باصر کاظمی

  • ناصر کاظمی کا مثالی معاشرہ

    ناصر جس معاشرے کا حصہ تھے اس کے مسائل، اس کی ترقی اور اس کی بدلتی ہوئی اقدار میں ان کی دلچسپی آخری سانس تک قائم رہی۔ میں ایک جگہ بیان کر چکا ہوں کہ اپنی زندگی کی آخری شام، طبیعت کی بے انتہا خرابی کے باوجود، وہ یہ جاننے کے لیے بے تاب تھے کہ صدر مملکت ذوالفقار علی بھٹو اس شام زرعی اص [..]مزید پڑھیں

  • کیوبا میں ایک ہفتہ

    ہم ہر وقت، شعوری یا لاشعوری طور پر، چیزوں کا موازنہ کرتے رہتے ہیں۔ مماثلتیں اور فرق دیکھنے کا یہ عمل سفر میں تیز تر ہو جاتا ہے۔ ہوانا (Havana) کا ہوائی اڈا ایک پرانی عمارت ہے جس میں جدید ہوائی اڈوں پہ درکار تقریباً تمام سہولتیں میسر ہیں، اگرچہ کم سے کم۔ امیگریشن اور کسٹمز کاعملہ دو� [..]مزید پڑھیں

  • ایمان داری یا بزدلی

    کتا بالعموم اس لئے بھونکتا ہے کہ اسے اپنے یا اپنے مالک کے لئے خطرہ محسوس ہوتا ہے لیکن کبھی کبھی اسے یہ خطرہ اتنا زیادہ لگتا ہے کہ وہ کاٹنے کو دوڑتا ہے۔  لہذا اگر ہاتھ میں چھڑی یا چھتری نہ ہو تو کتے کو دیکھ کر راستہ بدل لینا چاہئے۔ جانور ہے، کیا پتا اس وقت اُس کے دماغ میں کیا چل ر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • خزانے کے امین

    ہم نے گورنمنٹ کالج سٹوڈنٹس یونین کے عہدے داروں کی حیثیت سے اٹھارہ مارچ انیس سو بہتر کو حلف اٹھایا۔ اس کے دو تین دن بعد کی بات ہے، میں کلاس میں تھا۔ اچانک ایک شور کی صورت میں کچھ آوازیں سنائی دیں۔ ’’بائی کاٹ، بائی کاٹ۔‘‘ بوئے کوٹ کا یہ اردو ترجمہ ہمارے لئے نیا نہیں تھا� [..]مزید پڑھیں

  • بھٹو صاحب سے ملاقاتیں

    اندرا گاندھی سے شملہ میں مذاکرات کے لئے جانے سے پہلے صدر پاکستان ذولفقار علی بھٹو نے زندگی کے مختلف شعبوں کے نمائندوں سے ملاقاتیں کیں۔ طلبہ کے جن چند نمائندوں کو بلایا گیا ان میں محمد اشرف عظیم اور میں بھی شامل تھے۔ ہم گورنمنٹ کالج لاہور کی طلبا یونین کے  بالترتیب، صدر اور س� [..]مزید پڑھیں

  • قصہ پاؤں کے تل کا

    یہ اس دور کی بات ہے جب میں اپنی والدہ کے ساتھ خواتین کی مجالس میں جا سکتا تھا۔ ایک مجلس میں ہم وقت سے ذرا پہلے پہنچ گئے۔ ایک خاتون قسمت کا حال بتا رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی انگلیوں سے میرے ماتھے کی جلد کو سکیڑ کر نمایاں ہونے والے بل بغور دیکھے اور کچھ دیر سوچ کے، گویا فیصلہ سنانے وا� [..]مزید پڑھیں

  • کچھ نیم ادبی یادیں۔2

    راوی کی ادارت گورنمنٹ کالج لاہور کے ادبی مجلے’راوی‘ کا مدیر سال ششم سے، شریک مدیر پنجم اور ایک ایک نائب مدیر چہارم اور سوم سے لیا جاتا تھا۔ میں جب سال سو م میں پہنچا تو میں نے اس اسامی کے لئے درخواست دی۔ میری غزلیں ’راوی‘ میں اور قطعات کالج گزٹ میں شائع ہوتے رہے تھے۔ � [..]مزید پڑھیں

  • کچھ نیم ادبی یادیں

    مشرقی پاکستان میں مشاعرے پاپا کو ڈھاکہ، سلہٹ اور چاٹگام میں منعقد ہونے والے مشاعروں میں شرکت کی دعوت ملی۔ منتظمین نے پی آئی اے کا ٹکٹ بھیجا جو دو سو دس یا بیس روپے کا تھا۔ اُس وقت لاہور سے کراچی کا کرایہ بھی تقریباً اتنا ہی تھا۔ منٹگمری (موجودہ ساہیوال) تک ریل کا انٹر کلاس کا ٹک� [..]مزید پڑھیں

  • میاں سلطان خان، ایک فراموش کردہ عظیم کھلاڑی

    چند برس ہوئے پاکستان کے ایک بڑے انگریزی اخبار نے سو نامور پاکستانیوں کے پر وفائلز پہ مبنی خصوصی شمارہ شائع کیا۔ شخصیات کی اس فہرست میں سیاست دان اورحکمران حاوی تھے لیکن شاعروں ادیبوں، فنکاروں اور کھلاڑیوں کی ایک قابل ذکر تعداد بھی تھی۔ یہاں ناصر کاظمی کی موجودگی پہ مجھے دلی خ� [..]مزید پڑھیں

  • بھٹو اور دار کی خشک ٹہنی

    ضیاالحق کی تقرری بھٹو صاحب نے جنرل ضیا الحق کو ان سے سینئر جرنیلوں پر ترجیح دیتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف بنا دیا۔ کئی لوگوں نے بیان کیا ہے کہ جنرل ضیا بھٹو کی بہت خوش آمد کرتے تھے اور ان سے بہت جھک کے ہاتھ ملاتے تھے۔ ایک سینئر بیوروکریٹ نے لکھا ہے کہ ایک بار بھٹو نے ان سے کہا تھا کہ [..]مزید پڑھیں