھے۔ کھانا منگواتے اور ایک سونے کا سکہ جیب سے نکال کر میز پر رکھتے۔ جب کھانے سے فارغ ہوتے تو سکہ جیب میں واپس رکھتے اور چلے جاتے۔ شوپنہار کو یہ عمل دہراتے جب بہت وقت بیت گیا تو کسی نے پوچھ لیا یہ کیا ماجرا ہے تو  انہوں نے جواب دیا کہ میں جب یہاں کھانے پر آتا ہوں تو انگریزوں کی گفتگو سنتا ہوں ان کی گفتگو کے موضوعات میں کتے، گھوڑے اور عورتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے میں نے خود سے شرط لگا رکھی ہے کہ جس دن میرے سامنے انگریزوں میں کتے، گھوڑے اور عورت کے علاوہ بھی دنیا کا کوئی مسلہ زیر گفتگو آیا تو میں یہ سونے کا سکہ کسی بھکاری کو دے جاؤں گا۔ لیکن اتنا عرصہ گزر جانے کے باوجود ایسا نہیں ہو سکا۔

ہماری قوم کا حالت بہتر ہونے کی بجائے ملک کی اسٹیبلشمنٹ اپنے اختیار اور کنٹرول کی تگ و دو میں لگی رہی ہے۔ عوام بیچارے جن کا یہ ملک ہے، جن کے نام پر سیاست کی جاتی ہے، جن کو حقوق دلانے کی خاطر مارشل لاء لگانا پڑتا ہے، جن کے نام پر دنیا کے مختلف ممالک سے بھیک مانگی اور لی جاتی ہے، جن کو کبھی سیاسی تحریک، کبھی حکومت مخالف تحریک، کبھی مذہبی تحریک، کبھی کسی دشمن ملک کے خلاف احتجاج اور کبھی ججز بحالی تحریک میں اور کبھی دھرنوں میں بیٹھنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کا کوئی پرسان حال ہے نہ ان کے مسائل پر کوئی بات کرتا ہے۔ کیوں کہ ان کے مسائل پر بات کرنے میں کوئی دلچسپی کا پہلو ہے نہ ریٹنگ بڑھتی ہے۔ اسی لیے سیاستدان، اسٹیبلشمنٹ، ججز اور میڈیا حقیقی مسائل پر بات کرنے کی بجائے ریٹنگ کے چکر میں رہتے ہیں اور پاپولر فیصلے کرتے ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام کے مسائل ہیں کیا۔ عوامی مسائل میں روزگار، تعلیم، تحفظ، ، عزت نفس کا خیال اور صحت بنیادی مسائل ہیں۔ کسی بھی ملک میں مہنگائی اور عوام کی قوت خرید میں توازن رکھنا از حد ضروری ہوتا ہے لیکن وطن عزیز میں ایک مزدور کی ایک دن کی مزدوری چھ سو روپے اور گوشت نو سو روپے کلو ہے۔ پرائیویٹ سکول میں ٹیچر کی تنخواہ  12 ہزار بارہ ہزار روپے اور بچے کی فیس 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ ہے۔ پہلی یا دوسری کلاس کے بچے کی کتابوں پر چھ ہزار روپے ہوجاتے ہیں۔ مختلف سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 15 سے 50 ہزار روپے تک ہیں۔ اب کوئی ارباب اختیار میں سے چھ افراد پر مشتمل خاندان کے باورچی خانے کا بجٹ اس تنخواہ سے بنا کر دکھا  دے۔ اگر کوئی بیمار ہو جائے تو کسی نجی ہسپتال کا ایک چکر تین ہزار روپے سے کم کا نہیں ہوگا۔

سوچنے کی بات ہے ایسے حالات میں ہمارے بڑے کن کاموں میں مصروف ہیں۔  وہ کب  بلوغت کا مظاہرہ کرنا شروع کریں گے۔  یا پھر بچے خود ہی بڑوں کو اٹھا کر باہر کریں اور اپنے گھر کا نظام اپنے ہاتھ لے لیں۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر بڑوں کا حشر کیا ہوگا۔ ابھی وقت ہے بڑوں کو سوچنا چاہیے۔