سید تاثیر مصطفیٰ

  • نثار عثمانی: ایک نڈر اور بیباک صحافی

    یہ اگست 1981 کی ایک خنک صبح تھی اور دن تھا اتوار کا۔ میں اپنے ایک محسن اور مہربان بزرگ کے ساتھ ملک کے نامور صحافی جناب اے ٹی چودھری کے گھر ماڈل ٹاؤن لاہور پہنچا تھا، جو انگریزی صحافت کا ایک بڑا نام تھے۔ اے ٹی چودھری (ابوطالب چودھری مرحوم) کی طبیعت کچھ ناساز تھی اور وہ اپنی خواب گا [..]مزید پڑھیں

  • میری بستی کا مان:ڈاکٹر مغیث

    سینکڑوں اساتذہ صحافت، ہزاروں عامل صحافیوں، درجنوں ٹی وی اینکرز اور تعلقات عامہ، ریڈیو، ٹی وی، ایڈورٹائزنگ اور سوشل میڈیا کے سینکڑوں نامور لوگوں کے استاد  ڈاکٹر مغیث الدین شیخ ہزاروں لاکھوں لوگوں کو سوگوار اور اداس کر کے اپنے رب کے حضور پیش ہو گئے۔  اس رب کی کبریائی کا ج [..]مزید پڑھیں

  • اطہر ہاشمی بھی رخصت ہوئے

    تحریر اور گفتگو دونوں میں اپنے قارئین اور سامعین کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر دینے والے سید اطہر ہاشمی زندگی کی سرحد اتنی سرعت سے عبور کرگئے کہ تاحال یقین نہیں آرہا۔ بظاہر اُن کی صحت مناسب تھی، زندگی کے معمولات بھی اپنی فطری رفتار سے چل رہے تھے۔ وہ جسارت جیسے قومی اخبار کے چیف ا [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بے مہار میڈیا، آزادی صحافت اور عالمی معیار

    دنیا بھر میں ہر سال 3 مئی کو منایا جانے والا یومِ آزادی صحافت پاکستان میں اس بارایسے ماحول میں منایا گیا ہے کہ ملکی میڈیا اپنے ہی پیدا کردہ دباؤ تلے پڑا ہانپ رہا ہے۔ ایک طرف عالمی تنظیم رپورٹرز ودآؤٹ باؤڈرز کی رپورٹ میں پاکستان دنیا کے 180 ممالک میں آزادی صحافت کے حوالے سے 145 ویں ن [..]مزید پڑھیں

  • ریاستی ستونوں کی اوقات

    رواں ہفتے کے دوران اس انٹرویو نما ’صحافتی شہ پارے‘ کا بہت چرچا رہا جسے کالم میں ملفوف کرکے پیش کیا گیا۔ اور جس کے خالق خود بھی یہ بتانے سے گریز کررہے ہیں کہ یہ کالم ہے، بریکنگ نیوز ہے، انٹرویو ہے یا کچھ اور۔  ان کا کہنا ہے کہ یہ صحافی کا کام ہے کہ وہ اپنی بات کس طریقے سے ا [..]مزید پڑھیں

  • مولوی سعید اظہر بھی اللہ کو پیارے ہوئے

    برسوں پہلے نامور بیورو کریٹ اور ممتاز لکھاری قدرت اللہ شہاب کی سوانح عمری ”شہاب نامہ“ شائع ہوئی تو ادبی حلقوں اور کتب مارکیٹ میں تہلکہ مچ گیا۔ اس کتاب میں قدر اللہ شہاب کی یادداشتوں کے علاوہ اُن کے افسانے اور زندگی بھرکی تحریریں جمع کر دی گئی تھیں۔  1100 صفحات پر مشتمل � [..]مزید پڑھیں

  • عثمان اجمیری بھی راہی ملک عدم ہوئے

    ادریس بختیار کے انتقال کے صرف ساڑھے تین ماہ بعد عثمان اجمیری کی اچانک وفات اہلِ صحافت کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ یہ صدمہ اس وجہ سے بھی زیادہ گہرا معلوم ہوتا ہے کہ مرحومین میں کئی مماثلتیں موجود تھیں۔ دونوں کے آباء کا وطن اجمیر تھا۔ دونوں  1940 کی دہائی میں ولیِ کامل خواجہ معین ا� [..]مزید پڑھیں