ہم ویسے نہیں ہوتے جیسے ہو جاتے ہیں!
- تحریر شیخ خالد زاہد
- بدھ 04 / اپریل / 2018
- 4631
شیخ ابراہیم ذوق کے شعر کا ایک مصرعہ ہے کہ اپنی خوشی نا آئے نا اپنی خوشی چلے، معلوم نہیں کتنے یہ بات دل میں ہی لے کر چلے گئے ۔ انسان اپنی پیدائش سے موت تک سفر کسی اور کے بتائے ہوئے راستے پر کرتا ہے ۔ نہ تو وہ کوئی راستہ بنانے کا اہل ٹھہرتا ہے اور نہ ہی کسی کے بتائے ہوئے راستے پر چلنے سے انکار کرسکتاہے۔ جن معاشروں میں ابھی تک توازن برقرار ہے ان میں لوگ فرمانبردار اورمروجہ معاشرتی پابندیوں اور اقدار کے پابند ہیں۔ ہمارے منہ میں جو زبان ہے وہ محتاج ہے اس زبان کی جو ہمارے آس پاس بولی جائے گی، ذہن محتاج ہے ان سوچوں کا جو سوچنے کیلئے دی جائیں گی، نظریں محتاج ہیں وہ سب دیکھنے کی جو انہیں دکھایا جائے گا۔ اس توازن کو بگاڑ نے کی کوششیں اب کامیاب ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ایک تو یہ کہ ہم اور آپ جہاں پیدا ہوئے ہیں وہاں کیا چلتا ہے کیسے زندگی گزاری جاتی ہے یا کیسے گزاری جاتی رہی ہے ہمیں بھی انہیں سب باتوں کی پابندی کرنے کا عادی بنایا جاتا ہے ۔ معاشرے کے ہی لوگ تھے جنہوں نے میڈیا کو ذریعہ بنایا۔ شاید اس کی ابتدا صرف اس سوچ پر مبنی ہو کہ عوام الناس کو سستی اور گھر بیٹھے تفریح فراہم کی جائے مگر جیسے جیسے یہ بات سمجھ آنے لگی کہ لوگ تو میڈیا پر بہت دھیان دیتے ہیں تو پھر ان کی ذہن سازی پر کام کرنا شروع کیا گیا اور جیسے جیسے معاشرے میں بدلاؤ محسوس ہونے لگا ویسے ویسے کام کو تیز کیا جاتا رہا۔ دنیا کی ان طاقتوں نے جو انسانوں کی سوچ اور ان کے اعمال پر قبضہ کرنا چاہتی ہیں ، میڈیا ان کے لئے ایک آسان اور سہل راستہ بن گیا۔ وقت نے ایک بھرپور انگڑائی لی اور سماجی میڈیا کا وجود دنیا میں ہلچل مچانے کیلئے آدھمکا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہر معاشرے کا لازمی جز بن گیا۔ ہم داخلی اور خارجی مزاج میں بہت کم ہم آہنگی رکھتے ہیں، دنیا کو دکھانے کیلئے کچھ اور ہوتے ہیں اور اپنے آپ کیلئے کچھ اور ہوتے ہیں۔ اس تضاد کے ساتھ ساری زندگی گزار دیتے ہیں۔
کسی کو اپنا آپ نہیں پسند کسی کو اپنے ساتھ وابستہ لوگ نہیں پسند ، یہاں تک بھی ہوسکتا ہے کہ آپ کی ناپسندیدگی اپنی ساخت سے بھی ہو۔ ہر انسان عمر کے ایک حصے میں کسی نہ کسی احساس محرومی کا شکار ہوتا ہے۔ اس محرومی کا تعلق امیری غریبی بھی ہوسکتا ہے ، رنگت اور جسمانی ساخت بھی ہوسکتا ہے، بے جا روک ٹوک بھی ہوسکتا ہے ، تعلقداروں سے بھی ہوسکتا ہے ، تعلیم کے معیار پر بھی ہوسکتا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے جب مثبت اور منفی سوچیں آپ پر قبضہ کرنے کیلئے برسرپیکار ہوتی ہیں۔ جو والدین اپنا آپ اولاد پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنی خواہشات اپنی اولاد سے پورا کروانے کے خواہشمند ہوتے ہیں۔ جبکہ اولاد کی اپنی معاشرتی خواہشات ہوتی ہیں۔ یوں تو ہر فرد اپنی سی کوشش کرتا ہے کہ وہ دنیا کو اپنی مرضی سے چلنے پر آمادہ کرے مگر اس کوشش کو وہ اپنے اوپر بھی پوری طرح سے لاگو کرنے میں ناکام ہی رہتا ہے ۔
