ترجیحات کا ٹکراؤ
- سوموار 18 / مارچ / 2019
- 3500
سیاست میں بنیادی اہمیت سیاسی ترجیحات کی ہوتی ہے ۔ مسائل تو بہت ہوتے ہیں او ران کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں ہوتا۔ لیکن ایک اچھی ،موثر، بہتر اور شفاف حکمرانی سمیت عوامی مسائل کی اہمیت کو سمجھنے والی حکومت یا قیادت کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ بردباری اورتدبر و فہم کے ساتھ اپنی سیاسی ، سماجی او رمعاشی ترجیحات کا تعین کرتی ہے ۔ ترجیحات کا درست سمت بنیادی طو رپر حکومت اور عوامی سطح پر ایک دوسرے کے بارے میں اعتمادسازی یا بھروسہ کو تقویت دینے کا سبب بنتی ہے ۔ ہماری جمہوری حکمرانی کا المیہ ہے کہ یہاں جو کچھ حکمرانی کے نام پر ہورہا ہے اس سے عوام او رحکمران طبقہ کے درمیان واضح خلیج پیدا ہورہی ہے۔ جو حکمرانی کے مروجہ نظام کی مجموعی ساکھ اور شفافیت پر سوالات اٹھاتی ہے ۔ اسی طرح جب سیاست بنیادی طور پر عوامی مسائل سے ہٹ کر سیاست دانوں ، سیاسی جماعتوں یا ارکان پارلیمنٹ کی ذاتی ترجیحات سے جڑ جاتی ہے تو اس کا نتیجہ بھی معاشرے میں ایک ٹکراؤ کی صورت میں پیدا ہوتا ہے ۔ حال ہی میں پنجاب میں وزیر اعلی ،صوبائی ؒ وزرا، مشیروں اور صوبائی ممبران کی تنخواہوں، مراعات اور دیگر لوازمات کے حوالے سے منظور ہونے والے بل کا بھی ایک تنقیدی پہلو سامنے آیا ہے ۔وزیر اعلی ، وزرا او رارکان صوبائی کی تنخواہوں میں اضافہ یقینی طو رپر ان کے لیے اہمیت رکھتا ہوگا او راس کی ضرورت کو بھی تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ مگر بڑا سوال ٹائمنگ کا ہے ۔ایک ایسے موقع پر جب ملک معاشی بدحالی کا شکار ہے او راس کا اعتراف وزیر اعظم ، وزیر خزانہ سمیت حکومتی سطح پر بڑی شدت سے کیا جارہا ہے تو ارکان اسمبلی ، وزیر اعلی اور صوبائی وزرا یا مشیروں کی تنخواہوں او رمراعات میں عوامی نمائندگان قانون ترمیمی بل 2019کی منظوری سمجھ سے بالاتر ہے ۔ وزیر اعظم عمران خان بنیادی طور پر اس نکتہ پر زور دے رہے ہیں کہ ان کی اولین ترجیح اپنی سیاست ، حکومت او رحکمرانی کی مدد سے عام طبقہ اور بالخصوص کمزور طبقہ کی معاشی حالت کو بدلنا او ران کو غربت سے باہر نکالنا ہے ۔ وہ انسانوں پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنے اور عام طبقہ کی حالت سدھارنے کی بات کررہے ہیں ۔ اسی سوچ کے تحت انہوں نے سادگی او رکفایت شعاری پر مبنی حکمرانی کا نظام پیش کیا ہے ۔ مگر لگتا ہے کہ یہ سوچ عملی طو رپر محض ان کی ذاتی سوچ ہے او راس میں حکومت ، سیاسی جماعت او ربالخصوص حکمران طبقہ شامل نہیں ہے ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہمیں حکمرانی کے نظام میں وزیر اعظم عمران خان او ران کی حکومت کی سوچ میں تضاد یا ٹکراؤکا غلبہ نظر آتا ہے ۔ پنجاب کا حکمران طبقہ یہ بھی بھول گیا کہ اس طرز کے بل کی منظوری جس کا براہ راست تعلق ان کے اپنے مفاد سے ہے ، کا مجموعی طور پر حکمرانی اور بالخصوص عمران خان کی سیاست پر کتنا منفی اثر پڑے گا ۔ اس منفی اثر کا ایک مظاہرہ ہم نے دو دنوں میں سوشل میڈیا او رمیڈیا اور سیاسی و سماجی محاذ پر دیکھ لیا ہے ۔ جس طرز کا خوفناک ردعمل عوامی سطح پر پنجاب اسمبلی او رحکومت کے خلاف آیا وہ ظاہر کرتا ہے کہ عوام نے اس فیصلہ کو کیسے دیکھا ہے ۔ خود وزیر اعظم عمران خان کے ٹویٹ او راس کے بعد گورنر پنجاب کو اس بل کی منظوری سے روکنے کا فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ خود بھی اس فیصلے سے سخت نالاں نظر آتے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے نوجوان ووٹر ز اور خواتین نے بھی اپنی ہی پارٹی کے صوبائی فیصلے اور حکومت کی شدید مخالفت کرکے ثابت کیا ہے وہ لولے لنگڑے یا بہرے گونگے نہیں بلکہ اپنی حکومت اور قیادت کے غلط فیصلوں پر سخت مخالفت کرسکتے ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ ذاتی مفاد سے جڑے مسائل پر حکومت او رحزب اختلاف دونوں نے ذاتی مفاد دکھا کر ثابت کیا کہ ان کی بڑی ترجیح کیا ہے ۔جب قیادت دانش مندی اور مستقبل کی صلاحیت کو سمجھنے میں ناکام ہوجائے تو اس کا اثر عوامی ، جمہوری حکمرانی کے برعکس ہوتا ہے ۔ پنجاب کی حکمرانی کے بارے میں ایک عمومی تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ اصل طاقت وزیر اعلی نہیں بلکہ خود وزیر اعظم عمران خان ہیں ۔ یہ ہی وجہ ہے کہ وہ ماہانہ بنیادوں پر خود پنجاب کی کابینہ سمیت وزیر اعلی ، گورنر اسپیکر سے براہ راست رابطہ کرکے فیصلہ سازی کا حصہ بنتے ہیں ۔ یہاں سوال یہ ہے کہ کیا پنجاب کی حکومت نے یہ سب کچھ وزیر اعظم عمران خان کی مشاورت کے بغیر کیا او ران کو اندھیرے میں رکھ کر وہ کیا نتائج حاصل کرنا چاہتے تھے ۔ اب وزیر اعظم کے ردعمل کے بعد پنجاب کی حکومت 249 کابینہ او رسربراہ کی کیا ساکھ باقی رہ گئی ہے ۔وزیر اعظم عمران خان کو بھی سوچنا ہوگا کہ ان کی اپنی سیاسی گرفت پنجاب کی حکومت او ران سے جڑے لوگوں پر کتنی ہے ۔کیا وجہ ہے کہ ان کی حکمرانی کے فلسفہ اور ان کی کابینہ اور وزرائے اعلی کی سوچ او رفکر میں یہ تضاد او رخلیج ہے ۔ ایک منطق یہ دی گئی ہے کہ دیگر اسمبلیوں کی تنخواہ پنجاب سے زیادہ ہے وہ کیونکر ہے او رکیوں اس تضاد کو رکھا گیا ہے جو دوسروں میں بھی مقابلہ بازی کا عمل پیدا کرتا ہے ۔ حکمران طبقہ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اصل قربانی حکمران طبقہ ہی دیتا ہے او را س قربانی کی پیچھے اہم نکتہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے وہ عوام کے مفاد میں کام کریں گے او رپھر خود مفاد لیں گے ۔ موجودہ حکومت میں میڈیا سمیت مختلف شعبو ں میں جو بدترین معاشی بدحالی او ربے روزگاری کا عمل دیکھنے کو ملا، بجلی، گیس، پٹرول او رمہنگائی میں ہو شربا اضافہ کے بعد اگر خودارکان اسمبلی اپنے لیے اس قسم کا قانون پاس کریں گے تو کون ان کی حمایت کرسکتا ہے ۔