انتہا پسند رجحانات اور تعلیم کا بیانیہ
- تحریر سلمان عابد
- سوموار 25 / مارچ / 2019
- 9650
پاکستان کا ایک بنیادی مسئلہ انتہا پسند رجحانات کا پھیلاو ہے ۔ یہ مسئلہ محض مذہبی نہیں بلکہ سیاسی 249 سماجی اور علمی و فکری سطح پر بھی موجود ہے ۔اس کی بڑی وجہ معاشرے میں عدم برداشت کا کلچرکا بڑھنا اور مکالمہ یا رواداری کے کلچر کا کمزور ہونا ہے ۔ کوئی بھی معاشرہ جب مجموعی طور پر اپنے مرض کو قبول کرنے سے انکار کردے تو اس مسئلہ کا علاج بھی ممکن نہیں ہوتا ۔ایک فکری مغالطہ یہ پھیلایا جاتا ہے کہ معاشرے میں انتہا پسندی کوئی بڑا مسئلہ نہیں 249لیکن بلاوجہ کچھ افراد یا ادارے یا قوتیں اس مسئلہ کو ابھار کر ہمیں بدنام کرنا چاہتی ہیں ۔ یہ نکتہ سمجھنا ہوگا کہ اگر ہم نے مجموعی طو رپر انتہا پسندی کا علاج تلاش نہ کیا تو اس کانتیجہ پرتشدد سیاست یا دہشت گردی پر مبنی رویوں یا عمل کی صورت میں سامنے آتا ہے جو ملک کے مجموعی تصورات کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ہے ۔
پچھلے دنوں بہاولپور کے مقامی کالج کے گریجویشن کے طالب علم خطیب حسین نے اپنے ہی کالج میں اپنے استاد پروفیسر خالد حمید کو قتل کردیا ہے ۔ اس طالب علم کے بقول اس کا استاد مذہب کے خلاف گستاخانہ کلمات ادا کیا کرتا تھا اور وہ اپنے استاد کو قتل کرنے پر کوئی ندامت 249 غلطی یا شرمندگی کو محسوس نہیں کرتا ۔ یعنی وہ اپنے طرز عمل پر فخر کرتا ہے او راس کا تعلق ایک مذہبی گروہ سے ہے ۔یہ ہی وہ مذہبی گروہ ہے جو مذہب کو بنیاد بنا کر معاشرے میں پرتشدد رجحانات کو فروغ دیتا ہے ۔اس لیے مسئلہ محض اس طالب علم کا نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے وہ گروہ یا افراد ہیں جو اپنے فلسفے 249 سیاست 249 عقیدہ یا مذہب کو امن 249 رواداری کے مقابلے میں تشددکے طور پر بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں جو نئی نسل کو گمراہ کرنے کا کھیل بھی ہے ۔
یہ جو نئی نسل کو مذہبی 249 لسانی 249 ثقافتی 249سیاسی بنیاد پر مختلف فریقین اپنے مخصوص بیانیہ کی بنیاد پر انتہا پسندی کی طرف مائل کررہے ہیں او رخود اپنی سطح پر ان رجحانات کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں جو پرتشدد عمل کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ پاکستان نے سانحہ پشاو رکے بعد جو قومی نیشنل ایکشن پلان بیس نکات پر قومی اتفاق رائے سے ترتیب دیا تھا اس میں بیشتر نکات کا تعلق امن 249 رواداری 249 برداشت اور سیاسی وسماجی اہم اہنگی کو بنیاد بنا کر کام کرنا تھا ۔ ان میں ہمارے تعلیمی ادارے 249 مدارس کی تعلیم 249 نصاب 249 استاد او رشاگرد سب ہی کو بنیاد بنا کر ایسے نکات بھی شامل تھے جو قومی بیانیہ کی ازسر نو تشکیل کے ضروری تھے ۔کیونکہ اس انتہا پسندی کا علاج محض طاقت کے استعمال یا انتظامی اقدامات سے ممکن نہیں تھا اس کے لیے علمی اور فکری محاذ پر افراد او ربالخصوص نئی نسل میں یہ شعور پیدا کرنا تھا کہ ہمیں ایک دوسرے کے مختلف خیالات249 نظریات249 سوچ او رفکر کے باوجود اکھٹے رہنا ہے اور کسی کے خلاف تعصب او رنفرت کی سیاست کو فروغ نہیں دینا ہے ۔
