وجاہت مسعود

  • تنویر جہاں کی ادارت اور میرا کالم

    دو روز پہلے، شام دبے پاؤں بڑھی آتی تھی۔ سارے میں دھند اور بادلوں نے چھاؤنی چھائی تھی۔ بارش کی بوندیں کھڑکی کے شیشے سے ٹکراتیں تو دل مچل مچل اٹھتا کہ برآمدے میں کھڑے ہو کر بارش سے لطف اٹھایا جائے۔ بارش سے اپنی دوستی بہت پرانی ہے۔ میں نے ابھی ٹھیک سے چلنا نہیں سیکھا تھا۔ برسات� [..]مزید پڑھیں

  • جبر کی سائنس

    چھٹی صدی عیسوی کا عرب شاعر امرؤ القیس ایک قصیدے میں کہتا ہے کہ جسے اپنی زبان ہی پر قابو نہ ہو، وہ زندگی کی باقی آزمائشوں میں کیا خاک اڑائے گا۔ امرؤ القیس سے کوئی سو برس بعد مولا علی نے فرمایا ’کلام کرو تاکہ پہچانے جاؤ‘۔ عزیزو ہماری کیا بساط! زندگی کا احسان ہے کہ ہم نے ا [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے شہر سے ہو کر دھواں گزرتا ہے

    کراچی کی ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں 17 جنوری کی رات بھڑکنے والی آگ میں اموات کی تعداد دو درجن سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ 80 شہری لاپتہ ہیں۔ بنے بنائے نمونے کے مطابق حکومت پسماندگان کے لیے مالی مدد کے اعلانات کر رہی ہے۔ علمائے کرام مرنے والوں کے لیے مذہبی اصطلاحات میں تع� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دل محرر ہے…

    دریاؤں کے رنگ نیارے ہیں۔ اونچے پہاڑوں کی بل کھاتی ترائیوں سے کہیں جھرنے اور کہیں چشمے کی صورت نکلتی آبی لکیریں ناچتی گاتی میدانوں کی جانب بہتی ہیں۔ پاکستان تو وادی سندھ ہے۔ دریائے سندھ قراقرم کے جنوب میں گلگت کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ کالا باغ سے قریب ایک سو کلومیٹ� [..]مزید پڑھیں

  • اور اک سال گیا۔۔۔

    آج دسمبر کا آخری دن ہے۔ آج محض 2025 کا برس ختم نہیں ہوا، ایک ربع صدی مکمل ہوئی ہے۔ اس عرصے میں زمانے نے کیا رنگ بدلے، علم کی کون سی منزلیں طے کیں۔ سیاست کن گھاٹیوں سے گزری، معاشرت کے خد و خال کیسے بدلے، یہ سب ہم سے بہت دور کسی اجنبی سیارے کی باتیں ہیں۔ ہم پدر سوختہ، آوارہ نصیب تو د� [..]مزید پڑھیں

  • آب رواں کا خواب اور ناﺅ کی رائیگانی

    اقبال خوش قسمت تھے کہ اندلس کے قلب میں واقع شہر قرطبہ کے بیچوں بیچ بہتے دریائے وادی الکبیر کے کنارے ایک اور زمانے کا خواب دیکھ سکتے تھے۔ اقبال کی شاعری ایک تہ در تہ خواب کا پھیلاﺅ ہے۔ اقبال کے خواب کا ایک کنارہ لاہور میں ہے تو دوسرا سرا شمالی افریقہ کے منطقوں تک پہنچتا ہے۔ اقب� [..]مزید پڑھیں

  • دن گزرتے جا رہے ہیں

    گیارہ برس گزرے، 2014 میں پت جھڑ کے یہی دن تھے۔ ایک موقر انگریزی اخبار میں محترم اشرف جہانگیر قاضی نے 16 دسمبر کو ایک مضمون لکھا تھا۔ ابتدائی جملہ ہی ایسا کھنکتا ہوا ٹکسالی سکہ تھا کہ حافظے پر مرتسم ہو گیا۔ قاضی صاحب نے لکھا تھا: Fortunate is the country that has professionally “thinking” generals, but unfor [..]مزید پڑھیں

  • سوہنی کا بینڈ اور ہمارا سیاسی شعور

    بٹوارے سے پہلے ہندوستان کے کچھ شہروں نے رنگ و رامش میں نام پایا تھا۔ انگریز حکومت کا صدر مقام کلکتہ صحافت کا پہلا مرکز تھا۔ ہندوستان کا پہلا ریڈیو سٹیشن یہیں قائم ہوا۔ واجد علی شاہ اور گوہر جان نے یہاں راگ راگنی اور رقص کی چمن آرائی کی۔ پارسی سیٹھوں کے طفیل بنارس تھیٹر کا مرکز ب [..]مزید پڑھیں

  • رضی الدین رضی: یادداشت اور فراموشی کے درمیان

    (بھائی رضی الدین رضی کی کتاب ’رفتگان ملتان‘ کے تیسرے ایڈیشن پر یہ چند سطریں 18  اکتوبر 2025 کو ملتان آرٹس کونسل کے محترم ڈائریکٹر سلیم قیصر صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر تحریر کی تھیں۔ ان میں رضی بھائی کی والدہ ماجدہ کا ذکر بھی آیا۔ تب معلوم نہیں تھا کہ رضی الدین رضی کی والدہ م [..]مزید پڑھیں

  • نی مائے سانوں کھیڈن دے

    ان دنوں درویش گزرے ہوئے زمانوں کی بار دگر سیر کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کو فوجی عدالت نے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزاما� [..]مزید پڑھیں