زلمی بمقابلہ گلیڈی ائیرز

لاہور سے کراچی کی جانب رواں دواں ریل گاڑی، تیزرو کے ایک دوسرے درجے کے ڈبے میں کچھ سرحدی پٹھان حضرات اپنے لمبے چوڑے چوغے میں ملبوس براجمان تھے۔ چونکہ ہندوستان میں کچھ لوگ صرف نام کے پٹھان بھی ہیں یعنی ان کا صرف خاندانی نام ہی پٹھان ہوتا ہےاور وہ اکہری جسامت کے دبلے پتلے منحنی سے جثے کے حامل ہوتے ہیں۔

 اس لیے ہمارے گھروں میں اصلی تے وڈے پٹھانوں کو سرحدی پٹھان کے القاب سے عزت بخشی جاتی ہے۔ عبدالعزیز خان پٹھان ہمارے والد کے دوست اس صنف کے پٹھان کی زندہ مثال ہیں۔ ہماری عادت بچپن سے زرا کھوجی واقع ہوئی ہے۔ چنانچہ ایک دن ابا کی موجوگی میں ہی گستاخی کر بیٹھا۔۔۔چچاجان یہ بتائیے کہ سارے پٹھان تو گورے چٹے لمبے دراز اور توانا صحت کے مالک ہوتے ہیں مگر آپ ۔۔۔۔میں جملہ ادھورا چھوڑ کر پٹھان چچا کا منہ تکنے لگا۔ ابا نے برا مناتے ہوئے کہا بیٹا تم اندر جاؤ۔ نہیں نہیں پٹھان چچا نے خطرناک خندہ پیشانی سے جوابی وار کرنے کے لیے مجھے روک لیا۔۔۔اس بچے کو تجسس ہے، اسے پڑھنے کا بھی بہت شوق ہے یہ منٹو کو بھی بہت پڑھتا ہے۔ میں سمجھ چکا تھا کہ میری عافیت وہاں سے کھسک جانے میں ہی ہے۔
تو بات اس ریل کے ڈبے میں سوار پٹھان مسافروں کی ہورہی تھی۔ ڈبہ کھچا کھچ بھرا تھا اور تل دھرنے کی ہی بس جگہ باقی بچی تھی سو مجھے کسی طرح اندر گھسنے کا موقع مل گیا بلکہ یوں کہیئے میرے اٹینڈنٹ نے اندر کھینچ لیا۔ اب اٹینڈنٹ کے لیے میں قلی، خلاصی یا قاصد وغیرہ کے متبادل اردو الفاظ کے استعمال سے گریز کرتا ہوں چونکہ اردو میں رعونیت انگریزی کی بہ نسبت کم ہے۔ تو جناب اندر پہنچ کر میں اس بات پر برہم ہوگیا کہ وہ مجھے رات آٹھ بجے اس سیکنڈ کلاس ڈبے میں کیوں سوار کروا رہا ہے۔
تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ ٹی ٹی کہیں سے نکل آیا۔ جی نہیں آپ غلط سمجھے یہ ٹی ٹی گن نہیں ٹکٹ چیکر کا ذکر ہے۔ میں نے ٹی ٹی کو پورے اعتماد سے مخاطب کرتے ہوئے اپنا ریلوے کا فرسٹ کلاس کا پاس پیش کیا اور کہنے لگا اس بیوقوف اٹینڈینٹ کو فرسٹ کلاس کا ڈبہ پوری ریل گاڑی میں ڈھونڈ کر نہیں ملا۔ آپ میری مددکریں اور مجھے فرسٹ کلاس تک پہنچا دیں۔ ٹی ٹی نے پاس میں درج تاریخ روانگی کو جانچا اور پھر سر ہلاتے ہوئے بولا۔۔۔بیٹا اس سے واقعی سخت غلطی ہوگئی ہے۔ اب آپ کو اسی سیکنڈ کلاس میں سفر کرنا ہوگا۔ یہ تیزرو ہے اس میں فرسٹ کلاس کا ڈبہ نہیں لگتا ہے۔ کوئی دوسری ٹرین کا مشورہ اس لیے نہیں دوں گا کہ تم رات کے وقت کہاں اتر کر صبح تک تیز گام کا انتظار کروگے۔ یہیں کہیں گھس گھسا کر سو جاؤ۔ یہ کہتے ہوئے ٹی ٹی دوسرے مسافروں پر ایک نظر غائر ڈالتے ہوئے یوں آگے بڑ ھ گیا۔ جیسے کہہ رہا ہو تم لوگ ایک چھوٹے سے نوجوان کا خیال نہیں رکھ سکتے۔۔۔۔اسے بھی جگہ دے دو۔

