پیغام پاکستان اور انتہا پسندی کے خلاف بیانیہ
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 02 / اپریل / 2018
- 5582
پاکستان کی ریاست، حکومت معاشرہ انتہا پسندی سے نمٹنے اور ایک پرامن ، منصفانہ ، رواداری پر مبنی معاشرے کے لیے نئے بیانیہ کی تلاش میں سرگرداں ہے ۔ جو جنگیں علمی اور فکری مباحث کے نتیجے میں آگے بڑھتی ہیں وہی نئے بیانیہ کی تلاش میں کوئی مثبت اور پائدار حل تلاش کرنے میں کامیاب بھی ہوتی ہیں۔ انتہا پسندی جیسے مرض کا مقابلہ محض انتظامی بنیادوں پر ممکن نہیں ہوتا۔ یہ عمل وقتی طور پر تو کچھ نتائج بہتری کی صورت میں دیتا ہے مگر مستقل بنیادوں پر اس کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ مستقل علاج معاشرے کے مجموعی مزاج میں میں تبدیلی سے ہی ممکن ہے۔
اصولی طور پر متحرک اور فعال یا ذمہ دار معاشروں میں جامعات، اہل علم ، علمائے کرام اور دانشوروں کی حیثیت ایک ایسے اجتماعی ادارے اور تھنک ٹینک کی ہوتی ہے جو ملک و قوم کو درپیش چیلنجوں پر غور کرکے ان کے حل کی راہیں تلاش کرتے ہیں ۔ علمائے کرام ، مساجد، خطیب ، اسلامی سکالر ، دانشور اور اسلامی مزاج سے تعلق رکھنے والے لوگوں کا بالخصوص انتہا پسندی سے نمٹنے اور نئے بیانیہ کی تلاش میں کردار خصوصی اہمیت رکھتا ہے ۔ کیونکہ مذہب کے نام جو کچھ پاکستان میں ہوا اس نے بھی انتہا پسندی کو تقویت دی۔ اس لیے اب اگر مذہبی انتہا پسندی کا علاج تلاش کرنا ہے تو ا س میں دیگر کرداروں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام اور اہل دین کا کردار بھی نمایاں نظر آنا چاہیے ۔ اسی کو سامنے رکھ کر بین الااقوامی اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ’’ پیغام پاکستان ‘‘ کانفرنس کا انعقاد بھی ایک ایسی ہی مثبت سرگرمی تھی جس میں تمام مکتبہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے علمائے کرام اور سکالرز نے شدت پسندی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل پر غوروفکر کرکے ایک متفقہ فتوی دیا ۔ انتہا پسندی کے خاتمے اور اسلام کے زریں اصولوں کی روشنی میں ایک معتدل اسلامی معاشرے کے استحکام کے لیے یہ فتوی ایک مثبت پیش رفت ہے۔ اس علمی کام پر یقینی طور پر بین الااقوامی اسلامی یونیورسٹی اور اس کے ذمہ داران مبارکباد کے مستحق ہیں ۔ کاش یہ علمی و فکری کاوش اس سماج میں ایک مستقل اور ٹھوس بنیاد پرامن اور رواداری پر مبنی معاشرے کی تشکیل میں
کلیدی کردار ادا کرسکے ۔
پیغام پاکستان کے نام سے یہ متفقہ دستاویز قران وسنت اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کی روشنی میں ریاست پاکستان کی اجتماعی سوچ کی عکاسی کرتا ہے ۔ یہ دستاویز پاکستان کی ریاست کو درپیش مسائل کا تجزیہ کرتے ہوئے ایسی حکمت عملی اور اقدامات تجویز کرتا ہے جس کی بنا پر قرداد مقاصد میں دیئے گئے اہداف بھی حاصل کیے جاسکتے ہیں ۔ نیز اس کی مد دسے پاکستان کو قوموں کی برداری میں ایک مضبوط ، متحد، مہذہب اورترقی یافتہ ملک کے طور پیش کیا جاسکتا ہے۔ یہ متفقہ دستاویز مملکت خداداداسلامی جمہوریہ پاکستان میں اسلامی تہذیب وتمدن کی برداشت، روحانیت،عدل وانصاف، برابری ، حقوق فرائض میں توازن جیسی خوبیوں سے مزین معاشرے کی تشکیل جدید میں معاون ہوسکتی ہے۔ یہ دستاویز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ریاستی اداروں اور دینی مدارس کے مندرجہ ذیل وفاقوں کی کاوش کا علمی و فکری نتیجہ ہے ۔ ان میں وفاق المدراس العربیتہ، تنظیم المدراس اہل سنت ، وفاق المدارس السلفیہ ، وفاق المدارس الشیعہ اور رابطہ المدارس پاکستان شامل ہیں ۔ اس دستاویز کی تیاری میں اہم جامعات اور بڑے دینی مدارس جیسے دارالعلوم کراچی ، دارالعلوم غوثیہ بھیرہ شریف، جامعہ بنوریہ کراچی ، جامعہ المنتظر لاہور، جامعہ اشرفیہ لاہور، جامعہ حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ محمدیہ اور جامعہ فریدیہ اسلام آباد شامل تھے ۔ یہ مسودہ ادارہ تحقیقات اسلامی ، بین الااقوامی اسلامی یونیورسٹی ، اسلام آباد نے شائع کیا ہے ۔
