سندھ پولیس کے’’فل فرائی،ہاف فرائی‘‘
- تحریر محمد خان داؤد
- جمعرات 05 / اپریل / 2018
- 6639
وہ ایک مزدور تھا، مزدور کا بیٹا تھا، اس کا دادا بھی مزدور تھا۔ وہ نسلاً مزدور تھا جو کراچی میں مزدوری کرتا تھا۔ جو پیسے اسے ملتے وہ انہیں ہفتے کے آخری دنوں میں نواب شاہ لے جاتا جہاں اس کی بوڑھی ماں، محبوبہ جیسی بیوی اور بچے اس کا چھٹی سے ایک دن پہلے والی شام سے ہی انتظار شروع کر دیتے تھے۔ وہ پیسے ہی نہیں لے جاتا تھا، وہ ان کے لیے شہر سے خریدی وہ مٹھائی بھی لے جاتا تھا جو وہ اپنے رومال کے پلو میں باندھ لیتا تھا جس سے اس کا رومال بھی میٹھا ہوجاتا تھا۔
وہ دن بھی معمول کا ہی دن تھا۔ وہ جمعرات کی شام کراچی کے سہراب گوٹھ سے نواب شاہ والی بس میں بیٹھا تو اسے لیاری ٹاسک فورس کے چودھری اسلم نے اُٹھالیا اور بعد میں اسے اتنی گولیاں ماریں کہ جس سے اس کے جسم میں اتنے سوراخ ہوگئے جتنے روزن اس کے پھٹے ہوئے کپڑوں میں بھی نہیں ہوتے تھے ۔ وہ چودھری اسلم کی ٹیم کی گولیاں کھاتا رہا اور کچھ دن بعد اس کی لاش ایدھی سرد خانے میں پہنچا دی گئی اور میڈیا کو یہ خبر دے دی گئی کہ بدنام ڈاکو معشوق بروہی پولیس مقابے میں قتل کر دیا گیا۔ کراچی سے بہت دور اس ماں کو انتظار تھا کہ اس ہفتے رسول بخش کیوں نہیں آیا۔ یہ 2006 کا واقعہ ہے ۔ یہ سوشل میڈیا کا دور نہیں تھا۔ سوشل میڈیا کیا اس وقت تو سندھ میں بہت سے لوگوں نے کیبل سسٹم کا نام بھی نہیں سنا تھا۔ بس پرنٹ میڈیا تھا جس سے شہر کا پتا معلوم ہوتا تھا کہ کیا ہو رہا ہے ۔ اس ماں نے بھی اپنے بیٹے رسول بخش جس کو چودھری اسلم نے معشوق بروہی بنا دیا تھا، اخبار کے ذریعے دیکھا اور پہچانا اور ایک چیخ ماری کی یہ معشوق نہیں یہ تو میرا بیٹا رسول بخش ہے جو کراچی میں مزدوری کرتا تھا۔ اور ہر جمعہ کو نواب شاہ آتا تھا۔ پر چودھری اسلم اور اس کی ٹیم اسے معشوق برہھی ظاہر کرکے پروموشن سے لے کر نقد انعام وصول کر چکی تھی۔ پر وہ ماں نہیں مانی اور یہ کیس سالوں تک کورٹ میں چلتا رہا آخر چودھری اسلم نے بھی ہار مانی کہ یہ معشوق بروہی نہیں بلکہ رسول بخش بروہی تھا۔
