ہمارا آئینہ ۔۔۔ ملالہ یوسف زئی

آپ سوچتے ہوں گے کہ میں نے اپنے مضمون کا یہ عنوان  کیوں لکھا ہے۔  ملالہ کا معاملہ ہمارے معاشرے کے مجموعئ روئے کا عکاس ہے۔  ہم ہر عزت پانے والے انسان کو ایجنٹ ، کافر اور غدار قرار دیتے ہیں۔ حتیٰ کہ گزشتہ سال ایک چائے والے کو کسی نے فلم کی آفر دی تو ہماری قوم نے سوشل میڈیا پہ ایک طوفان بپا کر دیا کہ اسے کیوں آفر دی۔ یہ بھی خوبصورت ہے اور وہ بھی خوبصورت ہے،  اسے کیوں نہیں۔ یعنی ہم مزاجا غیر مطمئن رہنے والے لوگ ہیں۔

ملالہ کی مثال لیجیئے۔ ایک گیارہبارہ  سال کی بچی اپنے ارد گرد کے حالات سے متاثر ہو کے اپنے بلاگ کے ذریعے عالمی میڈیا کی توجہ اس جانب مبذول کرواتی ہے۔ پھر اُس کا باپ اتنے خطرناک حالات کےباوجود تعلیم اور سوشل ورک جاری رکھتاہے۔ لوگ اپنے بچوں کو ایسے حالات میں نمایاں ہونے سے روکتے ہیں کہ وہ نشانہ نہ بن جائیں۔ لیکن ملالہ کا باپ اُسے تربیت دیتا ہے۔ ایسے حالات کے لئے تیار کرتا ہے۔ کیا اُسے اپنی اولاد پیاری نہیں تھی۔  لیکن وہ ایسا کیوں کرتا ہے۔ کیونکہ اسے اپنی بیٹی میں صلاحیت نظر آتی ہے۔ جس کا اظہار اس نے   2009  میں بننے والی نیو یارک ٹائمز کی ڈاکومنٹری میں بھی کیا ہے۔  دونوں باپ بیٹی کامقصد کیا ہے۔ وہ اپنے علاقے کی بچیوں کے یئے تعلیم کا حق مانگتے تھے۔ جو طالبان ان سے چھین رپے تھے۔ انہیں قتل کی دھمکیاں ملتی رہیں۔ بلکہ ضیاالدین کے ایک قریبی ساتھی کو گولی مار بھی دی گئی لیکن ضیاالدین نے کہا کہ وہ اس کاز کے لیئے مرنے کو ترجیح دے گا۔  جسے یقین نہیں وہ نیو یارک ٹائمز کی وہ ڈاکومنٹری دیکھے جو یو ٹیوب پہ موجود ہے۔ لیکن ہم نے کبھی خود تحقیق کرنے کی زحمت گوارا نیں کی۔ صرف سنی سنائی باتوں پہ یقین کرکے کسی کو کافر  یا مسلمان یا غدار قرار دیتے ہیں۔

اسی  دوران ایک دن طالبان اس بچی کو اپنی گولی نشانہ بناتے ہیں۔  ان کا آدمی آ کے پوچھتا ہے کہ ملالہ کون ہے؟  وہ اسے ڈھونڈ کے ٹارگٹ کرتے ہیں۔ وہ زندگی اور موت کی کشکمش میں رہتی ہے۔ اس کے والدین روز جیتے اور روز مرتے ہیں۔ کہ پتہ نہیں ان کی بیٹی کا کیا بنے۔  پھر جب وہ زندہ بچ جاتی ہے تو الزامات کی بوچھاڑ۔  جیسے زندہ بچ کے اس سے کوئی غلطی سرزد ہو گئی ہو۔ جیسے اس کے باپ نے اور اس نے اپنے لیے اور دوسری بچیوں کے لئے تعلیم کا حق مانگ کے کوئی بہت بُرا کام کیا ہو۔  طالبان نے حملے کی ذمہ داری بھی قبول کی اور وجہ بھی بتائی کہ انہوں نے اسے کیوں قتل کیا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ نہیں طالبان جھوٹ بولتے ہیں انہوں نے تو کوئی گولی ماری ہی نہیں ۔ یہ تو صرف ڈرامہ ہے۔  گولی لگنے سے اس کے علاج اور ری ہیبیلی ٹیشن تک افراد کی ایک لمبی لائن ہے جو اس معاملے سے وابستہ رہے ۔ کیا سب سازشی ہیں۔ کیا سب مغرب یا امریکہ کے ایجنٹ ہیں۔ کیا کسی کی غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ وہ اس کھیل کا حصہ نہ بنے ۔ کیا کسی کے ضمیر نے ملامت نہہیں کی  کہ وہ اس ڈرامے کا کردار نہ بنے ۔ حد تو یہ ہے کہ جس ڈاکٹر نے ملالہ کا سب سے پہلے علاج کیا اس نے ساری  تفصیل بتائی ہے۔ لیکن ہمارے عقل مند لوگ پھر بھی کہتے ہیں کہ جی یہ ڈرامہ ہے۔  اورپھر اے پی ایس کے شہدا کے ساتھ تقابل کرتے ہیں۔ 