دنیا میں قدرت کی جانب سے بھیجے جانے والے پیغمبروں کے علاوہ بہت کم لوگ گزرے ہیں جنہوں نے معاشرے کی اصلاح کیلئے ، کچھ مختلف کرنے کیلئے یا پھر غلط کو صحیح کرنے کیلئے اپنا کردار بھرپور طریقے سے نبھایا ہو۔ اگر اس بات کو سمجھنے کیلئے تھوڑا سا پھیلایا جائے تو دنیا کو آسائشیں دینے والے لوگ قابل ذکر ہوں گے، ایسے ہی وہ لو گ جنہوں نے انسانیت کی فلاح کے لئے خدمات انجام دیں ، جنہوں نے اس بات کی پرواہ نہیں کی کہ دنیا میرے اس کام کو لے کر کیا کہے گی ۔ مفکرین ، فلاسفر اور ادب کی ہر صنف سے تعلق رکھنے والے لوگ جنہوں نے کائنات کے مختلف رازوں اور رنگوں پر خوب طبع آزمائی کی، جن کی وجہ سے انسانیت کو انسانیت کی سمجھ آئی، جنہوں نے مختلف مذاہب میں مفاہمت کے لئےکام کیا۔ ایسے بے تحاشہ لوگ آج بھی ہیں ۔ لیکن ان کی تعداد ہمیشہ بہت قلیل رہی ہے۔ گو اس بات کی سمجھ تو سب کو ہے کہ آٹے میں اگر نمک نہ ہوتو روٹی کا ذائقہ ختم ہوجاتا ہے ۔ کیا ایسا ممکن ہے کہ آپ اپنی مرضی سے زندگی گزار سکیں۔ معاشرے میں ہر فرد اپنا اپنا حصہ ڈالتا ہے ۔ اصلاحات راتوں رات نہیں ہوجاتیں اور معاشرے میں بدلاؤ یہ بھی ضروری نہیں ہوتا کہ جو اس کوشش کا آغاز کرے وہ اس بدلاؤ کو دیکھ بھی سکے ۔ مادی اعتبار سے تو ترقی آسمان کو چھو رہی ہے مگر اقدار پامال ہوگئی ہیں۔ ایک دوسرے کا خیال نہیں رہا۔ یوں سمجھ لیجئے کہ معاشرہ ایک بدبودار لاش کی مانند ہوکر رہ گیا ہے۔ ایک ایسی لاش جسے دفنایا بھی نہیں جاسکتا۔
اپنی مرضی کی زندگی کیا ہوسکتی ہے یہ ایک الگ بحث طلب معاملہ ہے۔ ہر معاشرہ منظم سوچ کا مرہون منت ہوتا ہے۔ منظم سوچ کے پیچھے ایک ضابطہ حیات ہوتا ہے اور اس کے لئے یہ ضروری نہیں کہ آپ کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ معاشرے کو بہترین بنانے کیلئے آپ ان اصلاحات کو نافذ کرنے سے گریز نہیں کرتے جو کسی اور مذہب سے ہوں۔ کیا اس بات سے انکار کیا جاسکتا ہے کہ انسان کو معاشرتی امور مذاہب کی بدولت ہی میسر آئے ہیں ، کیونکہ تخلیق کی ابتدا بھی تو مذہب کی محتاج رہی ہوگی۔ دنیا کی عافیت اسی میں ہے کہ وہ قدرت کے بتائے ہوئے ضابطہ حیات کو مانتے ہوئے اس پر چلنا شروع کردے۔ سوچیں تو ہم پر واضح ہوجاتا ہے کہ ساری زندگی سوائے تھکنے کے اور ہم نے کیا حاصل کیا ہے۔ ہم ویسے ہو ہی نہیں سکتے جیسے ہم چاہتے ہیں کیونکہ آخر میں ہم جیسے ہوتے ہیں ویسے ہی ہونا چاہتے ہیں۔
آسان لفظوں میں اس مضمون کے آخر میں یہ لکھ دیتا ہوں کہ تسلیم خم کیجئے اپنی پیشانی کو رب کی بارگاہ میں جھکا دیجئے۔