 ٹی ٹی کے جانے کے بعد ایک صاحب اٹھے اور اپنا بستر بند کھول کر اسے فرش پر بچھاتے ہوئے خاص پشاوری لہجے میں بولے بیٹا اس پر لمبا ہوکر لیٹ جا۔۔۔۔۔۔ڈوبتے کو تنکے کا سہارا میں زمین پر بچھے بستر پر لیٹ گیا اور زندگی میں پہلی بار پہیوں سے اتنے قریب سے کان لگا کر ٹرین کی گڑ گڑاہٹ سنتا رہا۔ زمین پہ سونے کا یہ فائدہ ہے کہ نہ صرف کمر بلکہ انسان کا دماغ بھی سیدھا ہوجاتا ہے۔ سو میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ مگر نیند کے جھونکے میں مجھے کسی مرغی کی ہلکی ہلکی کٹ کٹ سنائی دینے لگی تو میں سمجھا کہ میرا دماغ ڈورتی ٹرین کی کھٹ کھٹ کے ساتھ ہی چلنے لگا ہے۔
صبح کی پہلی پو پھٹنے اور مرغ کے بانگ دینے سے قبل میری آنکھ کھل چکی تھی۔ اور پھر وہی کٹ کٹ کی آواز۔۔۔میں چونک کر اٹھ بیٹھا۔۔۔اٹھ کر بیٹھ کر سن گن لیا تو محسوس ہوا کہ سیٹ کے نیچے سے کٹ کٹانے کی آواز آرہی ہے۔ ایک بار پھر لیٹ کر دیکھنے کی جو کوشش کی تو صبح کاذب کے پھیلتے اجالے میں دوتین رنگ برنگے پرندے کسی ٹوکری میں بند باکل میرے قریب نظر آگئے۔۔۔۔۔میں ہڑ بڑا کر ایک بار پھر اٹھ بیٹھا بلکہ کھڑا ہوگیا۔ ڈبے میں بھی صبح آہستہ آہستہ اپنے پاؤں پھیلا رہی تھی اور پاؤں سکیڑے سوئے تمام لوگ ایک ایک کرکے اٹھنے لگے۔

تب خان صاحب نے جنہوں مجھے اپنا بستر دیا تھا مسکراتے ہو ئے مجھ سے پوچھا بیٹا تو تو گھوڑے بیچ کر سویا۔ میں نے دل کہا اور آپ کیا مرغے بیچ کر۔۔۔۔وہ فورا" ہی مطلب پر آگئے۔۔۔بیٹا مرغوں نے تنگ تو نہیں کیا۔ میں حیران تھا کہ یہ کیسے مرغ ہیں جو صبح کی بانگ دینے کی بجائے صرف کٹ کٹ کر رہے ہیں۔ میں تو تصور میں خاں صاحب کو اس عجیب و غریب صورتحال میں مبتلا دیکھ رہا تھا کہ مرغ دھڑادھڑ بانگ دے رہے ہوتے اور بھری بوگی کے مسافر جھنجھلا کر اٹھ رہے ہوتے۔۔۔۔مگر ایسا کچھ نہ ہوا۔ میں خاں صاحب سے کہنے لگا نہیں ایسا کچھ خاص نہیں تنگ کیا مرغوں نے۔ خان صاحب پھر کہنے لگے یہ بہت قیمتی اور اعلی نسل کے مرغے ہیں اور صرف مرغ لڑانے کے کھیل میں ہی ان کے داؤ پیچ دیکھے جاسکتے ہیں۔ ابھی ہم سب کوئٹہ جارہے ہیں اور وہاں ان مرغوں کو مقامی مرغوں کے ساتھ مقابلہ کرنا ہے۔۔۔۔۔۔خان صاحب کا چہرہ وفور جذبات سرخ ہورہا تھا اور ان کے لہجے سے خوشی جھلک رہی تھی۔ وہ کہہ رہے تھے میرے مرغوں کے نام زلمی ہیں اور ان  کا مقابل گلیڈی ائیرز ہیں۔