اے پی ایس کے شہدا بھی ہمارے بچے ہیں۔  ہمیں ان کا بھی دُکھ ہے۔ اتنا ہی جتنا ملالہ کا لیکن کیا یہ تقابل کرنا چاہیئے؟ میرا تو خیال ہے نہیں۔  اُن کے ساتھ جو ظلم ہوا وہ اپنی جگہ جو ملالہ کے ساتھ ہوا وہ اپنی جگہ۔ اسی طرح دھماکوں میں شہید ہونے والے ہمارے لوگ ہیں جن کا ملالہ سے تقابل کیا جاتا ہے کہ جی یہ ہمارے ہیرو ہیں ملالہ نہیں۔ او بھائی  ان کے بھی قاتل طالبان ہیں اور ملالہ کے حملہ آور بھی طالبان۔  وہ سب بد قسمتی سے اس دُنیا سے چلے گئے۔ لیکن ملالہ ہمارے درمیان موجود ہے۔ یہ اس سوچ کے خلاف جو طالبان کو جنم دیتی ہے اس کے خلا ف لڑنا چاہتی ہے۔  ان اسباب کا خاتمہ چاہتی جن کی وجہ سے طالبان پیدا ہوتے ہیں۔ یعنی جہالت اور لا علمی۔ اس کے لئے اس کا ہتھیار تعلیم ہے۔ خصوصا بچیوں کی تعلیم۔  یعنی اگر بچیاں تعلیم حاصل کریں گی تو ہماری اگلی نسلیں بھی اس زیور سے آراستہ ہوں گی۔ تو حضور آپ کو اس سے کیا مسئلہ ہےَ اگر ہماری  آئندہ نسلیں تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوں گی تو طالبان بھی پیدا نہیں ہوں گے۔ پھر کوئی اے پی ایس جیسا واقعہ نہیں ہوگا۔ پھر کوئی اعتزاز حسن اپنی جان نہیں دے گا۔

اگر مغرب کا یہی ایجنڈا ہے جو وہ ملالہ کے ذریعے پاکستان لانا چاہتے ہیں۔ اور ملالہ کو تیار کر رہے ہیں تو ست بسم اللہ۔   ہمیں بم دھماکوں،  چیتھڑوں میں اڑتی لاشوں، یتم ہوتے بچوں ، بیوہ ہوتی عورتوں ، اُجڑے سکولوں اور سنسان ہوتے کھیل کے میدانوں کا کلچر اور ایجنڈا نہیں چاہئے۔ ہمیں ایسا معاشرہ نہیں چاہئے جس میں پانچ پانچ سال کے بچوں کے ساتھ زیادتی کر کے انہیں قتل کر دیا جاتا ہو۔ جہاں قبروں میں مردے بھی محفوظ نہ ہوں۔ جہاں زندگی بچانے والی ادویات میں ملاوٹ ہو۔ جہاں دودھ اور پانی خالص نہ ہوں۔ کیا یہی کلچر ہے دُنیا جس کے خلاف ہے۔ کیا اسے بدلنے کے لیئے ملالہ کو تیار کیا جا رہا ہے۔ اگر ایسا ہے تو کیا یہ کلچر یونہی چلتا رہے۔ نہیں ایسا ہر گز نہیں۔

ہمیں قائد اعظم کا پاکستان چاہئے جس میں قرآن کا سوشل جسٹس ہو ۔ جس میں ہرکسی کی رائے ، نظریے ، مذہب اور سوچ کا احترام ہو۔ کسی کو اس وجہ قتل ہونے کا ڈرنہ ہو کہ شیعہ ہے، ہندو ہے یا عیسائی ۔ ایسا صرف تعلیم سے ممکن ہے جس کے لئے ملالہ کو شاں ہے۔ یوں کہہ لیجئے کہ ہم نے جہالت اور علم میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہے۔  اور ملالہ علم ، روشنی،  جُرات، استقامت اور جدوجہد کا استعارہ ہے۔  جس کا متبادل جہالت، اندھیرا ، پس ماندگی اور قتل وغارت ہے۔
انتخاب آپ کا ہے ۔