سعد الرحمٰن ملک

  • اور بھی کھیل ہیں دنیا میں کرکٹ کے سوا۔۔۔۔

    کھیل کسی بھی صحت مند معاشرے کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں، جو معاشرے میں مثبت رجحانات اور صحت مند مقابلے کو پروان چڑھاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے تمام ممالک کھیلوں کے شعبے میں خصوصی دلچسپی لیتے ہوئے اس کی ترقی کے لیے کوشاں رہتے ہیں۔ ایک وقت تھا کہ دنیا میں پاکستان کے بغیر کھیلوں [..]مزید پڑھیں

  • شوگر مافیا کا عروج اور کپاس کا زوال

    کپاس ہمارے ملک کی ایک اہم نقد آور فصل ہے جس کا جی ڈی پی میں حصہ 1.7فیصد ہے۔ ٹیکسٹائل کے شعبے میں کپاس کا مرکزی کردار ہے اورٹیکسٹائل انڈسٹری نہ صرف ہمارے 66 فیصد برآمدات کا احاطہ کرتی ہے بلکہ 40 فیصد مزدوروں کو روزگار بھی فراہم کرتی ہے۔ ملکی آب و ہوا کپاس کے لیے ساز گار ہونے کے باعث پ� [..]مزید پڑھیں

  • جل جیون ہے

    پانی کرہ ارض پر زندگی کا اہم جز ہے جو انسانی جسم کی بناوٹ اور اس کی مشینری کے اہم افعال سر انجام دیتا ہے۔ صاف پانی صحت مند زندگی کی ضمانت ہے اور ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ پاکستان کو دہشت گردی، کرپشن اور توانائی کے بحران جیسے بڑے مسائل کا سامنا ہے لیکن اعدادو و شمار کے مطابق صاف پا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ماحولیاتی عد م توازن کی تشویشناک صورتحال

    انسان اور ماحول کا دنیا کی ابتدا سے ہی گہرا تعلق قائم ہے۔ جس طرح ماحول انسانی زندگی پر اپنے گہرے اثرات مرتب کرتا ہے اسی طرح انسانی سرگرمیوں نے بھی قدرتی ماحول کو بھی بے حد متاثر کیا ہے۔ موجودہ دور میں ماحولیاتی عدم توازن کے باعث ہماری زمین نزع کے عالم میں ہے اور اس کی سانسیں ختم [..]مزید پڑھیں

  • سڑکوں پر موت کا رقص

    کسی بھی قوم کی تہذیب و تمدن کا اندازہ اس کے ٹریفک کے نظام کودیکھ کر لگایا جاسکتا ہے۔ مہذب معاشرے میں زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح ٹریفک کا نظام بھی نظم و ضبط کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ گزشتہ چند عشروں کے دوران تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کی وجہ سے سڑکوں پر ٹریفک میں بھی بے پناہ اضافہ ہوا [..]مزید پڑھیں

  • فنی تعلیم و تربیت، معاشی ترقی کی ضامن

    تعلیم اور فنی تربیت ایک ایسا مربوط نظام ہے جس کے ذریعے کوئی فرد معاشرے میں باعزت روزگار کما کر بہترین زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتا ہے۔ تعلیم انسان کو شعور اور معاشرتی ادب سکھا کر معاشرے میں رہنے کے قابل بناتی ہے جسے حاصل کرنے سے انسان ایک قابل قدر شہری بن جاتا ہے۔ جبکہ فنی تربیت [..]مزید پڑھیں

  • کثرت آبادی ہمارے تمام مسائل کی جڑ

    سائنس دانوں کی تحقیق کے مطابق بارہ ہزار قبل مسیح میں کل دنیا کی آبادی ایک کروڑ نفوس پر مشتمل تھی۔ 1650 میں یہ آبادی ساڑھے چون کروڑ ہو گئی۔ 1750 میں یہ تعداد 27کروڑ اسی لاکھ ، 1850 ایک ارب سترہ کروڑ دس لاکھ تھی اور 1950  میں  آبادی دو ارب پچاس کروڑ تک جا پہنچی۔ 2011 میں انسانی آبادی نے سا [..]مزید پڑھیں