نورالہدیٰ شاہ

  • محبوب آپ کے قدموں میں

    میرے بچپن میں میرے تایا کے گھر کا ایک ملازم ہوا کرتا تھا۔ اسے محبوب کو اپنے قدموں میں دیکھنے کا شوق چرایا ہوگا اور کسی کالے علم والے بابے نے اسے اس شوق کا عمل دیا ہوگا کہ قبرستان سے کسی مردے کے بال لے کر رات اندھیرے، کھلے آسمان تلے جلاؤ۔ محبوب تک اس کا دھواں پہنچے گا اور وہ تمہار [..]مزید پڑھیں

loading...
  • میڈم نورجہاں، نوراں کنجری اور میں نور

    میڈم نورجہان کو میں نے صرف ایک بار دیکھا تھا۔ میرے بچپن کا اختتامی زمانہ تھا۔ ہم حج کے لیے جدہ ائرپورٹ پر اترے تھے۔ اچانک وہ میرے سامنے آگئیں۔ سفید احرام ماتھے کو آدھے تک ڈھکے ہوئے تھا۔ سفید سوتی شلوار قمیص۔ ململ کا سفید دوپٹہ، نماز میں اوڑھنے کے انداز میں لپٹا ہوا۔ شفاف اور مک� [..]مزید پڑھیں

  • مرد بنو! مرد کا بچہ بنو!

    معاشرہ اس ایک سوچ کا نچوڑ بن چکا ہے کہ مرد بن کر دکھاؤ۔ مرد کا بچہ بن کر دکھاؤ۔ دیکھا جائے تو مذہبی اور سماجی سطح پر راہ چلتی لڑکیوں کے جسم کے پرائیویٹ پارٹ میں چاقو گھونپنے سے لے کر خودکش بمبار بن کر پھٹنے اور زندہ انسانوں کی دھجیاں اُڑا دینے تک کا معاملہ اور ماں جائی بہنوں کو [..]مزید پڑھیں

  • پیارے مولوی صاحب! میں مدینے میں ہوں

    پیارے مولوی صاحب! گزارش ہے کہ میں اس وقت مدینے میں ہوں۔ ویسی ہی ہوں جیسی پاکستان میں ہوتی ہوں۔ اِک بندہ گندا۔ باہر سے دھلی دھلائی اندر سے گناہوں اور خطاؤں سے لدی اور میلی۔ شیطان مردود یہاں بھی ساتھ ساتھ چلا آیا ہے اور عین نماز میں میرے سر پر پنجے گاڑ کر آ بیٹھتا ہے۔ امام تکبیر د [..]مزید پڑھیں

  • یہ میں کہاں نکل آئی ہوں ۔۔۔

    کئی دنوں سے ایسا لگ رہا ہے جیسے اصحابِ کہف کی طرح اچانک آنکھ کھلی ہے۔ اُٹھی ہوں۔ شہر کی طرف گئی ہوں تو حیرت زدہ رہ گئی ہوں۔ یا خدا! زمانہ تو قیامت کی چال چل چکا ! یہ میں کہاں آ کھڑی ہوئی ہوں! انسانوں کا ہجوم تو ہے مگر انسان کہاں ہیں! ایک ہنگامہ سا برپا ہے چاروں طرف کہ کان پڑی آواز سنا [..]مزید پڑھیں

  • میری بیٹی کو فرینڈ ریکوئیسٹ بھیجنے والے لوگ

    میری بیٹی کو مجھ سے اکثر ایک شکایت بہت ہی شدید طریقے سے رہی ہے۔ وہ یہ کہ اکثر میرے فیس بک پر موجود لوگ اسے فرینڈ ریکئسٹ بھیجتے ہیں۔ گو کہ چند خواتین یا لڑکیاں بھی اس میں شامل ہوتی ہیں مگر ظاہر ہے کہ اسے مرد یا لڑکے زیادہ کھٹکتے ہیں یا یوں کہا جائے کہ برے لگتے ہیں۔ کیونکہ خود دبئی � [..]مزید پڑھیں

  • میرے نامکمل حج اور پرانا مکہ

    میں نے آنکھ کھول کر دنیا کو دیکھا تو ہر سال کا حج زندگی کا لازم حصّہ پایا۔ بابا اور اماں کی زندگی مکہ اور مدینہ کے گرد منڈلاتی تھی دو پروانوں کی طرح۔ تیسری میں آ گئی جسے ان کی انگلی پکڑ کر اس مرکزِ حیات کے گرد منڈلانا ہوتا تھا۔ بابا سرکاری ملازم تھے۔ ہر سال حج کے لیے ان کی چھٹی کا � [..]مزید پڑھیں

  • شٹ اپ کیپٹن صفدر!

    بچہ مر گیا  جمہوریت کا قافلہ آگے بڑھ گیا نواز شریف کی جدوجہد کو بس شہید کے خون کی ضرورت تھی، سو بالآخر ایک بچہ جمہوریت کی راہ میں کچلا گیا اور صد آفرین کہ کیپٹن صفدر جیسے درویش صفت مجاہد نے بچے کی کچلی گئی لاش کو اس جدوجہد کا شہید ہونے کا تمغہ بھی عطا کر دیا، جو سیدھا بچے کے با� [..]مزید پڑھیں