ملٹی پولر دنیا کی طرف اٹھتے قدم

  • تحریر
  • جمعہ 06 / اپریل / 2018
  • 3429

وقت اور سیاست کے دامن میں حیرانیوں کی کبھی کمی نہیں رہی۔ عالمی سطح پر آج کل انہی حیرانیوں کا دور چل رہا ہے۔ امریکی صدارتی الیکشن ہوا تو پہلی بار روس کے کردار کی بازگشت سنائی دی۔ یہ بازگشت الیکشن کے بعد باقاعدہ تحقیقات میں بدل گئی۔ پہلی بار ایک امریکی صدر کی زبان سے روس کے بارے میں خیر سگالی کے جذبات سنے۔ پھر یوں ہوا کہ امریکہ نے برطانیہ کی یک جہتی میں درجنوں روسی سفارت کاروں کو ملک بدر کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ نہ صرف امریکہ بلکہ یورپ کے اس کے اتحادی ممالک نے بھی یہی طرز اختیار کیا۔

روس نے بھی اینٹ کا جواب پتھر کی صورت دیتے ہوئے اپنے ہاں سے اتنی ہی تعداد کے لگ بھگ سفارت کار نکال دیئے۔ ابھی ان اقدامات کی گرد بیٹھی نہ تھی کہ امریکہ نے بالآخر چین کی درآمدات پر امپورٹ ڈیوٹیاں لگا ہی دیں۔ جوابی کارروائی کے طور پر چین نے بھی جھٹ امریکہ سے کئی درآمداتی  اشیاء پر اتنی ہی مالیت کی ڈیوٹیاں عائد کر دیں۔  سرد جنگ کے زمانے میں ادلے بدلے کے ایسے اقدامات لازمی ہوتے تھے، ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لئے یا کسی جگہ اپنی ہزیمت چھپانے کے لئے یا اپنے کسی حلیف سے یک جہتی کے اظہار کے لئے۔ روس کی شکست و ریخت کے بعد روسی بلاک سے آزاد ہونے والے ممالک اور روس کو اپنی اپنی پڑ گئی۔ بورس یلسن کی صورت میں ملی قیادت نے مغرب کی باچھیں کھلا دیں کہ موصوف کو اپنی بلا نوشی کے ہاتھوں کم ہی وقت ملتا کہ ہوش مندی کے کچھ فیصلے لیتے۔ ہوش کے درمیانی وقفے میں بھی موصوف نے جو بیشتر فیصلے کئے، امریکہ اور اس کے اتحادی دل ہی دل میں خوش تھے کہ روس کے یہ رنگیلے میاں روس کی بچی کھچی طاقت کو اپنے ہی ہاتھوں سے زمیں بوس کر دیں گے۔ موصوف کر بھی دیتے لیکن پھر قدرت کو شاید رحم آگیا اور ولادی میر پوٹن نمو دار ہوگئے۔ اور نمو دار بھی ایسے ہوئے کہ نمو پاتے ہی چلے گئے۔

