سندھڑی کا لعل
- تحریر مسعود مُنّور
- بدھ 04 / اپریل / 2018
- 4626
ذوالفقار علی بھٹو اپنے عہد کا ایک ایسا سیاسی لیڈر تھا ، جس کی آواز تاریخ کے گلی کوچوں میں اب بھی پوری شدت اور توانائی سے سنائی دیتی ہے لیکن اُس کے نالائق جانشینوں نے اُسے گڑھی خُدا بخش میں دفن کر دیا ہے اور اب اُس کی مجاوری کر رہے ہیں ۔ تا ہم وہ جسے کبھی کسی وقت قائدِ عوام کہا گیا ، بہت سے لوگوں کے دلوں میں اب بھی زندہ ہے اور لوگ اُس کے عہد کو سیاسی بیداری کا عہد کہتے ہیں ۔ اُس نے پاکستانی سیاست کو ایک نیا بیانیہ اورلب و لہجہ دیا ، نئی اور تازہ ترلفظیات سے روشناس کرایا اور ملک کو ایک نئی سیاسی راہ پر ڈالا ۔
اُس نے اسلام ، سوشلزم ، جمہوریت اور طاقت کے سرچشمے کا جو چہار جہتی فارمولا دیا وہ اپنی جگہ اب بھی اٹل ہے لیکن ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ نہ تو ہم اسلام سے مُخلص ہیں ، نہ ہمارے ترقی پسندوں نے سوشلزم کی بنیاد پر کوئی ناقابلِ شکست اور مستحکم سماجی اور سیاسی قوت منظم کی اور نہ ہی ہمارے جاگیرداری سماج اور کرپٹ نوکر شاہی نے جمہوریت کو جڑیں پکڑنے دیں ، جس کا نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ طاقت کا سرچشمہ یعنی عوام اپنی اقتصادی زبوں حالی ، تعلیم کے فقدان اور ریاستی جبر کا شکار ہو کر حقیقی مفہوم میں قوم بن ہی نہیں پائے ۔ ہمیں تو ہمارے حکمران طبقوں نے جس میں عسکری ، مذہبی ، سیاسی ، انصاف مہیا کرنے والے اور میڈیا کے ادارے شامل ہیں ، اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے ہی نہیں دیا ۔ طرح طرح کی محلاتی ، دفتری اور سیاسی سازشیں کر کے عوام کو تو ترقی اور خوش حالی سے محروم رکھا لیکں خود اقتصادی ترقی میں اتنے معراج پر گئے کہ آج چاروں بر اعظموں ، بلکہ چار دانگِ عالم میں اُن کی ترقی کے ڈنکے بج رہے ہیں ۔ پاکستان پیپلز پارٹی جو بھٹو کی سیاسی تخلیق تھی ، جس میں ایک زمانے میں بڑے بڑے لوگ شامل تھے : بڑے لوگ جو علم و دانش اور سیاسی بصیرت و بصارت کے اعتبار سے ممتاز تھے ۔ اُن کے قافلے میں شریک تھے لیکن وہ سب ایک ایک کر کے اپنی اپنی انا پر قربان ہو گئے ۔ اگر اُن میں سچ مچ مدبرانہ قوت اور معاملہ فہمی کی صلاحیت ہوتی تو وہ بھٹو کو الگ کر کے پیپلز پارٹی کی کمان سنبھال لیتے لیکن شاید اُن کی صلاحیت محدود تھی اور وہ پارٹی قیادت سنبھالنے کی نہ استعداد کے حامل تھے نہ بھٹو کی طرح زیرک اور قائدانہ صلاحیتوں سے لیس ۔
بھٹو کے بعد اُن کی بیٹی بے نظیر نے باپ کی سیاسی روایت کو آگے بڑھایا لیکن وہ بھی ملکی معاشرت کو بھٹو کے فلسفے کے مطابق امن ، خوش حالی اور ترقی کے راستے پر نہ ڈال سکی ۔ اُس کی واحد کارکردگی بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام ہے ، جس کی شفافیت پر بھی ہمیشہ اُنگلیاں ہی اُٹھتی رہی ہیں ۔ بھٹو کی اپنی نرینہ اولاد دشمنوں کی سازشوں کی بھینٹ چڑھ گئی اور پھر لاڑکانہ کی گدی پر حضرت آصف علی زرداری اور آلِ زرداری نے قبضہ کرلیا ۔ آج ٹی وی پر خبریں سُنتے ہوئے عزیزم بلاول زرداری کی پھوپھی جان فریال تالپور کا بیان سنا کہ بھٹو کے عدالتی قتل کی از سرِ نو تحقیق کر کے نیا فیصلہ دیا جائے ۔ محترمہ فریال سے بصد ادب گزارش ہے کہ جب اُن کے بھائی پانچ سال تک صدارت کے مزے لُوٹ رہے تھے اُس وقت یہ کام اُنہوں نے کیوں نہیں کروایا ۔ کیا آپ کا یہ بیان بھی عدلیہ کے اس پرانے پاپ کا گڑا مردہ اکھاڑ کر کے موجودہ ججوں کو لعن طعن کرنے کا حیلہ بہانہ ہے یا کچھ اور بھی ہے ۔ آپ کے برادرِ محترم سے تو یہ بھی نہ ہوسکا کہ اپنی بیوی ، بلاول کی امی جان ، ذوالفقار علی بھٹو کی لائق بیٹی اور سابق وزیر اعظم کے قاتلوں کو تلاش کر کے سزا دلوا سکتے ۔ اور جو با اختیار لیڈر اور منصب دار ایسا نہ کر سکے اُسے عوام شریکِ جُرم سمجھتے ہیں اور دبے لفظوں میں اُسے بد دعائیں بھی دیتے ہیں ۔
