وعدوں اور ڈلیوری کی پِنگ پانگ
- تحریر
- سوموار 25 / مارچ / 2019
- 4640
ٹیبل ٹینس کا کھیل دیکھنا ہمیں ہمیشہ دشوار لگا۔وجہ یہ ہے کہ اگر کھلاڑی منجھے ہوئے ہوں تو بال اس تیزی سے ٹیبل کے ادھر ادھر جاتی ہیں کہ اس کے تعاقب میں آنکھیں تھک جاتی ہیں۔اگر کھلاڑی منجھے ہوئے نہ ہوں تو اس کھیل سے بیزار ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی کہ بال ایک آدھ بار ہی کھلاڑی کے ریکٹ سے ٹکراتی ہے اور پھر دوسرے کے قابو میں نہیں آتی اور یوں بار بار سروس سے گیم میں دلچسپی ختم ہو جاتی ہے ۔
سیاست کے کھیل میں بھی ٹیبل ٹینس کے کھیل جیسی تیزی اور پھرتی ہے۔ ایک بیان ادھر سے جاری ہوتا ہے تو اس سے بھی زور دار دوسری جانب سے۔ایک کیا سیاست کے اس کھیل میں بعض اوقات تو دن میں کئی کئی میچ بیک وقت شروع ہو جاتے ہیں۔ میاں نواز شریف کی ضمانت کا کیس اور صحت، آصف علی زرداری، فریال تالپور کے حالیہ دنوں جعلی بینک اکاؤنٹس کے کیس کی کراچی سے راولپنڈی تبدیلی کے فیصلے، بلاول بھٹو کی جوابی پریس کانفرنس نے سیاست کے کھیل میں دونوں جانب گرمی برقرار رکھی۔ جو کچھ کمی رہ جاتی ہے وہ رات گئے ٹاک شوز میں اپنے اپنے حریف اور ممدوح کے لئے شاٹس کے مقابلے میں پوری ہو جاتی ہے۔
حکومت کے کھیل میں البتہ وہ گرمی اب سرد ہو رہی ہے۔ وزیر اعظم ہاؤس کی بھینسیں اور گاڑیاں بک بکا گئیں۔ وہاں ایک یونی ورسٹی بننا تھی جس کے حق میں شفقت محمود نے طویل پریس کانفرنس کرکے اس کے جواز پر ہمیں قائل کیا۔ گورنر ہاؤ س کو عوام کے لئے کھولا اور ابھی مزید کھولنے کے لئے دیواریں گرانے کا عمل شروع ہی ہوا تھا کہ عدالتی حکم کے جوابی شاٹ سے دیواریں بچ گئیں۔ اب گورنر ہاؤس کے کچھ اور حصوں کو عوام کی دید کی عید کے لئے کھولنے کا پروگرام ہے۔
حکومت نے بیوروکریسی کو بھی ٌ کامٌ پر لگانے کا عمل شروع کیا لیکن پنجاب کے آئی جی پولیس اور ڈی پی او پاک پتن کے کھیل کی بال کہیں دور جا نکلی ، خدا خدا کرکے سوموٹو ایکشن سے بازیاب ہوئی تو تبادلوں کی اگلی شاٹس شروع ہوئیں۔ وزیر اعظم کے ایک مشیر شہزاد اکبر نامی دنیا بھر سے لوٹی ہوئی ملکی دولت ملک میں لانے کے سلسلے میں اقدامات کی تفصیل بتاتے نہ تھکتے تھے۔ ان کی بال بھی اب واپسی شاٹ کی منتظر کہیں دور جا نکلی ہے۔
ایک شاٹ ادھر اور پھر واپسی کے میچ میں جو بہتر کھیل گیا سو جیت گیا لیکن حکومت اور گورننس کا کھیل سیاست سے بہت مختلف ہو تا ہے۔ نا تجربہ کاری تھی یا بہت کرنے بہت جلد کرنے کی دھن، پی ٹی آئی کی حکومت آئی تو بہت سے اقدامات کا اعلان ہوا۔ سو دنوں کی پرفارمنس کا غلغلہ مچا تو حکومت کے پاس یہ جواز تھا کہ سرسوں تو ہے نہیں جو ہتھیلی پہ یوں جم جائے گی، حکومت کے سمت طے کردی ہے اب بس اس سمت قدم اٹھاتے جانا ہے اور بس، یہ رہا راستہ اور وہ رہی منزل!