صدارت کی دو مدتیں پوری کیں تو مزید اقتدار میں رہنے کی آئینی مجبوری کا حل یوں نکالا کہ وزیر اعظم بن بیٹھے اور پھر اس کے بعد اب پھر صدر۔ مغرب کے سینے پر بہتیرے سانپ لوٹے مگر موصوف اقتدار پر گرفت مضبوط سے مضبوط تر کرتے گئے۔  گزشتہ مہینے کے تازہ ترین الیکشن میں ولادی میر پوٹن ایک بار پھر صدارت انتخاب جیت کر اگلے چھ سالوں کے لئے قائم و دائم ہو گئے ہیں۔ مغربی میڈیا کی ہائے وائے اس الیکشن کے دوران البتہ دیکھنے کی چیز تھی۔ عین اسی دوران برطانیہ میں پناہ گزیں ایک سابق روسی ایجنٹ کو بظاہر زہر دے کر مار دیا گیا۔ مہلک اور تیز ترین اس زہر کو Nerve agent کی قبیل کا بتایا گیا جس میں انسان پانی بھی نہیں مانگنے پاتا۔ ایسے ہی ایک مہلک زہر کا ذکر گزشتہ سال ملائیشیا کے حوالے سے بھی ہوا جب شمالی کوریا کے لیڈر کے سوتیلے بھائی پر ائیرپورٹ پر عین دن دیہاڑے اور کیمروں کی موجودگی میں مبینہ طور پر ایسے ہی مہلک زہر کا حملہ کیا گیا۔ لاش کی واپسی کے مسئلے پر شمالی کوریا اور ملائیشیا کی اس حد تک ٹھن گئی کہ شمالی کوریا نے ملائیشیا کے سفارتی عملے اور شہریوں کو بدلے میں اپنے ہاں روک لیا اور ملک چھوڑنے کی اجازت نہ دی تا آنکہ ملائیشیء نے خاموشی سے لاش اس کے حوالے کی اور اپنے شہری واگزار کروائے۔ اس کے ایک ڈیڑھ سال بعد ہی اس طرح کا یک اور واقعہ اب سامنے آیا ہے۔ دونوں طرف کی طاقتیں خود بھی اور ان کے اتحادی بھی ورلڈ پاورز ہیں تو اس بار معاملہ ناک کی بال اور طاقت کے استعارے کے طور پر ایک عالمی سفارتی بحران کی سی صورت اختیار کر گیا ہے۔

اسی وقت کے بطن سے ہم نے دو سال قبل ایک حیرانی یہ دیکھی کہ برطانیہ نے ایک ریفرنڈم کے ذریعے یہ فیصلہ سنایا کہ اسے یورپی یونین سے نکلنا ہے۔ اس علیحدگی کے باوجود نیٹوسے اس کا اتحاد بھی قائم ہے، امریکہ اور یورپی یونین کے ساتھ برطانیہ کا سیاسی اتحاد بھی قائم دائم ہے۔ سو جب برطانیہ نے دہائی دی کہ صاحب ہمارے ہاں پناہ لئے ہوئے ایجنٹ کو اس کے سابق آقا نے زہر دے کر مار ڈالا ہے ، تو اس پر تمام اتحادی اتنے ہی غضبناک ہوئے۔ روس نے اس واردات میں  ملوث ہونے سے  انکار کیا بلکہ مشترکہ تحقیقات کی پیش کش کر دی کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کئے لیتے ہیں۔ لیکن جواب یہی ملا کہ ہم نے تسلی کر لی ہے۔ ہماری سمجھ میں یہی آیا ہے کہ اس واردات کی صفائی اور نفاست گواہ ہے کہ دودھ ہے یا پانی ، ہے آپ کا کیا دھرا۔ اس پر امریکہ نے بھی لبیک کہا اور  یورپی اتحادیوں نے بھی۔ ڈیڑھ سو کے لگ بھگ امریکی سفارت کاروں کو ان ممالک نے ملک بدر کرنے کا حکم سنا دیا۔ جواب میں روس نے بھی ان ممالک کے سفارت کاروں کو بوریا بستر باندھ کر اپنے اپنے ملک سدھارنے کا حکم سنا دیا۔ جس سرعت اور کمال سنگت سے دونوں اطراف سے یہ سب کچھ ہوا، اس نے یاد دلا دیا کہ سرد جنگ کا زمانہ اب نئے رنگ سے واپس آ رہا ہے ، گرم جنگ کی صورت!

