وقت ہے سنبھل جائیں ورنہ حق گوئی کی سزا ملتی رہے گی
- تحریر شیخ خالد زاہد
- جمعہ 06 / اپریل / 2018
- 4116
دور حاضر میں معیشت کو مستحکم کرنے کے علاوہ دشمن کی چالوں کو ناکام بنانا بھی ضروری ہے ۔ جو لوگ بین الاقوامی میڈیا سے جڑے ہیں انہیں معلوم ہے آئے دن کہیں نہ کہیں کوئی ایسا واقع ضرور ہوتا ہے جس میں انسانی جانیں بھی جاتی ہیں اور دیگر نقصانات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارا میڈیا کس کی زبان بولتا ہے اس بارے میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ چھوٹا منہ اور بڑی بات۔ ترقی یافتہ معاشروں میں جھوٹ دھوکا فریب جیسی چیزیں کم ملتی ہیں۔ یہ لوگ اپنے آپ سے بھی سچ بولتے ہیں، اپنے غلطیوں کو تسلیم کرتے ہیں اور ان پر نادم بھی ہوتے ہیں۔ جیسے ہی حالات و واقعات سازگار ہوتے ہیں ، یہ ان غلطیوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ہمارا واسطہ تین طرح کے افراد سے پڑتا ہے۔ ایک تو وہ جو سچ بولتے ہیں، دوسرے وہ ہیں جو بولتے ہی نہیں ہیں اور تیسرے وہ جو سچ اور جھوٹ ملا کر بولتے ہیں۔ لیکن سچ بولنے والوں کی مقدار بہت قلیل ہے ۔ ایسا نہیں کہ لوگ سچ بولنا نہیں چاہتے مگر لوگ مختلف بہانوں سے راہ فرا اختیار کرتے ہیں۔ اور معاشرے میں جھوٹ بولنے والوں کو کھلا میدان دے دیتے ہیں۔ ایسے جو لوگ سچ اور جھوٹ کو ملا کر پیش کرتے ہیں، وہ معاشرے میں استحکام نہیں آنے دیتے ۔ بے قاعدگیاں کسی زہریلے سانپ کی طرح ڈستی جا رہی ہیں۔ دنیا کو چلانے کیلئے قوانین مرتب کئے گئے۔ ہر ملک نے اپنا پنا قانون بنایا اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کیلئے سزائیں بھی متعین کیں ۔ پھر عالمی عدالتیں بنائیں گئیں جہاں ظلم و زیادتی کرنے والوں کو کٹہرے میں کھڑا کرتی ہیں۔ مگر انتہائی دکھ کی بات ہے کہ آج تک کوئی عالمی عدالت فلسطین میں کئے جانے والے ظلم کا نوٹس نہیں لے سکی ۔ نہ ہی کشمیر میں ہونے والے مظالم پر کسی قسم کا رد عمل دے سکی ہے۔ اسی طرح دیگر مظلوم اقوام کا حال ہے۔
یہاں الٹا حساب ہے۔ جو دہشت گردی کررہے ہیں وہی دہشت گردوں کی فہرستیں بھی مرتب کر رہے ہیں۔ اب حق کی اس آواز کو صرف کشمیر تک محدود نہیں رکھ سکتے۔ فلسطین ، افغانستان ، شام بھی اسی کڑی کے سلسلے ہیں کہ حق کیلئے آواز بلند کی جائے گی تو اسے دبانے کی ہر ممکن کوشش ہوگی۔ جب جھوٹ اور دکھاوا زندگی کا حاصل جمع ہو تو سچ کو کون پہچان سکتا ہے۔ شاید پل بھر کیلئے آنکھیں ٹھہرتی ہیں ۔ شاید پل بھر کیلئے دل دہلتا ہے مگر موبائل پر رکھی ایک انگلی آنکھوں سے اس ایک لمحے کو بہت دور لے جاتی ہے۔ اور دل کو کسی بہلانے والی بات میں لگادیتی ہے ۔ تازہ واقعات کا جائزہ لیجئے۔ اسرائیل بہیمانہ کارروائی میں نہتے فلسطیوں پر گولیوں کی بارش کرتا ہے۔ بھارتی فوجی کشمیریوں پر ظلم روا رکھے ہوئے ہیں۔ افغانستان کے شہر میں قندوز میں مدرسے میں دستار بندی کی تقریب پر ایسا شب خون مارا گیا کہ زمین معصوم بچوں کے خون سے لا ل ہوگئی۔ اس دلدوز سانحہ پر ہماری بے حسی دیدنی تھی۔
دشمن کی ترجیحات اور اس کے عزائم بہت واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک ایک کر کے تمام مسلمان ممالک کو غیرمستحکم کیا جارہا ہے۔ اب یہ آگ ہمارے گھر تک پہنچنے ہی والی ہے ۔ اب ہمیں فیصلہ کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہئے۔ ہمارے لئے سوائے امت کے تصور کو اجاگر کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ہے۔