وجاہت مسعود

  • صنفی مساوات اور ہرزہ سرائی کا مقبول بیانیہ

    اہل مشرق پندرہویں صدی عیسوی میں چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد سے اس انقلاب سے منقطع ہو گئے جسے معروف اصطلاح میں نشاة ثانیہ کہا جاتا ہے۔ صوت کو بامعنی ابلاغ یعنی زبان تخلیق کرنے کے بعد نسل انسانی کی سب سے انقلابی کاوش چھاپہ خانہ کی ایجاد تھی۔ علم کے جو ذخائر ہاتھ سے لکھے مخطوطوں ک� [..]مزید پڑھیں

  • ایک سارجنٹ اور دو وائس چانسلر

    دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو یورپ کے بیشتر ممالک ملبے کا ڈھیر تھے۔ پانی اور بجلی سمیت بنیادی ضروریات کا نظام درہم برہم تھا۔ سڑکیں باقی تھیں اور نہ پل سلامت تھے۔ ایسے میں امریکا نے مغربی یورپ کے سترہ ممالک کی معاشی تعمیر نو کے لیے اپریل 1948 میں 13.3 ارب ڈالر کا چار سالہ امدادی پروگ� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ڈاکٹر ذاکر حسین جالندھر اسٹیشن پر

    (گزشتہ سے پیوستہ) اگست 47 میں جالندھر اسٹیشن پر جو گزری، اس کا حال کیا لکھوں۔ مختصر یہ کہ قید حیات سے رہائی کی ایک صورت نکلی تھی وہ بھی یوں ہی گزر گئی! غالباً 15 یا 16 اگست کو میں نے کشمیر کے سفر کا قصد کیا۔ کئی ہفتے سے بیمار تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا ’ کچھ دن مکمل آرام کرو‘۔ آرام کی [..]مزید پڑھیں

  • بیان مجہول اور ذکر ذاکر صاحب کا

    آج ارادہ ہے کہ ایک حقیقی بڑے آدمی کا ذکر کیا جائے۔ ہمارے ممدوح اتنے بڑے ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی شیخ الجامعہ ہوئے، برلن یونیورسٹی سے معاشیات میں امتیازی حیثیت سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ ہندوستان میں ایوان بالا کے رکن منتخب � [..]مزید پڑھیں

  • تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!

    برادر بزرگ نے ایک پائے کا کالم باندھا ہے۔ ’واٹر لو تو ہو چکا‘۔ حضرت نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع کے پس منظر میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی تصویر کھینچتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست کی خارجہ کامیابیوں کے نتیجے میں تحریک انصاف کے بیانیے کا � [..]مزید پڑھیں

  • مختار صدیقی: کس خرابے میں مجھے چھوڑ گئی درباری

    مختار الحق صدیقی نام تھا۔ ہر نام آخری تجزیے میں ایک جیتے جاگتے، دوستیاں گانٹھتے، خواب دیکھتے، تصویر بناتے اور شعر میں نکتہ آفرینیاں کرتے کردار سے ایک خبر اور پھر ماضی کا ایک دھندلا نشان بن جاتا ہے جو جنریشن زی کے بابا لوگ کے لیے گزشتہ صدی کا کوئی اردو میڈیم حوالہ اور کبھی کبھی � [..]مزید پڑھیں

  • کچھ باتیں حفیظ ہوشیار پوری کی

    شیخ عبدالحفیظ سلیم نام تھا۔ حفیظ ہوشیار پوری کے نام سے جانے گئے ۔ قصبہ جھنگ کے قریب موضع دیوان پور میں 5جنوری 1912 کو جنم لیا۔ اکسٹھ برس اور پانچ دن بعد 10جنوری 1973کو جناح اسپتال کراچی میں رخصت ہوئے۔ اس وقفہ گل میں غزل کہی۔ بدن چھریرا، رنگ سانولا، وضع مغربی، طبع مشرقی۔ براقیِ طبع � [..]مزید پڑھیں

  • ہماری صحافت اور اہل دانش کا تاریخی کردار

    حنا آرنٹ بیسویں صدی میں فلسفہ سیاست پر اثر انداز ہونے والی موثر ترین آوازوں میں شمار ہوتی ہیں۔ 1906 میں پرشیا کی جنگجو ثقافت میں آنکھ کھولنے والی یہودی نژاد حنا آرنٹ کے لیے نازی اقتدار میں جینا مشکل ہو گیا تو وہ 1941 میں امریکا پہنچ گئی۔ امریکاپہنچ کر حنا آرنٹ نے اپنی اہم ترین کتا [..]مزید پڑھیں

  • دور سے آتے ہوئے چیتے کی بو

    7اپریل 2026 اور جنوبی ایشیا میں دن کے ابتدائی گھنٹے ہیں۔ ہمارے ہمسائے میں مکمل تباہی اور اس کے ناقابل پیش گوئی نتائج کی دھمکی میں بمشکل چند گھنٹے باقی ہیں۔ ان سطروں کی اشاعت تک آگ کے شعلے دنیا کے خدوخال بدل ڈالیں گے۔ اور اگر عقل و خرد کی پکار پر کان دھرے گئے تو بھی غالب امکان یہ ہے � [..]مزید پڑھیں