پی ٹی آئی کے سستے گھر : مہنگا سودا
- جمعہ 15 / مارچ / 2019
- 5990
پی ٹی آئی کو پچاس کروڑ گھر بنانے ہیں۔ اس کے لئے ٹاسک فورسز بن چکیں، نئے شہروں اور نئے گھروں کے لئے چند جگہوں کی نشاندہی بھی اس کے کرتا دھرتا کررہے ہیں۔اس دوران ان کے مخالفین ان پر طنز کے تیر برساتے نہیں چوکتے کہ کہاں ہیں وہ پچاس لاکھ گھر؟ پچاس لاکھ نہ سہی پانچ لاکھ ہی سہی مگر کہاں ہے ان کی پلاننگ اور تعمیرکے اسباب؟ وزیر اعظم عمران خان نے گزشتہ روز اسٹیٹ بنک کے زیر اہتمام سستے گھروں کے لئے فنانس پالیسی کے موقع پر پھر اعادہ کیا کہ انہیں یاد ہے سب ذرا ذرا ۔۔ اس موقعے پر وزیرِ اعظم عمران خان نے کہا بڑے شہروں کی گنجان آبادیوں اور کچی بستیوں کے علاقوں میں ان کی حکومت ہائی رائز یعنی اونچی بلڈنگز بنانے کی حوصلہ افزائی کرے گی۔ ان کے بقول پہلی ہی شہر وں کا زمینی پھیلاؤ بہت ہو چکا ، سہولیات کے لئے جگہ کم پڑ رہی ہے، اس لئے اب تعمیرات کو اونچائی پر لے جانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے انگریزی محاورہ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ عمودی یعنی اونچائی کی تعمیرات میں حکومت کوئی حد نہیں لگائے گی بلکہ آسمان ہی آخری حد ہو گا یعنی sky is the limit ! حالیہ سالوں میں وزیر اعظم عمران خان کوئی پہلے وزیراعظم نہیں جو ہاؤسنگ سیکٹر میں انقلاب پیدا کرنے چلے ہیں اور نسبتاٌ کم آمدنی والے عوام کے لئے سستے گھروں کی فراہمی کا بیڑا اٹھائے نکل کھڑے ہیں۔ یادش بخیر محمد خان جونیجو نے بھی اپنے دورِ حکومت میں اڑھائی تین مرلے پر مشتمل سستے مکانات کی تعمیر کے پروگرام کا بڑے تزک و احتشام سے اعلان کیا، کچھ گھروں کے منصوبے مکمل بھی ہوئے مگر مجموعی طور پر یہ منصوبہ ابھی اڑان بھرنے کو تھا کہ جونیجو مرحوم کی حکومت کے پَر کاٹ دئے گئے۔ یوں سب ٹھاٹھ اور سامان و اسباب پڑے کا پڑا رہ گیا۔ نواز شریف نے بھی اپنے پہلے دونوں ادوار میں سستے رہائشی منصوبے شروع کئے لیکن حکومتی مدت ان منصوبوں کی تکمیل سے ہم آہنگ نہ ہوسکی۔ شہباز شریف نے بھی چند منصوبوں کا ڈول ڈالا اور اپنے تئیں غریب عوام کے لئے اس مسئلے کو حل کر ہی ڈالا تھا کہ تیسری بار انہیں پنجاب حکومت نہ مل سکی بلکی الٹا نیب مقدمات انہی آشیانہ اسکیموں کی بدولت بن گئے۔ پی ٹی آئی نے پچاس لاکھ گھر بنانے کا اعلان کیا تو بہت سے سوالات اٹھے کہ بہت بڑی تعداد ہے۔ اس عظیم منصوبے پر اخراجات کا تخمینہ پاکستان کے کل ترقیاتی بجٹ سے بھی زیادہ ہو گا ، اس قدر خطیر سرمایہ کہاں سے ممکن ہو سکے گا لیکن پی ٹی آئی مصر ہے کہ پرائیویٹ پبلک پارٹنرشپ کے تحت یہ منصوبہ بنے گا اور ضرور بنے گا۔ بلکہ کئی ایک علاقوں میں فارم بھی عوام سے وصول کر لئے گئے۔ اسٹیٹ بنک کی اپنی رپورٹس کے مطابق پاکستان ہاؤسنگ سیکٹر میں ڈیمانڈ اور سپلائی میں عدم توازن کے سبب سالانہ کم از کم سات لاکھ گھروں کی کمی واقع ہو رہی ہے۔ یوں مجموعی طور پر ملک میں اس وقت کم از کم ایک کروڑ گھروں کی کمی ہے۔ ہاؤسنگ سیکٹر میں ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کے اسباب اسٹیٹ بنک کی متعلقہ رپورٹ کے مطابق کچھ یوں ہیں؛ اوّل۔فرسودہ اور ناکافی قانونی ڈھانچہ، دوم۔ زمین کے ریکارڈ کا فرسودہ نظام، سوم ۔ رجسٹریشن کی بہت زیادہ کاسٹ، چہارم۔ شہروں میں زمینوں پر اجارہ داری جیسے عوامل وغیرہ۔ وزیر اعظم عمران خان کی حیرت بجا کہ ہاؤسنگ سیکٹر کے لئے جی ڈی پی کا صرف 0.2% کے برابر قرضوں کی رقوم مختص ہوتا ہے لیکن یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہاؤسنگ سیکٹر کبھی بھی ماضی کی حکومتوں کی ترجیح نہیں رہی۔ یوں اب پی ٹی آئی کی حکومت کا امتحان ہے۔ اس سیکٹر میں گزشتہ تیس سال سے کالا دھن ، قبضہ مافیا اور طاقت ور گروپس سرگرم ہیں جو قانونی اور فرسودہ دستاویزی ڈھانچے کا استعمال کرتے ہوئے شہروں کا مستقبل اور آس پاس یرغمال بنا چکے ہیں۔ سیاست میں فنڈز کی فراہمی کا سب سے بڑا ذریعہ یہی پراپرٹی گروپس ہیں۔ ان میں سے بیشتر اب اسی روپے پیسے کے زور پر ایم پی اے، ایم این اے اور مقامی حکومتوں میں عہدیداران ہیں۔ ایسے میں کون کم بخت غریبوں کے لئے سستے گھروں کے لئے ہلکان ہوگا، سب ’ جنت نشان ‘ ہاؤسنگ سوسائیٹیوں کے پروموٹرز اور سپانسر ہیں۔ جوں جوں شہر پھیلتے گئے، غریب عوام گنجان آبادیوں اور کچی بستیوں میں پاؤں سمیٹنے پر مجبور ہوتے گئے۔ جو شہر پھیلے اور بقول شخصے پلاننگ سے بنائے گئے ، ان کی کیفیت کیا ہے؟ یہ بھی ایک دلچسپ داستان ہے۔ ڈاکٹر غافر شہزاد آرکیٹیکچر میں ماسٹرز اور پی ایچ ڈی ہیں، ایک مقابلے کے بعد ان کا ہی ڈیزائن قصور میں بابا بلھے شاہ کے مزار کی تعمیرِنو کے لئے منتخب کیا گیا۔ لاہور شہر میں تعمیراتی سرگرمیوں ، اربن پلاننگ، سڑکوں کی پلاننگ وغیرہ پر متواتر لکھتے ہیں۔ نصف درجن سے بھی زائد کتب لاہور اور آرکیٹیکچر پر چھپ چکی ہیں۔ کمرشل عمارات کی تعمیر کے بارے میں اپنی ایک حالیہ کتا ب ’ لاہور۔ کَل، آج اور کل ‘ میں تعمیراتی پلاننگ پر یوں نوحہ کناں ہیں۔کمرشل عمارات کے منظور شدہ قوانین کا بھی عجب حال ہے۔ پلاٹ کا سائز خواہ کچھ بھی ہو، سامنے دس فٹ چوڑا برآمدہ بنانا لازم ہے، اگر کونے والا پلاٹ ہے تو برآمدہ دو جانب بنے گا ، خواہ دوکان کے لئے جگہ نہ بچے ۔ اس طرح تہہ خانہ کی اجازت برآمدہ کے نیچے نہ ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ سہولت دی گئی ہے کہ اگر آپ جرمانہ کی رقم ادا کردیں تو اس چھوڑے جانے والے رقبے پر بھی تعمیر کی جا سکتی ہے ۔اس طرح کی تعمیرات اولاً تو خلافِ قاعدہ ہوتی ہیں لیکن بعد میں رہائشی اور کمرشل جگہیں ریگولرائز کر دی جاتی ہیں۔۔۔ وزیر اعظم کی اپنی رہائش گاہ بنی گالہ، اسلام آباد میں گرینڈ حیات ہوٹل سمیت اس وقت سینکڑوں کی تعداد میں سائل اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخوات گذار ہیں کہ جرمانہ لیں اور سی ڈی اے کو ان کی تعمیرات کو ریگولرائز کر نے کا پروانہ جاری کر دیں۔ ماحول اور شہر وں کی اربن لائف پر ان غیر قانونی عمارتوں اور بے ہنگم پھیلتے ہوئے کنکریٹ اور سریے کے جنگل پر تعمیرات کے اثرات کا اندازہ لگانا زیادہ مشکل نہیں لیکن اس کھیکھڑ کی کسے پروا ہے۔ آج لشٹم پشٹم ریگولرائز ہوئے کل دوسرا دن، رات گئی بات گئی، یوں پراپرٹی کا یہ کاروبار اور ہمارے شہر یونہی بے ہنگم طور پر پھیل رہے ہیں۔ بقول ڈاکٹر غافر شہزاد ہمیں اکیسویں صدی کے اس تیز رفتار زمانے میں بے پناہ مسائل کی گٹھڑی سر پر اٹھائے اگر شہروں میں رہنا ہے تو نئے عہد کی معاشرت بھی سیکھنا ہو گی، کہاں گاڑی پارک کرنا ہے اور کہاں پیدل چلنا ہے، اس ضابطے کو خود پر لاگو کرنا ہو گا۔اگر ایسا نہیں کریں گے تو یہ میٹرو بس اور اورنج لائن ٹرین ہماری ٹریفک کے مسائل حل نہیں کر سکیں گی۔ہم اسی طرح اتنی کشادہ سڑکیں اور سگنل فری فلائی اوور ہوتے ہوئے بھی گھنٹوں ٹریفک میں پھنسے رہیں گے۔ پی ٹی آئی کو پچاس لاکھ گھر بنانے ہیں، پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ میں بنتے ہیں یا کسی اور ماڈل کے ذریعے سے ۔ یہ سب بجا لیکن حالیہ دو چار دِہائیوں میں سستے گھر بنانے کے تجربات زیادہ خوش کن نہیں رہے۔ تسلیم کہ وزیر اعظم عمران خان ہاؤسنگ سیکٹر کے ذریعے اپنے نئے پاکستان کی تعمیر کرنے اور اس کی مدد سے چالیس انڈسٹر یز کا پہیہ چلانے پر کمر بستہ ہیں ۔ تاہم وزیر اعظم عمران خان اگر نئے پاکستان میں ایک اور ادھورے ہاؤسنگ پروجیکٹ سے بچنا چاہتے ہیں تو ان کی حکومت کو ان بنیادی مسائل کی طرف بھی اتنی ہی توجہ دینی کی ضرورت ہے جتنی اس ہاؤسنگ پروجیکٹ کی خوبیاں اور اس کے امکانات گنوانے پر ہے ۔ صرف کم مارک اپ، وافر قرض کی سہولت اور جگہ کی فراہمی شہر بسانے کے لئے کافی نہیں ہوگی ۔ ایسا نہ ہو کہ کل کلاں سستے گھروں کا یہ پروجیکٹ بھی گزشتہ منصوبوں کی طرح سستے کی بجائے مہنگا سودا ثابت ہو !