الزامات کی بوچھاڑ میں سرخرو ملالہ یوسف زئی
- تحریر ڈاکٹر سید ندیم حسین
- جمعرات 05 / اپریل / 2018
- 6410
ملالہ یوسف زئی جب دہشتگردوں کے حملہ میں زندہ بچ گئی تو ایسی ایسی باتیں کہی گئیں کہ جیسے اس نے زندہ بچ کے بہت بڑی غلطی کی ہو۔ ایک طرف یہ لوگ ہیں اور دوسری طرف وہ معصوم ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر میں فیصلہ کر سکتی تو پاکستان سے باہر نہ جاتی۔ اس کے خلاف زیادہ طوفان اس وقت آیا جب اس کی کتاب ‘ میں ملالہ ہوں‘ شائع ہوئی ۔ یہ کتاب اس نے برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کے ساتھ مل کے لکھی۔ کتاب پہ باہر نام بھی دونوں کا ہے۔
ہمارے عقل مند لوگ اعتراض کرتے ہیں۔ کہ کتاب ملالہ کی بجائے کرسٹینا نے لکھی ہے۔ لیکن اصل میں یہ ان دونوں کی کاوش ہے۔ یقینا اس میں ملالہ کے والد ضیاء الدین نے بھی حصہ لیا ہوگا۔ اور کتاب میں کہیں کہیں یہ محسوس بھی ہوتا ہے۔ لیکن مجموعی کاوش ملالہ اور کرسٹینا لیمب ہی کی ہے۔ کتاب پہ بہت سے اعتراضات سامنے آئے۔ مثلاّ یہ کہا گیا کہ اس نے کتاب کے شروع میں لکھا ہے کہ ‘میرا تعلق اس ملک سے ہے جو رات کے اندھیرے میں بنا‘۔ اس کا مطلب یہ نکالا جاتا ہے کہ وہ یہ تاثر دے رہی ہے جیسے پاکستان کا بننا کوئی جُرم ہے۔ بددیانتی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے۔ ملالہ نے جو فقرہ لکھا ہے وہ یوں ہے: ‘میں ایک ایسے ملک سے تعلق رکھتی ہوں جو آدھی رات کومعرض وجود میں آیا اور جب میں تقریباّ مر چُکی تھی تو یہ دوپہر کے فوراً بعد کا وقت تھا‘۔ ہمارے یہ محب وطن اور عقل مند لوگ یہ فقرہ آدھا لکھ کے یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ جیسے ملالہ پاکستان کے خلاف ہے۔ اس سے آگے دو پیرا گراف پڑھیں تو وہاں ملالہ دُکھ کا اظہار کرتی ہے کہ وہ اب ایک ایسے ملک میں ریتی ہے جہاں اسے دُنیا کی تمام نعتیں میسر ہیں لیکن وہ سوات کو ہر روز یاد کرتی ہے۔ وہ لکھتی ہے: ‘ اس کے بجائے میں ایک ایسے ملک میں ہوں جو میرے محبوب ملک پاکستان اور وادی سوات میں میرے گھر سے پانچ گھنٹے پیچھے ہے‘۔ قارئین آپ نے نوٹ کیا کہ ملالہ نے پاکستان کے لئے لفظ: ‘میرا محبوب ملک پاکستان‘ استعمال کیا ہے۔ آدمی کسی پہ کیچڑ بھی اچھالے تو اس کی کوئی تو بنیاد ہو۔ لیکن ہمیں صرف الزام لگانے سے غرض ہے۔ جو جی میں آیا کہہ دیا۔
کتاب میں جس بات پہ سب سے زیادہ تنقید ہوئی وہ سلمان رشدی کی کتاب کا ذکرہے۔ بزعم خویش اسلام کے شیدائی بھائی یہ کہتے ہیں کہ ملالہ کے باپ نے کہا کہ سلمان رشدی نے جو کتاب لکھی ہے وہ اظہار رائے کی آزادی ہے۔ اور اس بنا پہ وہ سلمان رشدی کی حامی ہے۔ یہ الزام سراسر جھوٹ ہے۔ ملالہ نے اپنی کتاب میں صاف لکھا ہے کہ اس کے والد بھی مسلمانوں کی دل آزاری سمجھتے تھے۔ لیکن ان کی تجویز تھی کہ سلمان رشدی کی کتاب پڑھی جائے اور اس کے جواب میں کتاب لکھی جائے۔ ملالہ لکھتی ہے کہ اس کے بعد اس کے والد نے گرجدار آواز میں کہا کہ کیا اسلام اتنا کمزور ہے کہ یہ اپنے خلاف ایک کتاب برداشت نہیں کر سکتا، میرا اسلام ایسا نہیں ہے۔ قارئین کرام اس میں اس کے باپ نے کون سی بات غلط کہہ دی ہے۔ سلمان رشدی کو کچھ مسلمان واجب القتل کہتے ہیں اور کچھ کہتے ہیں کہ کتاب کا جواب کتاب کی شکل میں دیا جائے۔ مقصد دونوں مکاتب کا ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ ہے۔ صرف طریق کار کا فرق ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کس طریقے سے اسلام کا امیج بہتر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص سلمان رشدی کو قتل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو دُنیا کو کیا پیغام جائے گا کہ اسلام کیسا دین ہے۔ اور اگر ایک کتاب لکھ کے اسے جھوٹا ثابت کیا جائے گا تو اس سے دُنیا میں اسلام کے بارے میں کیا تاثرابھرے گا۔ کتاب لکھنے کے حامی لوگوں کا موقف ہے کہ قتل کرنے سے اسلام کے بارے میں دہشت گردی کا تاثر ابھرے گا۔ لیکن کتاب لکھنے سے ایک پُرامن اورباہمی ڈایئلاگ والے دین کا تاثر ملے گا۔ یعنی ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ بھی ہو گا اور اسلام کا امیج بھی بہتر ہو گا۔
اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ملالہ کے باپ کا کتاب لکھ کے جواب دینا بھی ناموس رسالتﷺ کا تحفظ تھا۔ اس میں کیا بُرائی ہے۔ اس سے سلمان رشدی کی حمایت کیسے ہو گئی؟
پھر ایک تصویرسوشل میڈیا پہ بہت گردش کر رہی ہے۔ جس میں دکھایا گیاہے کہ ملالہ سلمان رشدی سے سخاروف ایوارڈ وصول کر رہی ہے۔ یہ صحافتی بددیانتی کی بد ترین مثال ہے۔ وہ جس شخص سے ملالہ نے ایوارڈ وصول کیا اس کا نام مارٹن شُلز ہے۔ اور وہ اس وقت یورپی پارلیمنٹ کا صدر تھا۔ اس کی شکل رشدی سے ملتی جُلتی ہے۔ ملالہ پہ تنقید کرنے والوں نے مشہور کر دیا کہ وہ سلمان رشدی سے ایوارڈ وصول کر رہی ہے۔ یہ مشہور کرنے والوں میں پاکستان کے نامور صحافی بھی شامل تھے۔ اندازہ لگائیں۔ مارٹن شُلز کو سلمان رشدی مشہور کرنے والے یہ کام ناموس رسالت ﷺ کے نام پہ رہے تھے۔ اور حضور نبی کریمﷺ کے لئے لوگوں کے جذبات سے کھیلا جا رہا تھا۔ صرف اس معصوم بچی کو بد نام کرنے کے لئے۔ یہ اسلام کی کون سی خدمت ہے۔ یہ بھی مشہور کیا گیا کہ بنگلہ دیش کی مصنفہ تسلیمہ نسرین ملالہ کو اپنی چھوٹی بہن کہتی ہے۔ وہ بھی اسی سخاروف ایوارڈ والی تقریب کے حوالے سے کہا جاتا ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ اس تقریب کے بعد تسلیمہ نسرین نے اپنے بلاگ میں گلہ کیا تھا کہ ملالہ نے اُسے لفٹ نہیں کرائی تھی۔ لیکن اس کے باوجود ہمارے لوگ یہ کہتے نہیں تھکتے کہ تسلیمہ نسرین اسے اپنی چھوٹی بہن سمجھتی ہے۔ نہ کوئی تحقیق کرتا ہے نہ کوئی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے بس جس نے جو کہہ دیا وہ آگے مشہور کر دیا۔ کیا یہ روش اسلام کے مطابق ہے؟ قرآن نے تو الزام لگانے والوں کی سخت مذمت کی ہے۔
ان ہی باتوں کی طرح یہ بھی مشہور ہےکہ وہ مغرب کی ایجنٹ ہے۔ ہمارے ہاں امریکہ اورمغرب کو اس طرح کے ایجنٹ زندگی کے ہر شعبے سے دستیاب ہو جاتے ہیں۔ پھر انہیں کیا ضرورت پڑی کہ ایک چھوٹی سی بچی پہ اتنی زیادہ سرمایہ کاری کریں۔ الزامات کی لمبی فہرست ہے جن کا ایک ایک کر کے جواب دیا جا سکتا ہے لیکن اگر سمجھاجائے تو مذکورہ بالا الزامات کے جواب ہی کافی ہیں۔
ملالہ کی مثال ایک آئینے کی سی ہے۔ جس میں اپنا چہرہ دیکھنے کی ہم ہمت نہیں رکھتے۔ اس لئے ہم آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اورآئینے کو برا کہتے ہیں۔ حضور یہ آئینہ مت توڑیئے ۔ اپنا چہرے پہ پڑی گرد صاف کیجئے۔ ملالہ تو وہ باہمت اور محب وطن لڑکی ہے جو الزامات کی بوچھاڑ میں سرخرو ہے اور پاکستان کے ساتھ اپنی محبت کا برملا اظہار کرنے کے علاوہ باعمل مسلمان ہے۔