اس وقت تک وہ ماں اندھی ہوچکی تھی۔ اس کی آنکھوں کی روشنی تو پہلی گولی سے ہی ختم ہو چکی تھی جو مقتول رسول بخش پر چلی تھی باقی تو اس کے نصیب میں رونا تھا۔ چودھری اسلم نے یہ تسلیم کیا کہ وہ معشوق بروہی نہیں لیکن اسے کوئی سزا نہیں ہوئی۔ وہ جیل نہیں گیا، اسے ہتھکڑی نہیں لگی، اس کے کاندھے پر لگے سٹار نہیں اترے ۔ وہ اسی شان سے چلتا رہا ۔ پھر چودھری کو اللہ نے بلا لیا اپنے طریقے سے ! رسول بخش بروہی کے قتل سے پہلے اور بعد میں بھی سندھ میں بہت سے ماورائے عدالت قتل ہوئے ہیں، ہوتے آرہے ہیں اور آگے بھی ہوں گے جس کی تازہ مثال نقیب اللہ قتل کیس ہے ۔ پر یہ قتل کب رکیں گے ، نہیں معلوم۔ کب ٹھہرے گا درد اے دل کب رات بسر ہوگی سنتے تھے وہ آئیں گے سنتے تھے سحر ہوگی۔ اب تو رسول بخش بروہی کی ماں بھی وہاں جا سوئی جہاں اس کے لخت جگر کو بھیجا گیا تھا، زخمی وجود کے ساتھ۔ پر سندھ میں اب بھی ماورائے عدالت قتل نہیں رک رہے ۔ یہ جب کی بات ہے جب سندھ پولیس میں’فل فرائی، ہاف فرائی‘ کی اصطلاح نے جنم نہیں لیا تھا۔ فل فرائی ایسا کہ جیسا رسول بخش بروپی اور نقیب اللہ کو کر دیا گیا اور ہاف فرائی ایسا جیسا سندھ کے ان سینکڑوں نوجوانوں کو کیا جا رہا ہے جو کراچی سے لے کر کیٹی بندر تک، کشمور سے لے کر کارونجھر تک، زندہ رہنے کی سزا میں پولیس کے ہاتھ لگ جاتے ہیں۔ پھرانہیں وہ فل فرائی کریں یا ہاف فرائی، کون پوچھتا ہے۔
ایسا ہی کچھ اس ہندو ڈاکٹر دیپک کمار کے ساتھ کیا گیا ہے جو ڈاکٹر ہے ، پڑھا لکھا ہے ، پڑھے لکھے خاندان سے ہے ، اس ملک کا مہذب شہری ہے ، سندھی ہے اور بعد میں ہندو ہے ۔ سوبھو گیان چندانی نے لکھا ہے کہ جب ملک میں ضیائی مارشل لاء کا دور تھا تو ایک دن مجھے لاڑکانہ کے ایس پی نے اپنے آفس بلایا اور کہا کہ فوراً سندھ خالی کر دو۔ سوبھو نے کہا کہ میرا قصور کیا ہے ۔ تو ایس پی نے جواب دیا کہ تمہارے تین قصور ہیں تم کمیونسٹ ہو، تم سندھی ہو!اور اور اور ۔۔۔ ایس پی خاموش ہوگیا تو سوبھو نے پوچھا اور تیسرا قصور کیا ہے ۔ ایس پی نے کہا کہ تیسرا یہ کہ تم ہندو ہو! پر دیپک کمار ڈاکٹر ہونے کے باوجود سندھ پولیس کے ہاتھوں ہاف فرائی ہونے سے نہیں بچ سکا۔ وہ اپنی بیگم اور ایک بچے کے ساتھ کراچی میں زندگی ہنسی خوشی گزار رہا تھا۔ اس کی بیگم سنیتا راٹھور سندھ کی مانی ہوئی سوشل ایکٹیویسٹ ہیں جن کا نام اور کام تھر سے لے کر ٹھٹھہ تک پھیلا ہوا ہے ۔ سنیتا راٹھور کے نام سے سندھ میں کوئی اجنبی نہیں ہے ۔ یہ 2015 کا واقعہ ہے جب ڈاکٹر دیپک کمار حیدر آباد میں اپنے عزیز سے ملنے آئے تھے ۔ رات کے وقت پولیس گھر میں داخل ہوگئی۔ اہلکاروں کے پاس کوئی وارنٹ نہیں تھا۔ پولیس پارٹی کی کمانڈ ایس ایس پی حیدر آباد عرفان بلوچ کر رہے تھے۔ پورے گھر کی تلاشی لی گئی۔ دیپک کمار بتاتے ہیں ‘وہ اس بات پر بضد تھے کہ میں شریف پنھور ہوں جب کہ میں کیا پورا محلہ جانتا ہے کہ میں ڈاکٹر دیپک کمار ہوں اور سنیتا راٹھور میری بیوی ہے۔ پر عرفان بلوچ نہ معلوم کیوں بضد تھے ۔ وہ مجھے شریف پنھور ظاہر کرکے مارنا چاہتے تھے جب کہ میں یہ اصرار کرتا رہا کہ نہیں میں ڈاکٹر دیپک کمار ہوں’۔ ڈاکٹر کمار عرفان بلوچ کو یہ بھی کہتے رہے کہ انہیں اپنی تعلیمی اسناد لا کر دکھانے کی اجازت دے دے ۔ ڈاکٹر دیپک کمار نے عرفان بلوچ کو اپنا قومی شناختی کارڈ بھی دکھایا۔ پر عرفان بلوچ اس بات پر اڑا رہا کہ ‘نہیں تم شریف پنھور ہو’ ویسے ہی جیسے چودھری اسلم نے رسول بخش بروہی کو معشوق بروھی ظاہر کر کے قتل کر دیا تھا۔کافی دیر کے بعد جب عرفان بلوچ جانے گا تو اپنے ماتحتوں کو کہا ’ ڈاکٹر صاحب کو ہاف فرائی کردو‘۔
پولیس پارٹی نے کئی گولیاں ڈاکٹر دیپک کمار کی ٹانگوں میں ماریں اور وہ ہاف فرائی ہوگئے۔ انہیں زخمی حالت میں سول ہسپتال حیدر آباد پہنچایا گیا اور بعد میں کراچی کے جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا۔ سنیتا راٹھور نے عرفان بلوچ اور حیدر آباد پولیس پر کیس کردیا جو آج بھی چل رہا ہے۔ لیکن ڈاکٹرصاحب چلنے سے معذور ہو چکے ہیں۔ ان کی ایک ٹانگ کاٹی جاچکی ہے اور دوسری کے چھوٹے بڑے 10 آپریشن ہو چکے ہیں۔ عرفان بلوچ مان چکا ہے کہ ڈاکٹر دیپک کمار شریف پنھور نہیں تھا، پر بات اس سے آگے نہیں بڑھی۔ دوسری طرف عرفان بلوچ اب بھی پولیس محکمہ میں اسی پوزیشن پر ہے جس پر پہلے تھا۔ سندھ میں یہ پہلا یا آخری ہاف فرائی یا فل فرائی کیس نہیں ہے ۔ ایسے واقعات تو روز ہو رہے ہیں۔ پر سوچنے کی بات یہ ہے کہ چودھری اسلم نے ایک مزدور کو ناحق قتل کیا جس مزدور کا کوئی پرسانِ حال نہیں تھا۔ پر اب تو سندھ میں پڑھے لکھے لوگ بھی پولیس گردی سے محفوظ نہیں ہیں۔
سندھ سے یہ پولیس گردی کب ختم ہوگی۔ یہ اصطلاح ان گھروں پر قیامت ہوکر گرتی ہیں جن گھروں میں کھانے والے بہت اور کمانے والا بس ایک ہی ہوتا ہے ۔ کب ٹھہرے گا درد اے دل، کب رات بسر ہوگی۔ سنتے تھے وہ آئیں گے، سنتے تھے سحر ہوگی، کب جان لہو ہوگی کب اشک گہر ہوگا کس دن تری شنوائی اے دیدۂ تر ہوگی ۔ وہ چیختا رہا کہ ‘میں ڈاکٹر دیپک کمار ہوں، میں ڈاکٹر دیپک کمار ہوں، پر سندھ پولیس کے ہاتھوں وہ ہاف فرائی ہو ہی گیا!