وزیر اعظم محض ٹویٹ یا اس بل کی منظوری کو روکنے تک خود کو محدود نہ کریں بلکہ اپنی وفاقی ،صوبائی کابینہ سمیت اپنے من پسند وزیر اعلی کی بازپرس کریں یا جوابدہی کریں کہ یہ فیصلہ کس اصول کے تحت کیا گیا ۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے حکمران طبقہ کی ایک پرانی سوچ ہے کہ زیادہ سے زیادہ ارکان کو مراعات دے کر ان کو اپنی حمایت پر مجبور کرسکیں ۔ حکمرانی میں وزیر اعظم کے سامنے تین بڑے چیلنجز ہوتے ہیں ۔ اول ان کی اپنی حکمرانی کی سوچ، فلسفہ او رفکر کی ترجمانی، ان کی پوری حکومت، کابینہ او رارکان اسمبلی سمیت جماعت میں واضح نظر آئے ۔ دوئم حکومت کی نگرانی عملی طو رپر حکمران سیاسی جماعت کرتی ہے کہ ان کی حکومت کی پالیسی پارٹی پالیسی کے تابع ہے یا انحراف کررہی ہے ۔ پارٹی قیادت او رحکومت کے درمیان موثر رابطہ کاری حکمرانی کے نظام کو موثر بناتی ہے ۔ سوئم حکومتی نگرانی کانظام اوپر سے نیچے تک کتنا شفاف اور موثر ہے کہ جو بھی غلطی کرے اس کی جوابدہی بھی ہو لیکن اہم فیصلے کرتے وقت کس حد تک ان کو حکومت کے سربراہ ، پارٹی قیادت کی حمایت حاصل ہے ۔ کیونکہ جب یک طرفہ فیصلہ ہوں گے تو اس سے بدمزگی پیدا ہوگی جو ہمیں وزیر اعظم کے ٹویٹ کی صور ت میں دیکھنے کو ملی ہے ۔ پنجاب کی یہ حکومت اپنے لیے مراعات اگر ایسے وقت میں کرتی جب معاشی صورتحال بھی بہتر ہوتی او رلوگوں کو بھی زیادہ سے زیادہ ریلیف مل رہا ہوتا تو یقیناًعوامی سطح پر بھی اس کی حمایت کی جاسکتی تھی ۔مگر لگتا ہے کہ مسئلہ محض اپنے مفادات کا تحفظ ہے ۔ ایسے فیصلے عمومی طور پر ان لوگوں میں بھی مایوسی پیدا کرتے ہیں جو حکومت سے یا وزیر اعظم عمران خان سے بہت سی امیدیں لگائے بیٹھے ہیں کہ وہ انصاف پر مبنی حکمرانی کے نظام کو مستحکم کریں گے ۔اب وقت ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت کے پہلے چھ ماہ کی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی ٹیم کا بھی جائزہ لیں کہ کون ان کی سوچ کے ساتھ ہے او رکون حکمرانی کے نظام کو محض اپنی ذاتیات پر مبنی سیاست کے لیے استعمال کرکے عوام میں بداعتمادی پیدا کررہا ہے ۔ اب بھی وقت ہے کہ ہمارا حکمران طبقہ خدارا عوامی نبض کوسمجھے او ردیکھے کے لوگ کس کرب میں اور کس بدحالی میں اپنی زندگی گزارہے ہیں ۔ ہمیں اپنی ترجیحات کو عوامی مفاد کی ترجیحات سے جوڑنا ہوگا ورنہ روائیتی او رمفادات کی سیاست کا یہ انداز اس حکومت کو بھی ایک روائیتی حکمرانی کے شکنجے میں جکڑ لے گا او راس کا نتیجہ تحریک انصاف کی ناکامی کی صور ت میں سامنے آئے گا ۔اس لیے امتحان وزیر اعظم عمران خان کا ہے کہ وہ سمجھوتے کی سیاست کا شکار ہونے کی بجائے ،کچھ کرکے دکھائیں جو بڑی تبدیلی کو پیدا کرسکے ۔