سب کو اپنے عقیدے کے مطابق رہنے کا حق کیسے ملے گا
- تحریر محی الدین عباسی
- منگل 03 / اپریل / 2018
- 7992
چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے 23 مارچ کو لاہور کے کیتھڈرل چرچ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آزادی بہت بڑی نعمت ہے ۔ بدنصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جن کا اپنا وطن نہیں ہوتا۔ ہم خوش قسمت لوگ ہیں کہ آزاد ملک میں پیدا ہوئے۔ یہ ملک ہمارے لئے ایک نعمت ہے۔ ہمیں قائد اعظم اور علامہ اقبال کا شکرگزار ہونا چاہئے کہ جن کی کوشش سے ہمیں یہ ملک ملا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں بحیثیت قوم ہر قربانی کے لئے تیار رہنا چاہئے اور آزادی کے احترام کے ساتھ اس کا تحفظ بھی کرنا ہے۔ جو صرف الفاظ یا دکھاوے سے نہیں ہوتا۔ ہمیں ایک قوم بن کر دکھانا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اقلیتوں کو ملک میں وہی حقوق حاصل ہیں جوایک اسلامی معاشرے میں ہونے چاہئیں۔ قائد اعظم نے بھی اس حوالے سے اپنی پہلی تقریر میں واضح کردیا تھا ۔ جسٹس ثاقب نثار درست فرماتے ہیں مگر اس پر عمل کون کرے گا یا کراوائے گا۔ ہمارے تمام ادارے تو بداعمالی اور تنگ نظر ی کی نذر ہوچکے ہیں۔ چیف جسٹس کے علم میں ہونا چاہئے کہ ان کی ماتحت عدالتیں ہی آئین پاکستان اور قائد اعظم کے اصولوں کی خلاف ورزیاں کررہی ہیں۔
علاوہ ازیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے قانون ساز ادارے نہ جانے کس انداز سے سوچتے ہیں۔ جیسا کہ وطن عزیز میں ہندو، سکھ، پارسی ، عیسائی اور احمدی (قادیانی) بھی رہتے ہیں۔ اس طرح اسلامی جمہوریہ پاکستان میں صرف مسلمان ہی نہیں بستے دیگر اقلیتں بھی رہتی ہیں۔ ہندو رام اور کرشن کو ’’آخری اوتار‘‘ اور ویدوں کو آخری کتاب مانتے ہیں ۔ سکھ گوروگوبند سنگھ کو آخری پیشوا سمجھتے ہیں اور گرنتھ صاحب پر ایمان رکھتے ہیں۔ پارسی حضرات زرتشت کو آخری نبی قرار دیتے ہیں اور ’’ژنداوستا‘ ‘پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہودی موسیٰ علیہ السلام کو ’’خاتم النبین‘‘ تسلیم کرتے ہیں اور توریت کو آخری کتاب سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے اپنے انبیاء، پیشواؤں اور گروؤں پر ایمان لانے کا مطلب ہی ہے کہ وہ اسلام اور داعی اسلام کو حق پر تسلیم نہیں کرتے۔ ’’کیا توہین رسالت‘‘ کا قانون وضع کرنے والوں نے ان عقائد کو ماننے والوں کے لئے بھی کسی قسم کی گنجائش رکھی ہے یا ان لوگوں پر یوں ہی جھوٹے مقدمات بنتے رہیں گے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ختم نبوت شق کے مبینہ تبدیلی سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ احمدیوں کو پاکستان میں رہنا ہے تو غیر مسلم شہری بن کر رہیں ۔ مزید یہ کہ احمدی برادری کے بارے میں کوئی فتویٰ نہیں دے رہا۔ لیکن ملک کا آئین ان کو مسلمان نہیں مانتا۔ جسٹس شوکت صدیقی جس قانون کی بات کر رہے ہیں ان کے بنانے والے یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ یہ ایک سیاسی فیصلہ تھا اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ اور اسلام تو یہ کہتا ہے جو خود کو مسلمان کہے وہ مسلمان ہے۔
جسٹس ثاقب نثار بانی پاکستان کی جس ابتدائی تقریر کا حوالہ دے رہے ہیں اس کا اصل مقصد ہی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ تھا۔ دوسروں کے حقوق پامال کرنے کا کسی مذہب میں کوئی تصور نہیں ہے۔ قرآن کریم کا حکم ہے انصاف کرو یہ تقویٰ کے سب سے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرو۔ یقیناً اللہ اس سے ہمیشہ باخبر رہتا ہے جو تم کرتے ہو۔ (المائدہ: 9-5)