جنسی زیادتی کے بعد قتل: والدین اور ریاست
- تحریر غلام مرتضیٰ باجوہ
- بدھ 04 / اپریل / 2018
- 5231
پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین ، ننھی بچیوں اور بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کے واقعات میں اضافہ خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے۔ لوگ شکو ہ کرتے نظر آئیں گے کہ ہمارے معاشرے میں موجود چند درندہ صفت نما انسانوں نے خواتین کا جینا حرام کررکھا ہے۔ جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی متاثرہ خواتین، بچیاں ، بچے حصول انصاف کیلئے عدالتوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ خواتین ہمارے معاشرے میں باعزت مقام رکھتی ہیں پھر کیوں روزبروز خواتین کے ساتھ زیادتی اور جنسی تشدد کے واقعات میں اصافہ ہورہاہے۔
ہر شہری اس صورت حال سے نجات چاہتا ہے۔ قدرت نے انسان کو ہر مسئلے کے حل کیلئے سوچ بھی دی ہے ۔ لیکن آج کل لوگوں میں یہ سوچ عام ہے کہ شیئد ان واقعات کے ذمہ دارحکمران ہیں ، عدالتیں ہیں ، قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں ۔ لیکن حقیقت کچھ اور ہے۔
زندگی سے ہی دنیا میں رونق ہے۔ جب کوئی زندگی کسی گھر میں جنم لیتی ہے تو اس گھر میں رہنے بسنے والوں کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں رہتا۔ اس خوشی میں مستقبل کا خواب پوشیدہ ہوتا ہے۔ یہی بچہ کل ماں باپ کا سہارا بنے گا اور دنیا کو آگے بڑھانے کا ذریعہ۔ تبھی تو اس کی صحت و حفاظت کی خاطر گھر کی بزرگ عورتیں اور ڈاکٹر ماں بننے والی خاتون کو ہدایتیں دیتے نظر آتے ہیں۔ ماں قدرت کا انمول تحفہ ہے جواشرف المخلوقات انسان کے لئے بہترین، استاد اور قدرت کا ہیلتھ پلان ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہرانسان نئی نسل کو بچانے کیلئے مستقل طور پر ہیلتھ پلان بنائے تاکہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں خواتین ، ننھی بچیوں اور بچوں کےساتھ زیادتی کےبعد یا نامعلوم وجوہات کی بنا پر قتل جیسے واقعات کو روکا جاسکے۔ نئی نسل کو بچانے کیلئے حکومت وقت کو بھی فوری طورپر اقدامات کرنے ہوں گے ۔ سماجی شعور پیدا کئے بغیر صرف حکومت سے اقدامات کی توقع سے معاشرتی برائیوں اور جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