یہ دستاویزمئی 2017 میں ’’ میثاق مدینہ کی روشنی میں پاکستانی معاشرے کی تشکیل نو‘‘ کے تناظر میں ہونے والی کانفرنس میں پیش کی گئی جس کی صدارت صدر مملکت ممنون حسین نے کی تھی ۔ 22نکات پر مبنی اس کا اعلامیہ سامنے آیا ۔ اس سے قبل ریاست نے 20نکات پر مبنی نیشنل ایکشن پلان بھی تیار کیا ہوا ہے ۔ اس میں مندرجہ ذیل پہلو اہم ہیں ۔ 1973کے دستور کے تحت جمہوری معاشرے کی تشکیل اور اس کی بالادستی ، ریاست میں فرد کے بنیادی حقوق کی ضمانت ، کسی کو بھی غیر مسلم قرار دینے کی حوصلہ شکنی ، فتوی بازی اور لوگوں کے عقیدہ کو چیلنج کرنا یا جبر اور خوف یا زبردستی کی بنیاد پر اپنے نظریے ، سوچ اور فکرکے نفاذ کے خلاف کام، ضرب عضب اور ردالفساد جیسے آپریشن کی حمایت ، دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں فوج سمیت ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے رہنا، خود کش حملوں کے خلاف، فتوی اور لسانی ، علاقائی ، مذہبی او رمسلکی شناختوں کے نام سے تشدد کی حوصلہ شکنی۔
گزشتہ دنوں معروف دانشور اور تجزیہ نگار خورشید ندیم کے ادارے ’’ آرگنائزیشن فار ریسرچ اینڈ ایجوکیشن“ نے لاہور میں اہل دانش کے ساتھ ’’ پیغام پاکستان ‘‘ پر ایک فکری مجلس کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر بہت سے لوگوں کو اس اہم دستاویز کا علم ہی نہیں تھا۔ اگر یہ صورتحال اہل دانش کی سطح پر ہے تو باقی فریقین کا تو اللہ ہی حافظ ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم دستاویز ، پالیسی یا قانون سازی تو کرلیتے ہیں مگر عملدرآمد میں غفلت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہم تمام فریقین کو ساتھ ملا کر آگے بڑھنے کی بجائے سیاسی تنہائی میں کام کرتے ہیں جس کا نتیجہ ہماری خواہش کے برعکس ہوتا ہے ۔ اصل چیلنج ہی یہ ہے کہ ’’پیغام پاکستان ‘‘ کی دستاویز مدارس، علمائے کرام ، خطیب، استاد، اہل دانش اور بالخصوص رائے عامہ بنانے والے افراد اور اداروں میں فوقیت حاصل کرسکے ۔ اچھی بات یہ ہے کہ مدارس اور جامعات کو بنیاد بنا کر اگر ہم میڈیا کا بہتر استعمال کریں جس میں سوشل میڈیا بھی ہے تو بہتر نتائج ممکن ہیں ۔ پچھلے کچھ عرصے میں پنجاب میں جامعات کی سطح پرامن ، رواداری ، براداشت اور اختلاف رائے کی آزادی سمیت سوچ اور فکری مباحث کو کلچر کو آگے بڑھایا جارہا ہے ۔ اس میں پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سربراہ ڈاکٹر نظام الدین کا بھی بڑا کردارہے اور اگر اس پیغام پاکستان کی دستاویز پر فکری مباحث کی بحث جامعات سے آگے بڑھائی جائیں اور نئی نسل کو اس مسئلہ پر شعور دیا جائے تو یہ بڑا کام ہوگا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اس پر کام کرنا چاہئے۔ تاکہ بحث آگے بڑھے ۔
ریاست ، حکومت ، اداروں سمیت سول سوسائٹی اور میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اندر ایک ایسا مضبوط نگرانی کا نظام بنائیں اور دیکھیں کہ چاہے وہ نیشنل ایکشن پلان ہو یا پیغام پاکستان کی دستاویز، اس پر کیا کچھ ہورہا ہے او راگر نہیں ہورہا تو اس میں کون ذمہ دار ہیں ۔ یہ ہی عمل ہمیں ایک پرامن اور رواداری اور اختلاف رائے کو قبول کرنے والا معاشرہ بننے میں بڑی مدد اور طاقت فراہم کرسکتا ہے جو ہماری قومی ضرورت ہے ۔