بات دل کو لگی سو اب راستے پر اٹھتے قدم دیکھنے لگے، مگر یہ کیا کہ قدم تو مسلسل اٹھ رہے ہیں مگر ایک قدم آگے اور دو قدم پیچھے۔ قدم اٹھ رہے ہیں مگر سفر طے نہیں ہو رہا۔ عین اسی روز جب حکومت دنیا کے درجنوں ممالک کے لئے ویزہ پالسی میں نرمی کے اقدامات کا اعلان کر رہی تھی اور نوید دے رہی تھی کہ سیّاحوں کے پاکستان آنے کی بنیادی رکاوٹ دور کر دی ہے۔ عین اسی وقت یہ خبر بھی سامنے آئی کہ پی ٹی ڈی سی کے چھ موٹل اور ریستوران بند کردئے گئے۔ وجہ یہ بنی کہ سالہا سال سے خسارے میں چل رہے تھے ، سو انہیں بند کرنا ہی مناسب سمجھا گیا۔مگر یہ کیا کہ ادھر سیاحوں کو جنت نظیر مقامات تک پہچانے کی رکاوٹ دور ہوئی ادھر جائے قیام کے چھ مقامات کی بندش کر دی گئی۔ جہاں قیامت کے آنے کا رات بھر انتظار کیا، صبحِ نور کا کچھ انتظار اور کر لیا ہوتا مگر کیا کیجئے ایک قدم آگے اٹھا دو قدم پیچھے اٹھے۔
پی ٹی آئی نے حکومت سنبھالی تو یاد دلایا کہ ایف بی آر کی مکمل تنظیم نو کرکے اسے یوں فعال کیا جائے گا کہ وزیر اعظم عمران خان کے وعدے کے مطابق آٹھ ہزار ارب روپے سالانہ کا ریونیو حاصل ہوگا۔ تبایا یہی گیا کہ اس محکمے میں کرپشن کی بھرمار تھی، لوگ باگ بھی اس لئے ٹیکس نہیں دیتے تھے کہ حکمران ان کے ٹیکسوں سے الّلّے تلّلّے کرتے تھے۔ اب کیونکہ ایک ذمہ دار حکومت ہے لوگوں کو ٹیکس گذاری میں کیا امر مانع ہے ، مگر خدا جانے ایف بی آر کے کرپٹ افسران کے کانوں میں کوئی سیسہ ڈلا ہوا تھا یا ٹیکس گذاروں تک نئی حکومت کی شفاف پالیسیوں کی خبر نہیں پہنچی، قومی خزانے میں رواں مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ میں ریونیو شارٹ فال سوا دو سو ارب روپے گِنا گیا۔
ریونیو کم ہونے پر حکومت کی پریشانی سمجھ میں آتی ہے لیکن یہ کیا کہ اس ہفتے کابینہ نے فیصلہ کیا کہ وفاقی حکومت کے مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں میں ٌ فالتوٌ اور استعمال میں نہ آنے والے اثاثے بیچ دئے جائیں تاکہ حکومت کے وسائل میں اضافہ ہو سکے۔ حیرت ہے یہ اثاثے تو آج اور کل کی نسلوں کی مشترکہ ملکیت ہیں۔ آج کی ضرورت کی خاطر آنے والی نسلوں کے اثاثے کیوں بیچے جائیں مگر دو قدم پیچھے آنے کی مجبوری تھی یا اگلا قدم نہ اٹھائے جا سکنے کی مشکل، یہی فیصلہ بن پڑا۔
گذشتہ حکومت نے نان فائیلر کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی پالیسی اختیار کی۔ بینکوں سے کیش نکلوانے سمیت کئی اقدامات نان فائیلر ز کو گھیر کے ٹیکس نیٹ میں لانے کے لئے تھے یا کم یز کم ان کی پروفائل کی تیاری کے لئے ضروری سمجھ کر اٹھائے گئے۔ اب خیر سے وزیر خزانہ نے کراچی میں ایک سیمینار میں انکشاف کیا کہ نان فائیلرز دل چھوٹا نہ کریں، اگلے بجٹ میں کچھ اقدامات ان کی سہولت کیلئے سوچ لئے گئے ہیں۔ مثال انہوں نے یہ دی کہ بینکوں سے کیش نکلوانے پر ود ہولڈنگ ٹیکس سے بینکوں کی ایک تکنیکی Ratio بھی ڈسٹرب ہو رہی ہے اس لئے اب سوچا گیا کہ بیک وقت نان فائیلرز اور بینکوں کو تکلیف کیا دینام سو اگلے بجٹ میں یہ ٹنٹا بھی ختم ہی سمجھیں۔
گذشتہ کئی سال سے یہی سنا کہ ہر سال پاکستان سے دس ارب ڈالر منی لانڈرنگ کے ذریعے اڑنچھو ہو جاتے ہیں۔ سوئس بنکوں میں دو سو ارب ڈالرز واپسی کے انتظار میں گلنے سڑنے کا بھی تسلسل سے سنا اور یقین کیا ۔ وزیر اعظم کے مشیر سے بھی یہی سنا کہ انہوں نے دوبئی وغیرہ میں سینکروں جائیدادوں کا پتہ چلا لیا ہے۔اور یہ بھی کہ OECD کیساتھ بنک اکاؤنٹس کی تفصیلات شیئر کرنے کا معاہدہ ہو چکا، سو اب لوٹی ہوئی دولت کی خیر نہیں۔ مگر یہ کیا کہ اب تک ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد بنک اکاؤنٹس کی حاصل شدہ تفصیلات کے مطابق بیرونِ ملک پتہ چلائی دولت کی کل مالیت فقط گیارہ ارب ڈالرز بنتی ہے اور یہ کہ ان میں سے بھی نصف نے اپنے یہ وسائل ڈیکلئیر بھی کر رکھے ہیں !!!
رہی اب تک لوٹی دولت کی ریکوری تو صرف ایک ہی شخص ہاتھ آیا جس سے 1.2 ملین ڈالرز ٹیکس کی مد میں وصول کئے گئے۔ دو سو ارب ڈالرز اور سالانہ دس ارب ڈالرز کی منی لانڈرنگ کے مجموعی حجم کی تلاش میں اٹھے ہمارے قدم یہاں تک ہی پہنچ پائے ہیں۔ سیاست پر بال ٹو بال کھیلنے کی چستی کے ساتھ ساتھ پی ٹی آئی کی حکومت کو اب وعدوں اور ڈلیوری کی سست ہوتی ہوئی پنگ پانگ کی رفتار پر بھی اتنی ہی نظر رکھنے کی ضرورت ہے ورنہ کھیل میں سستی کوئی اور شگوفہ نہ چھوڑ دے۔