بھٹو کی برسی اور پیپلز پارٹی کا مستقبل
- تحریر افتخار بھٹہ
- بدھ 04 / اپریل / 2018
- 4064
ذوالفقار علی بھٹو کو دنیا سے گئے 39سال ہو گئے اور ان کی برسی کے بعد چالیسواں سال شروع ہو جائے گا۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی مزاحمتی سیاست کی علامت تھے۔ یہ جدو جہد کا وہ استعارہ ہے جو کہ نظام کی سماجی اور معاشی نا انصافیوں کے خلاف بغاوت کا اعلان ہے۔ اس نظریاتی جدو جہد سے تعلق رکھنے والوں نے ہمیشہ ریاستی جبرو تشدد کا جرات کے ساتھ مقابلہ کیا اور کبھی اپنے نظریات سے انحراف نہیں کیا ہے اور نہ ہی کبھی ذاتی مفادات کی خاطر سمجھوتے کیے ہیں۔ اس کی مثال جنرل ضیاء الحق کا جبر و تشدد کا عہد ہے جس میں ہزاروں کارکنوں کو قید و بند کی صوبتوں کے ساتھ کوڑوں کی سزا برداشت کرنا پڑی۔
ذوالفقار علی بھٹو عوامی حقوق اور جمہوریت کی خاطر تختہ دار پر جھول گئے جبکہ ان کے دونوں بیٹوں کو سازشوں کے ذریعے موت سے ہمکنار کیا گیا۔ ان کی دختر بے نظیر بھٹو شہید کو دن دیہاڑے گولیاں مار دی گئیں، 2008میں اصف علی زرداری نے مفاہمت کی سیاست کی جس سے پارٹی کا بنیادی کارکن اور جیالے یقیناً ناراض ہو گئے کیونکہ نا انصافیوں کے خلاف مزاحمت کا استعارہ دم توڑ چکا تھا۔ 2013کے انتخابات میں پارٹی کی معاشی اور سماجی حقوق کے بارے میں گو موگو پالیسی ناکامی کا سبب بنی ، ویسے بھی پارٹی قیادت کو دہشت گردوں کی دھمکیاں اور میڈیا ٹرائیل کا سامنا تھا۔ بھٹو خاندان کے تمام افراد سوائے بیٹی صنم بھٹو کے علاوہ اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں جو کہ بیرون ملک غیر سیاسی زندگی گزار رہی ہے ۔ خاندانی سیاسی وراثت آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کو منتقل ہو چکی ہے۔ دو صاحبزادیاں بختاور بھٹو اور آصفہ بھٹو بھی بھائی کے ساتھ ہیں ۔ بھٹو کا پوتا ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سیاست سے دور کسی نئی دنیا میں جا بسا ہے ۔ بچہ بہت ذہین تھا اور اس سے تواقعات بھی وابستہ تھیں۔ شاید اس پر اپنے خاندان پر ہونے والے ظلم وستم کا خوف غالب آ چکا ہے۔ رہی پوتی فاطممہ بھٹو جو کہ دانشوارانہ سوچ کی حامل اور بین الاقوامی مسائل کو سمجھنے کی اہلیت رکھتی ہے، وہ ادب کے میدان میں داخل ہو چکی ہے اور کبھی کبھار اخبارات میں پر مغز کالم اور مضامین لکھتی رہتی ہے۔ غنوی بھٹو خاموش ہے۔
بھٹو کی برسی کے موقع پر کالم لکھنے کا واحد مقصد اس حریت فکر اور عوامی راہنما کی سیاسی اور معاشی حقوق کی جدو جہد کے بارے میں کچھ لکھنا ہے تاکہ نوجوان نسل اس قد آور شخصیت کے نظریات سے آگاہ ہو سکے۔، ذوالفقار علی بھٹو نے آج کل کے راہنماؤ ں کی طرح کبھی نظریاتی ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا بلکہ پارٹی کا بنیادی منشور اسلام جمہوریت اور سوشل ازم اس کے نظریات تھے۔ اس نے عوامی حقوق کی خاطر قانون سازی کی جس نے لیبر پالیسی، سوشل سیکیورٹی اولڈ ایج بینی فیٹس کے اداروں کا قیام تھا۔ ان سے لاکھوں محنت کش آج بھی مستفید ہو رہے ہیں ۔ نیو کلیئر پروگرام کا آغاز کیا، غریب طبقات کو تعلیم کے حصول کی خاطر تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لیا تھا ، 90 ہزار افواج کی واپسی کو ممکن بنایا تھا ، بے گھر لوگوں میں رہائشی پلاٹ تقسیم کیے اور سب سے اہم کام عوام کو اپنے حقوق کا شعور دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو 1970کے انتخابات میں سب سے زیادہ پذیرائی پنجاب میں لی آج یہی پیپلز پارٹی وہاں سے چند سو ووٹ لینے سے قاصر نظر آتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کو مزاحمتی کردار ادا کرنا تھا ، مگر اب اس کی جگہ مریم نواز لے چکی ہے ۔ جو اینٹی سٹیبشلمنٹ لیڈر کے طور پر پہنچانی جاتی ہے۔ ایسے میں پارٹی تخت لاہور کو چیلنج کیا کرے گی، مد مقابل مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف ہے جو نظریات کی بجائے افراد کی سیاست کر رہی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے پاس عوام کے معاشی اور سماجی حقوق کیلئے کوئی منشور نہیں ہے۔ آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری بے نظیر انکم سپورٹ سکیم کی ذلت بھری خیرت کو روٹی کپڑا مکان کی فراہمی کا استعارہ قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق بھٹو ازم یہی ہے کہ لوگ اکٹھے ہو کر ارد گرد نعرے لگاتے رہیں۔ پیپلز پارٹی کے نظریات کیا ہونا چاہیے اس کا فیصلہ 1967میں ہو چکا تھا۔ 1984میں یہ نظریات پارٹی کیلئے نا قابل قبول ہو چکے تھے۔ پارٹی کے اس تبدیلی قلب کے باعث جس پر پریشانی کا سامنا قیادت کو کرنا پڑا، اس کا تدارک انہوں نے رنگ برنگی نظریاتی ٹامک ٹوئیاں مارنے کی کوشش کرتی ہے۔ بلاول بھٹوزرداری اب بر ملا کہتا ہے کہ پیپلز پارٹی تمام طبقات کی پارٹی ہے اور ان کے مفادات کی محافظ ہے۔ مگر ایسا ہر گز نہیں ہے کیونکہ ایسی ملٹی طبقات پارٹیاں پاکستان مسلم لیگ اور تحریک انصاف موجود ہیں۔ جب کوئی پارٹی نظریات سے انحراف کر کے انتخابی سیاست کر رہی ہوتی ہے تو انتخابی نتائج اس کا پیمانہ ہوتے ہیں ۔ پارٹی کی قیادت کی جانب سے بھٹو کے انقلابی اسولوں کو فراموش کر بیٹھی ہے۔
آج پاکستان کے حکمران طبقات اور مختلف سیاسی جماعتوں کے پاس قرضہ جاتی شکنجہ میں پھنسی ہوئی معیشت، ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے عوام، غربت، بے روز گاری اور جہالت کو دور کرنے کی کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی نجات اسی میں ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے منشور اور نظریات کی طرف لوٹا جائے کیونکہ یہی نظریات اور مزاحمت کی سیاست اس کے عروج کا باعث تھے۔ سماج کا بڑا حصہ موجودہ جمہوری نظام سے خود کو لا تعلق کر چکا ہے۔ تمام جماعتوں کا منشور ایک جیسے نظریات کا حامل ہے جس میں محنت کش اور غریب طبقات کیلئے کوئی بہتری کی امید موجود نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی کی قیادت کو اپنی روش اور حکمت عملی کو تبدیل کرنا ہوگا۔
آج برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں کارکنوں کو اکٹھا کر کے قائدین خطاب کریں گے اور پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کو خراج عقیدت پیش کیا جائے گا۔ سیاسی مخالفین کو للکارا جائے گا ۔ 2018کے انتخابات میں کامیابی کے دعوے کیے جائیں گے۔ بہرصورت ذوالفقار علی بھٹو خوبیوں اور خامیوں کے باجود بڑا لیڈر رہے گا۔ بلاول بھٹو زرداری سے یہی توقع ہے کہ وہ اپنے دعوؤں کو حقائق میں بدلنے کیلئے محنت اور دیانت سے جدو جہد کرے گا۔ صرف اسی صورت میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