تتلی آئی اے باغ دُو واپس
- تحریر محمدعامرحسینی
- منگل 03 / اپریل / 2018
- 3958
ملالہ یوسف زئی عرف گل مکئی پاکستان کے مختصر دورے پہ آئیں تو ان کے آنے پہ ہر اس شخص نے خوشی محسوس کی جسے ملالہ اور اس کی دیگر ہم جولیوں پہ تحریک طالبان پاکستان کی جانب سے قاتلانہ حملے کا دکھ محسوس ہوا تھا۔ وہ بین الاقوامی سطح پہ دنیا بھر میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص بچیوں کی تعلیم تک رسائی کی سب سے بڑی سفیر ہیں۔ وہ ایک بین الاقوامی شخصیت ہیں اور 20 سال کی عمر میں ان کو وہ مقام مل گیا ہے جس کی تمنا میں لوگ قبروں میں جا اترتے ہیں۔
ملالہ یوسف زئی پاکستان کا روشن چہرہ ہیں۔ ملالہ پاکستان کے وزیراعظم کی مہمان بنیں اور اس موقع پہ کئی وزرا اور مشیر بھی موجود تھے لیکن اس موقعے پہ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر باجوہ ان سے نہیں ملے اور نہ ہی آئی ایس پی آر کی جانب سے ملالہ کے لیے کوئی تہنیتی ٹویٹ جاری ہوا۔ عساکر پاکستان کی جانب سے ملالہ یوسف زئی کی آمد پہ کوئی تہنیتی پیغام کا موصول نہ ہونا، بظاہر معمولی سا واقعہ لگتا ہے لیکن اس کی علامتی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ اس وقت تک جماعت احرار کا سابق ترجمان احسان اللہ احسان عساکر پاکستان کا مہمان بنا ہوا ہے جس نے سب سے پہلے ملالہ یوسف زئی پہ حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا بیان جاری کیا تھا۔ احسان اللہ احسان نے اس کے بعد بھی بطور ترجمان تحریک طالبان، ملالہ اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں دیں اور ان کو بین الاقوامی میڈیا سے دور رہنے کو کہا۔ ایسے میں ملالہ یوسف زئی کے دورے پہ عساکر پاکستان کی جانب سے بظاہر سرد مہری نظر آنے سے عالمی برادری تک اچھا پیغام نہیں گیا۔
ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد کے بعد حکومت نے ان کے اعزاز میں جس تقریب کا اہتمام کیا، اس میں تمام پارلیمانی جماعتوں، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، چیرمین سینٹ اور مسلح افواج کے سربراہوں کو مدعو کرلیا جاتا تو اس سے پوری دنیا کو پیغام ملتا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ڈٹ کر کھڑے ہونے والے اپنے لوگوں کا کس قدر لحاظ کرتا ہے ۔ لیکن حکومت پاکستان نے شاید اس کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ملالہ کی پاکستان آمد پہ پاکستان کے عام آدمی کی جانب سے بہت اچھے خیالات کا اظہار کیا گیا ہے ۔ سوشل میڈیا پہ اس مرتبہ سازشی مفروضے گھڑنے والوں کا زور کم دکھائی دیا بلکہ یہاں تک کہ کچھ قدامت پرستی کے حوالے سے سوشل میڈیا ایکٹوسٹس نے بھی ملالہ یوسف زئی کی ذات کے حوالے سے اچھے خیالات کا اظہار کیا۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ ملالہ یوسف زئی نے اپنے اوپر حملہ ہونے کے بعد سے لے کر نوبل انعام ملنے اور اس دوران بین الاقوامی فورمز پہ جن خیالات کا اظہار کیا۔ اس سے پاکستان کے عام آدمی کی نظر میں ان کا وقار اور مقام بلند ہوا ہے اور سازشی مفروضوں نے دم توڑ دیا ہے ۔ پاکستان کے شاعروں نے بھی ملالہ یوسف زئی کی پاکستان آمد کا سواگت شاعری سے کیا ہے ۔ یو اے ای میں مقیم پارہ چنار سے تعلق رکھنے والے شاعر شہسوار حسین نے اپنی فیس بک وال پہ اس نظم کے ساتھ ملالہ یوسف زئی کو ملک آمد پہ خوش آمدید کہا: خوش آمدید اے بلبل سحر/جب میرے دامن پہ دہشت کے دھبے تھے/ جب میرے بام و در پہ وحشت کے سائے تھے /ہم اپنے اپنے آنگن میں سہمے سہمے پڑے تھے/ ایسے میں ایک ننھی سی جان ہاتھ میں دیا جلائے/ نکل پڑیں دہشت و وحشت کے سائے سے لڑنے/ اکیلی نکل پڑیں اوراپنے لہو سے اس دیے کو روشن کیا/کل تک جو ظلمت کو نصیب سمجھے تھے/ خوف و دہشت سے گھروں میں پڑے تھے/ آج وہ بزدل اس ننھی سی جان سے ڈرتے ہیں/ان سے حسد کی آگ میں جلتے ہیں/اے جہالت کے اس دشت میں علم کی روشنی پھیلانے والی/ اندھیری رات کے وحشت میں صدائے بلبل سحر کی طرح جگانے والی/ یہ گھر اور اس کے بام و در، یہ دھرتی اور اس کے باغ و بہار، یہ سب کچھ ادھورا خواب تھا/ تیرے بغیر یہ کتنا ویراں تھا۔
سرائیکی شاعر اصغر گورمانی نے سرائیکی اشعار کے ساتھ ان کو خوش آمدید کہا:
ملالہ دے ناں زہر بھریا/ کوئی دھوں گل لاکے کوئی لال اندھیاری چلی/ قتل تھیے کئی شہر اساڈے/ روندی ہر اک گلی زخمی/ باغ دا پھل پھل زخمی زخمی/ پھل دی کلی تتلی آئی اے باغ دو واپس/ آپ کرے رب بھلیا
پاکستان میں غیرمنتخب مقتدر طاقتوں اور مذہبی انتہا پسندوں کے عذر خواہوں نے ہمیشہ سماج کے روشن چہروں اور ان کے روشن کارناموں کو دھندلانے کے لیے سازشی مفروضے گھڑنے کا کام کیا ہے ۔ ملالہ یوسف زئی پہ حملہ ہوا تو اس حملے نے بہت شدت سے مذہب اور عقیدے کی بنیاد پہ عسکریت پسندی کرنے والوں کی بربریت کو بے نقاب کردیا۔ ان کے پاس دہشت گردی کے آپشن کو استعمال کرنے کے جتنے گھڑے ہوئے جواز تھے سب کو نشان زد کردیا۔ ملالہ پہ قاتلانہ حملے کی ذمہ دایر تحریک طالبان پاکستان نے قبول کرلی تھی لیکن اس سب کے باوجود ایک دم سے سازشی مفروضے سامنے آئے ۔ پہلے اس حملے کا یکسر انکار کیا گیا۔ پھر اس حملہ کو امریکی سازش قرار دے ڈالا گیا۔ اس کے بعد خود ملالہ یوسف زئی ایک ایجنٹ بن گئی اور اس کے باپ کو بھی ایجنٹ بنادیا گیا۔ ملالہ یوسف زئی پہ اس کے بعد بلاسفیمی اور توہین مذہب کا ہتھیار آزمانے کی کوشش کی گئی اور یہ ہتھیار انصار عباسی نے ملالہ کی کتاب پہ استعمال کرنے کی کوشش کی۔ ایسا لگتا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کی کتاب کی ایڈیٹر کرسٹینا لیم کی وجہ سے بھی پاکستان کی غیر منتخب عسکری ہیئت مقتدرہ کے اندر بیٹھے ہوئے ضیا الحقی چہروں کو ناراض کیا۔ کرسٹینا لیم نے پاکستان پیپلز پارٹی اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی بحالی جمہوریت کے لیے چلائی جانے والی تحریک کو سپورٹ کیا تھا اور 1986 میں بے نظیر بھٹو کی پاکستان آمد پہ انہوں نے’ویٹنگ فار اللہ‘ نامی کتاب بھی تحریر کی تھی۔ کرسٹینا لیم مبینہ تزویراتی گہرائی، جہادی پراکسیز کی انتہائی مخالف رہیں۔
ملالہ یوسف زئی پاکستان میں جمہوریت، آئین کی بالادستی کی بات کرتی ہیں۔ وہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو اپنا آئیڈیل کہتی ہیں۔ ان کا بیانیہ پاکستان میں دائیں بازو، اسٹبلشمنٹ میں ‘ضیا الحقی’ کے علمبرداروں کے بیانیے کے بالکل الٹ ہے اور اس وجہ سے وہ ان قوتوں کی نظر میں ‘غدار’ ٹھہرجاتی ہیں۔ پاکستان کے اندر ڈیپ سٹیٹ، سیکورٹی سٹیٹ اور ایسے ہی تزویراتی گہرائی کی پالیسی کے تحت جہادی پراکسیز اور آج کل جہادی اور فرقہ پرست تنظیموں کو مین سٹریم کرنے کے تصورات کی مخالفت کرنا کبھی بھی آسان کام نہیں رہا ہے ۔
اس مخالفت کے ساتھ ہی آپ کو دائیں بازو کے انتہا کٹر قدامت پرست اردو پریس کی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ساتھ ہی بلاسفیمی کے الزامات بھی لگادیئے جاتے ہیں ۔اپنے مخالفوں کو ڈرانے ، دھمکانے کا آج کل یہ موثر ترین ہتھیار بنا ہوا ہے ۔ ملالہ یوسف زئی پاکستان کو ایک عوامی جمہوریہ بنانے کی خواہش مند ہیں اور ان کی یہ خواہش قدامت پرست حلقوں کو ایک آنکھ نہیں بھاتی۔