پروفیسر خالد حمید جو بنیادی طور پر ایک بہت ہی شفیق استاد تھے او ران کے ساتھیوں کے بقول ان پر لگائے گئے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں تھی ۔لیکن ان جیسااستاد بھی معاشرے میں موجود انتہا پسندی کا شکار ہوگیا ۔اس نوجوان خطیب حسین کا ایک ویڈیو بیان بھی سننے کا موقع ملا جو ظاہر کرتا ہے کہ اس کے ذہن249 مزاج 249 سوچ اور فکر میں کیسے زہر بھرا گیا ہے ۔دلچسپ بات یہ ہے کہ اس نوجوان خطیب حسین کی سرگرمیاں یقینی طور پر کالج میں موجود ان کے استادوں 249 طالب علم دوستوں249 گھر والوں 249 خاندان 249 محلہ یعنی ہر سطح پر نظر میں ہونگی ۔کسی نے بھی اس کے اس طرز کے سخت مزاج اور پرتشدد خیالات پر کوئی سرکوبی نہیں کی او رنہ ہی کوئی ایسا انتظامی اقدام کیا گیا جو اسے اس اقدام سے روک سکتا۔ اس لیے مسئلہ محض ایک فریق کا نہیں بلکہ تمام فریقین کا ہے جو اس سے جڑے ہوئے لوگ تھے او رکسی نے بھی نہ صرف اس کی نگرانی یا جوابدہی کو یقینی بنانے کی بجائے ایک غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کیا ۔
ہمارا تعلیمی نظام بنیاد ی طو رپر کئی طرح کے فکری تضادات سے جڑا ہوا ہے ۔ ہمارا مقصد ڈگریاں بانٹنا رہ گیاہے جب کہ تعلیم میں تربیت کا عمل بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔ اس تربیت کی کمی میں تعلیمی نظام سمیت گھر اور خاندان یا سماج کا بھی کردار ہے جہاں سیاسی 249 سماجی 249 مذہبی اور تربیتی ادارے خود زوا ل پزیری کا شکار ہیں ۔یہ مسئلہ محض خطیب حسین تک محدود نہیں بلکہ اس طرح کے کئی او رخطیب حسین ہونگے جویقیناًہمارے تعلیمی نظام کا حصہ ہونگے او ران میں بھی اسی طرز کا زہر گھولا ہوا ہوگا جو ہمیں خطیب حسین کی سطح پر نظر آیا ہے ۔یہ تو ایک مذہبی مسئلہ تھا لیکن سیاسی اور سماجی سطح پر ایسے لاتعداد واقعات ہمیں تعلیمی اداروں کی سطح پر غالب نظر آتے ہیں جو لسانی 249 سیاسی 249 سماجی 249 علاقائی 249 زبان کی بنیاد پر پرتشدد رجحانات کو فروغ دیتے ہیں ۔کیونکہ جب اس سوچ کو اجاگر کیا جائے گا کہ مخالف سوچ اور فکر کے لوگ انسان نہیں بلکہ وہ دشمن ہیں او ران کو ختم کرنا عقیدہ کی جیت ہے تو ہم کیسے ان مسائل سے نمٹ سکیں گے ۔ اصل مسئلہ ریاستی و حکومتی سطح پر اداروں کی ناکامی کا ہے جو ملک میں ایسے لوگوں کی سرکوبی میں فعال اور شفاف کردار ادا نہیں کرتا اور اس کا نتیجہ انتہا پسندی کی صورت میں نکلتا ہے ۔
سکولوں سے لے کر یونیورسٹیوں تک کا ہمارا تعلیمی نظام واقعی تربیت کے عمل میں کوئی بڑا کردار ادا کرنے میں ناکامی سے دوچار ہے ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیمی اداروں میں سماجی کلچر سے جڑی چیزوں کو اہمیت ہی نہیں دی ہے ۔ غیر نصابی سرگرمیاں بنیادی طو رپر طلبہ و طالبات میں سیاسی 249سماجی اہم اہنگی کو پیدا کرتی ہیں ۔ بالخصوص مختلف کلچر249 برادری 249 زبان 249 مذہب 249 فرقہ کے نوجوان طلبہ وطالبات کا مل بیٹھ کر بیٹھنا او رایک دوسرے کے لیے قبولیت پیدا کرنا ہی تعلیم کا اصل مقصد ہوتا ہے ۔موسیقی 249 شاعری 249 فن تقریر 249 کھیل 249 مزاح249 ڈرامہ 249 ثقافتی سرگرمی کی بنیاد پر سرگرمیاں لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ جوڑنے کا سبب بنتی ہیں ۔تعلیمی نصاب میں امن 249 رواداری 249 برداشت249 قبولیت 249 اہمنگی کو بنیاد بنا کر ہمیں تعلیمی نصاب میں اصلاحات کرنا ہونگی۔ استاد او رطالب علم دونوں سطح پر تعلیمی اداروں میں تربیتی عمل کو فروغ دینا ہوگا کہ ہمیں کیسے امن 249 رواداری او رمکالمہ کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا ۔
اسی طرح تعلیمی اداروں کی سطح پر انتظامیہ کا اپنا نگرانی کا نظام موثر او رشفاف بنانا ہوگا جس میں فوری طو رپر ایسے افراد کا نشاندہی ہوسکے جو انتہا پسند رجحانات رکھتے ہیں یاایسی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔ ایسے طالب علموں کی نشاندہی کے بعد ان کے والدین کے ساتھ مکالمہ ہو او ران کو بتایا جائے کہ ان کابچہ یا بچی کس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں ۔اسی طرح تعلیمی اداروں میں جو غصہ 249 نفرت249 بے چینی 249 مایوسی یا بدلہ لینے کی سوچ او رفکر موجود ہے اس کے لیے نفسیاتی اور سماجی ماہرین کی مدد کے ساتھ باقاعدہ کونسلنگ سنٹروں کی بنیاد رکھی جائے ۔اسی طرح تعلیمی نصاب میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے کردار پر اس کی اہمیت او رموجود قانون کے بارے میں بھی آگاہی دی جائے کہ ہمیں کیسے اس کا مثبت استعمال کرنا ہے ۔ کیونکہ سوشل میڈیا پر بھی جو انتہا پسندی کے رجحانات کا غلبہ ہے اس کی درست تشخیص اور علاج تلاش کرنا ہی اس مسلہ کا حل ثابت ہوگا۔
ریاستی و حکومتی سطح پر تعلیمی اداروں کی سخت نگرانی سمیت معاشرے کے اہل دانش249 سیاسی مفکرین 249 مذہبی اسکالرز 249 سماجی ماہرین 249 میڈیا اور رائے عامہ بنانے والے تمام افراد یا اداروں کو حظیب حسین کے اقدام کی حمایت کرنے کی بجائے اس سے سبق حاصل کرکے کچھ نئی حکمت عملی کو اختیار کرنا ہوگا ۔سول سوسائٹی او رتعلیمی اداروں کے درمیان سماجی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے ایک دوسرے کے کردار کی قبولیت او رتعاون کے امکانات کو آگے بڑھانا ہوگا۔قومی ایکشن پلان 249 پیغام پاکستان جیسے اہم دستاویز کو بنیاد بنا کر ہمیں اپنے تعلیمی نظام میں بڑی اصلاحات کے لیے ایک بڑی سرجری کی ضرورت ہے ۔کیونکہ یہ سوچ او رفکر بڑی خطرناک ہے کہ ہمارا تعلیمی نظام خود انتہا پسندی کو روکنے کے بیانیہ میں ناکام ہورہا ہے او ران اداروں سے پروفیسر یا کسی طالب علم کا قتل یا پرتشدد واقعات ہمارے تعلیمی نظام پر خود بڑا سوالیہ نشان ہے ۔لیکن اس کے لیے ہمیں ریاستی 249 حکومتی 249ادارہ جاتی 249 میڈیا 249 اہل دانش سمیت سب فریقین کی سطح پر ایک مضبوط سیاسی کمٹمنٹ اور عملی اقدامات درکار ہیں جو اس انتہا پسندی کے مقابلے میں امن او ررواداری پر مبنی معاشرے کی تشکیل کو ممکن بناسکے۔