یہ پاکستان کی تاریخ ہے کہ یہاں نہ سیاسی اکابرین کا قاتل آسانی سے ہاتھ آتا ہے اور نہ مجرم ہی پکڑا جاتا ہے ۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان ، اپنی قبر میں ابھی تک اپنے قاتلوں کے کیفرِ کردار تک پہنچنے کا انتظار کر رہے ہیں ۔ یہی سقوطِ مشرقی پاکستان کے سانحے کا ہوا کہ اُس پر حمود الرحمان کمیشن رپورٹ عوام کی نظروں سے چھپا لی گئی تاکہ قائدِ اعظم کے پاکستان کے اصل قاتلوں کے چہرے کہیں عوام نہ دیکھ لیں۔ جنرل ضیا الحق کے ساتھ جو کچھ ہوا ، سب جانتے ہیں کہ اُنہیں آسمان کی چتا میں اس طرح زندہ جلا دیا گیا کہ اُن کی لاش بھی شناخت نہ ہوسکی ۔ اس واردات کے پیچھے کون تھا ، کوئی نہیں جانتا ۔ یہ المیہ ہے کہ پاکستان کے سیاسی جانوروں نے اپنی دنیاعوام سے الگ آباد کر رکھی ہے ۔ اب کوئی مجھے یہ الزام نہ دے کہ میں نے سیاست دانوں کو جانور کہہ دیا ہے جو قابلِ اعتراض ہے۔ بھائی جان ! ارسطو نے بھی انسان کو سماجی جانور ہی کہا تھا ۔ جان کے ساتھ ور کا لاحقہ ایسا ہی ہے جیسے دانش کے ساتھ ور کا لاحقہ ۔ لیکن اعتراض کرنے والے کوئی بہانہ تلاش کر ہی لیتے ہیں ۔ لہٰذا معذرت لیکن کس سے اور کیوں ؟ میری بلا سے ۔
تو آج اپریل کی چوتھی ہے ۔ یہی دن تھا ۔ میں روزنامہ آزاد سے رات کی ڈیوٹی کر کے صبح گھر لوٹا تو دن چڑھ چکا تھا ۔ میں دودھ لینے کے لیے کمنڈل لے کر گوالمنڈی (لاہور) کے چوک میں پہنچا تو مجھے سامنے سے بارک اللہ خان ایڈوکیٹ آتے دکھائی دیئے ۔ وہ جماعتِ اسلامی لاہور کے عہدیدار تھے اور اس کے باوجود میرے ذاتی دوست تھے ۔ میں نے حسبِ عادت اُن کو لمبا سا سلام کیا جس پر وہ افسردہ چہرا بنائے میرا بازو تھام کر بولے کہ میں تو تعزیت کے لیے آیا تھا ، رات دو بجے بھٹو صاحب کو تختہ ء دار پر کھینچ دیا گیا ہے ۔
میں نے کہا ، ارے نہیں؟
وہ بولے ، یہی سچ ہے ، صبح کو نوابزادہ نصراللہ صاحب کا فون آیا تھا ۔ اُنہوں نے تو بیگم بھٹو کو تعزیت کا تار بھی بھجوا دیا ہے ۔
پھر اس کے بعد کیا ہوا۔ دودھ سے بھرے کمنڈل میں چند نمکین آنسو گرے اور میں گہرے رنج میں ڈوب گیا ۔ اتنے میں فون کی گھنٹی بجی ۔ میرے نیوز ایڈیٹر تھے عباس اطہر ۔ کہہ رہے تھے:
اوہ ویلا عجب ای ویلا سی
اوہ میلہ عجب ای میلہ سی
جدوں لعل گواچا سندھڑی دا
ہائے وس نہیں چلیا جندڑی دا
اور لوگ حیران ہو ہو کر پوچھ رہے ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی اپنے روٹی ، کپڑے ، مکان ، طبی سہولت اور ہر بچے کے لیے مفت تعلیم کے معاملے میں اب بھی بھٹو کے پروگرام پر قائم ہے ۔ ہاں ہے ، مگر صرف اور صرف نعرے کی حد تک اور ہم اتنے سادہ لوح ہیں کہ نعرہ کھا کر ہی سیر ہو جاتے ہیں ۔
بایں ہمہ : ذولفقار علی بھٹو کو ، جو اُنتالیس سال پہلے شہید ہو گئے ، میرا مودبانہ سلام !
اور مجھے اندیشہ ہے کہ جس مشن کی تکمیل بے نظیر اور آصف علی زرداری کے ہاتھوں نہ ہو سکی ، وہ بلاول زرداری کے بس کی بات ہے بھی نہیں ۔