ڈاکٹر سید ندیم حسین

  • اُمیدِ سحر یا چراغِ سحری

    پاکستان مسلم لیگ کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر محترمہ مریم نواز شریف کل لندن سے لاہور تشریف لائیں۔ وہ چار مہینے اپنے والد صاحب کے ساتھ لندن میں رہیں۔ ان کے اپنے بقول انہوں نے کوئی سرجری کروائی ہےاور اس وجہ سے وہ لندن اور سوئٹزر لینڈ میں مقیم رہیں۔ مریم نواز کی واپسی کے ب� [..]مزید پڑھیں

  • استحکام پاکستان میں اداروں کا کردار

    اس وقت ہرپاکستانی وطن عزیز کے حالات کے بارے میں متفکرنظر آتا ہے۔ چہار سُو غیر یقینی کی فضا ہے۔ پاکستانی معاشرہ ایک ہمہ جہت انحطاط کا شکار ہے۔ معاشی ، معاشرتی اور سیاسی انتشار و تفریق اس وقت ہمارا مقدر ہے۔ اور ملک پہ عدم استحکام کے مہیب سائے ہیں۔ ان حالات کے پیدا ہونے میں اور ح [..]مزید پڑھیں

  • لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید صاحب کا استعفیٰ

    یہ خبر پاکستانی میڈیا میں گردش کر رہی ہے کہ چیف آف جنرل سٹاف لفٹیننٹ جنرل اظہر عباس اور بہاولپور کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے اپنی نوکری سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ جنرل اظہر عباس صاحب کا نام تو ہم نے پہلی دفعہ سُنا تھا۔ لیکن جنرل فیض صاحب 2017 سے منظرِعام پہ تھے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • مجھے کیوں نہیں بچایا

    عمران خان صاحب آج کل دھڑا دھڑ جلسے کر رہے ہیں اور حسبِ معمول گرج برس رہے ہیں۔ وہ بھرپور کوشش کر رہے ہیں کہ انھیں گرفتار کر لیا جائے تاکہ ان کی مقبولیت میں مزید اضافہ ہو۔ وہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں کو اشتعال دلا رہے ہیں۔ وہ جو باتیں تھوڑے ملفوف انداز میں کرتے تھے، اب کُھل کے [..]مزید پڑھیں

  • صدارتی یا پارلیمانی نظام

    پاکستان میں آج کل صدارتی نظام کی بحث پھر عروج پہ ہے۔ لیکن شاید صرف سوشل میڈیا پہ اور وہ بھی زیادہ تر پی ٹی آئی کے حامی یہ بیانیہ پھیلا رہے ہیں۔ اُن کا یہ خیال ہے کہ عمران خان کی ناکامی پارلیمانی نظام کی وجہ سے ہے۔ اُن کے خیال میں عمران خان ایک بہت بڑا لیڈر ہے۔ جس کی راہ میں مختلف [..]مزید پڑھیں

  • ذمہ دار کون ؟

    اکتوبر 1993 میں ولیم نیگور نامی ایک نارویجن پبلشر کوگولی مار دی گئی۔ کیونکہ نیگورڈ نے سلمان رُشدی کی متنازعہ کتاب شیطانی آیات شائع کی تھی ۔ نیگورڈ اس حملے میں زخمی ہوا لیکن اس کی جان بچ گئی۔ میں اس وقت نیانیا ناروے آیا تھا۔ اور نارویجن زبان سیکھنے اوسلو یونیورسٹی جاتا تھا۔ ہما [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان زندہ باد!

    ’میں جب دیکھتا تھا کہ ہمارے ملک میں غریب کی  زندگی اجیرن ہے، امیر امیر سے امیر تر ہو رہے ہیں اور غریب غربت کی گہرائی میں گرتے جا رہے ہیں تو میرا دل بہت کُڑھتا تھا۔ میرا دل چاہتا تھا کہ میں ان لوگوں کے لئے کچھ کر سکوں لیکن میں کرکٹ میں مصروف تھا‘۔ وہ ہجوم پریس کانفرنس میں [..]مزید پڑھیں