وجاہت مسعود

  • ڈاکٹر ذاکر حسین جالندھر اسٹیشن پر

    (گزشتہ سے پیوستہ) اگست 47 میں جالندھر اسٹیشن پر جو گزری، اس کا حال کیا لکھوں۔ مختصر یہ کہ قید حیات سے رہائی کی ایک صورت نکلی تھی وہ بھی یوں ہی گزر گئی! غالباً 15 یا 16 اگست کو میں نے کشمیر کے سفر کا قصد کیا۔ کئی ہفتے سے بیمار تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا ’ کچھ دن مکمل آرام کرو‘۔ آرام کی [..]مزید پڑھیں

  • بیان مجہول اور ذکر ذاکر صاحب کا

    آج ارادہ ہے کہ ایک حقیقی بڑے آدمی کا ذکر کیا جائے۔ ہمارے ممدوح اتنے بڑے ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی شیخ الجامعہ ہوئے، برلن یونیورسٹی سے معاشیات میں امتیازی حیثیت سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ ہندوستان میں ایوان بالا کے رکن منتخب � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!

    برادر بزرگ نے ایک پائے کا کالم باندھا ہے۔ ’واٹر لو تو ہو چکا‘۔ حضرت نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع کے پس منظر میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی تصویر کھینچتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست کی خارجہ کامیابیوں کے نتیجے میں تحریک انصاف کے بیانیے کا � [..]مزید پڑھیں

  • مختار صدیقی: کس خرابے میں مجھے چھوڑ گئی درباری

    مختار الحق صدیقی نام تھا۔ ہر نام آخری تجزیے میں ایک جیتے جاگتے، دوستیاں گانٹھتے، خواب دیکھتے، تصویر بناتے اور شعر میں نکتہ آفرینیاں کرتے کردار سے ایک خبر اور پھر ماضی کا ایک دھندلا نشان بن جاتا ہے جو جنریشن زی کے بابا لوگ کے لیے گزشتہ صدی کا کوئی اردو میڈیم حوالہ اور کبھی کبھی � [..]مزید پڑھیں

  • کچھ باتیں حفیظ ہوشیار پوری کی

    شیخ عبدالحفیظ سلیم نام تھا۔ حفیظ ہوشیار پوری کے نام سے جانے گئے ۔ قصبہ جھنگ کے قریب موضع دیوان پور میں 5جنوری 1912 کو جنم لیا۔ اکسٹھ برس اور پانچ دن بعد 10جنوری 1973کو جناح اسپتال کراچی میں رخصت ہوئے۔ اس وقفہ گل میں غزل کہی۔ بدن چھریرا، رنگ سانولا، وضع مغربی، طبع مشرقی۔ براقیِ طبع � [..]مزید پڑھیں

  • ہماری صحافت اور اہل دانش کا تاریخی کردار

    حنا آرنٹ بیسویں صدی میں فلسفہ سیاست پر اثر انداز ہونے والی موثر ترین آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔ 1906 میں پرشیا کی جنگجو ثقافت میں آنکھ کھولنے والی یہودی نژاد حنا آرنٹ کے لیے نازی اقتدار میں جینا مشکل ہو گیا تو وہ 1941 میں امریکا پہنچ گئی۔ امریکاپہنچ کر حنا آرنٹ نے اپنی اہم ترین کتا [..]مزید پڑھیں

  • دور سے آتے ہوئے چیتے کی بو

    7اپریل 2026 اور جنوبی ایشیا میں دن کے ابتدائی گھنٹے ہیں۔ ہمارے ہمسائے میں مکمل تباہی اور اس کے ناقابل پیش گوئی نتائج کی دھمکی میں بمشکل چند گھنٹے باقی ہیں۔ ان سطروں کی اشاعت تک آگ کے شعلے دنیا کے خدوخال بدل ڈالیں گے۔ اور اگر عقل و خرد کی پکار پر کان دھرے گئے تو بھی غالب امکان یہ ہے � [..]مزید پڑھیں

  • شاہد محمود ندیم: ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی

    سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی ت� [..]مزید پڑھیں

  • پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے

    یہ برس کچھ عجب رنگ سے نمودار ہوا ہے۔ دلوں کے حوصلے شل کرتا ہوا۔ یوں ہر برس فروری کے پہلے ہفتے کا انتظار رہا کرتا تھا۔ خزاں کی بے برگ شاخوں پر کونپلوں اور شگوفوں کی نمود سے خوابوں کو امید بخشتا ہوا۔ اس برس کیفیت بدل گئی ہے۔ آنکھ کو کچھ اور ہی اشارے مل رہے ہیں۔ پرانی صحبتیں یاد آ ر [..]مزید پڑھیں