سید مجاہد علی

  • سپریم کورٹ کے 23ججوں کا تنازعہ

    یوں تو  جس ملک کی اعلیٰ عدلیہ میں ہزاروں مقدمات  پر سال ہا سال سے  فیصلے نہ ہو پارہے ہوں، وہاں سپریم کورٹ  میں ججوں کی تعداد میں اضافہ مقبول اور مستحسن اقدام سمجھا جانا چاہئے۔ پاکستان البتہ ایک  ایسا ملک بن چکا ہے جہاں کسی بھی معاملے کا کوئی متفقہ مثبت پہلو نہیں دیکھ [..]مزید پڑھیں

  • مخصوص نشستوں کا مسئلہ سیاسی طور سے حل کیاجائے

    تحریک انصاف نے  سپریم کورٹ میں  الیکشن کمیشن کے  خلاف توہین عدالت  کی کارروائی شروع کرنے کی درخواست دائر کی ہے۔ یہ درخواست پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے دائر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن 12 جولائی کے فیصلے پر عمل درآمد میں  ناکام رہا ہے لہذا اس کے خ� [..]مزید پڑھیں

  • اور اب 27 ویں آئینی ترمیم

    پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات  کے بعد بتایا ہے کہ چھبیسویں  ترمیم  کامیابی سے  منظور کرانے کے بعد اب دونوں پارٹیوں نے  صوبوں کے حقوق اور دیگر پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے 27 ویں آئینی  ترمیم لانے پر   غور ک� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اسرائیل کا نپا تلا جوابی حملہ

    اسرائیل نے بالآخر  ایران پر وہ جوابی حملہ کردیاہے جس کے بارے میں یکم اکتوبر کے بعد سے انتظار کیا جارہا تھا۔ البتہ یہ کہنے میں مضائقہ نہیں ہونا چاہئے کہ یہ حملہ نپا تلا اور  توقعات کے برعکس زیادہ   خطرناک نہیں تھا۔    امریکہ  اور اسرائیل نے اس حملہ کے بعد یکسا� [..]مزید پڑھیں

  • عدلیہ کی خود مختاری پر بحث کی ضرورت

    چھبیسویں آئینی ترمیم کے تناظر میں شروع ہونے والے مباحث اور سبک دوش ہونے والے  چیف جسٹس قاضی فائز  عیسیٰ کے اعزاز میں دیے گئے فل کورٹ ریفرنس سے  پانچ ججوں کی  غیر حاضری سے پیدا ہونے والی صورت حال  کاتقاضہ  ہے کہ ملک میں اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے اختیارات، ذمہ داری، حد� [..]مزید پڑھیں

  • برکس کا اجلاس اور پاکستان کی خارجہ پالیسی

    روس کے شہر کازان  میں  ترقی پزیر معیشتوں کی تنظیم برکس  کے اجلاس  میں چین کے صدر  زی جن پنگ اور بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی کی ملاقات ہوئی ہے۔  پانچ سال بعد منعقد ہونے والے اس ملاقات کو دونوں ملکوں کے تعلقات کے حوالے سے اہم سمجھا جارہا ہے۔  دوسری طرف  یوکری� [..]مزید پڑھیں

  • 26 ویں ترمیم سے آگے دیکھنے کی ضرورت

    آئینی ترمیم کے بعد سیاست مسلسل الجھی ہوئی ہے۔ تاہم حکومت کو اب تصادم اور تضادات میں اضافہ کی بجائے مصالحت و مفاہمت کے راستے کا انتخاب کرنا چاہئے۔ 26 وین آئینی ترمیم کے ذریعے کسی حد  تک  عدلیہ سے لاحق  اندیشوں کا سد باب کرلیا  گیا ہے ۔اس کے  بعد حکومت سے  ایسے سنجیدہ [..]مزید پڑھیں

  • آئینی ترمیم سے سیاسی تقسیم میں اضافہ ہوگا

    سینیٹ نے 26 آئینی ترمیم کی 22 شقات کی منظوری دے دی ہے۔ مولانا فضل الرحمان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے حکومت نے جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سینیٹر کامران مرتضی ٰ کی پیش کردہ یہ ترمیم بھی آئین کا حصہ بنائی ہے کہ یکم جنوری 2028 تک  ملک میں سود کا خاتمہ کردیا جائے گا۔ اس کے علاوہ چیف جسٹس  [..]مزید پڑھیں