وقت اور سیاست کے دامن سے نکلی حیرانیوں میں سے ایک حیرانی یہ بھی ہے کہ ترکی کے صدر طیب اردوآن نے شام کی سرحد پر ایک فوجی طیارہ مار گرایا، کوئی سوا دو سال قبل۔ نہ صرف مار گرایا بلکہ لفظی انگارزنی بھی ٹھیک ٹھاک کر دی ۔ لگا یہی کہ اب روس اور ترکی کی راہیں جدا جدا ہو گئی ہیں۔ روس ترکی کی سیاحت کی صنعت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ بہت سی تجارتی اشیاء کی روس بہت اہم منڈی بھی ہے۔ روس نے سفارتی طور پر اسے خبر دار کیا کہ اسے ایسے واقعات ہضم کرنے اور بھولنے کی عادت نہیں ، ادھر ترکی نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کہ ہمارے ہاضمے اور یادداشت کا بھی یہی عالم ہے۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ خطے میں جاری تصادم میں کئی غیر متوقع موڑ آگئے ۔ اس دوران ترکی کی سیاحت اور روس کو برآمدی تجارت کے نفع نقصان کا میزانیہ بھی سامنے آگیا۔ داعش کو شکست دینے کی آڑ میں کردوں نے بہت بڑی فوجی طاقت جمع کرلی جس سے ترکی کو اپنے کرد علاقوں کی فکر پڑ گئی۔ سو کہا سنا معاف کہہ کر ترکی اور روس نے دوستی کا نہ صرف ہاتھ دوبارہ ملا لیا بلکہ پہلے سے بھی پکی دوستی کے وعدے وعید ہونے لگے۔ 

ترکی نے کرد علاقے پر فوج کشی کی تو امریکہ نے اس کی حمایت نہ کی ۔ شام کے معاملے میں نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود ترکی امریکہ اور یورپی یونین سے مختلف پوزیشن لئے ہوئے ہے۔ شام میں ایران اور روس صدر بشار الاسد کے ساتھ دامے درمے اورہتھیار بند کھڑے ہیں۔ نئی حیرانی یہ ہے کہ نیٹو کے  اتحادی ترکی نے اسی ہفتے روس اور ایران کو اپنے ہاں انقرہ مدعو کیا اور تینوں نے طے کیا کہ وہ شام کی جغرافیائی وحدت برقرار رکھنے کے لئے ایک دوسرے کا ساتھ دیں گے۔ ثبوت اور اظہار کے طور میں پوٹن، حسن روحانی اور طیب اردوآن کی ایک تصویر تمام عالمی میڈیا کی زینت بنی ہے جس میں تینوں صدور نے ہاتھو ں میں ہا تھ دے رکھے ہیں اور چہروں پر دوستانے کی مسکراہٹ سجا رکھی ہے۔ کہاں ہاتھ ملانے سے گریزاں ترکی اور روس اور کہاں دو سال ہی میں  اتحادی!

اب ایک نئی حیرانی: صدر ٹرمپ کا خیال ہے کہ چین نے فری ٹریڈ کے بہانے تجارتی خسارہ امریکہ کے پلے باندھ دیا ہے اور مالی فوائد اپنے ہاں رکھ لئے ہیں۔ بقول ان کے امریکیوں کے پاس ملازمتیں نہیں اور چین کو کام سے فرصت ہی نہیں۔ امریکہ کو چین کے ساتھ تجارت میں پانچ سو ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا ہے اور اپنے ہاں بے روزگاری کو الگ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ امریکہ صدر ٹرمپ نے  الیکشن مہم کی کہی ہوئی بات پر اب عمل کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے کہ چین کی درآمدات پر ڈیوٹیاں لگا کر چین کو سبق سکھائیں گے۔ چین نے بھی جواب میں اتنی ہی مالیت کی امریکی مصنوعات کی اپنے ہاں درآمدات پر امپورٹ ڈیوٹیاں عائد کر نے کا عندیہ دے دیا ہے۔

ایک حیرانی یہ بھی سامنے آئی کہ ایک وقت تھا کہ امریکہ دنیا میں فری ٹریڈ کا سب سے بڑا داعی تھا اور اب چین دنیا میں فری ٹریڈ کا سب سے بڑا حامی ہے۔ ایک حیرانی یہ بھی ہے کہ ایک دوسرے کو طعنے دینے والے شمالی کوریا کے لیڈر اور صدر ٹرمپ مئی میں ملاقات کے لئے راضی ہو گئے ہیں۔ حیرانیوں کے اس تلاطم میں ہمیں دنیا کے قدم Multi polar world کی طرف اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں۔