وجاہت مسعود

  • معیشت اور سیاست: بہار اور خزاں کا پنڈولم

    رواں برس کے آغاز میں پاکستان سیاسی بے یقینی، معاشی دلدل اور سفارتی تنہائی کے سہ جہتی بحران سے دوچار تھا۔ عام آدمی سے لے کر اہل دانش تک سبھی مایوسی کا شکار تھے۔ نئے مالی سال میں کچھ امید افزا اشارے سامنے آئے ہیں۔ آئی ایم ایف سے آئندہ تین برس کیلئے قریب سات ارب ڈالر کی اعان [..]مزید پڑھیں

  • دھونکل شریف کا مرید اور اقبال احمد کی نصیحت

    خطہ پاکستان بالخصوص منطقہ پنجاب تاریخ انسانی میں فروغ شرافت کے لئے جانے جاتے ہیں۔ اس وادی سرسبز و آب شیریں میں ہر دوسرا قصبہ اور ہر تیسرا گائوں ’شریف‘ کے لاحقے سے متصف ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکپتن شریف نامی قصبے کے مرجع خلائق ہونے کے اسباب تو آپ جانتے ہیں۔ کچھ علمائے تا [..]مزید پڑھیں

  • ڈی چوک میں لال گلاب کا تختہ

    لکھنے والے بھی عجیب مخلوق ہوتے ہیں۔ ایک ہی وقت میں کئی دنیاؤں میں بسیرا کرنے والے نہ چاہتے ہوئے بھی گلی کوچوں میں بسنے والی سادھارن مخلوق سے الگ کسی کھپریل کے نیچے جا بیٹھتے ہیں۔ کوئی ٹکسالی گیٹ کے حجرے میں جا بیٹھتا ہے تو کوئی دریا کے کنارے کسی بے آباد عبادت گاہ کے خاموش کون� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • کوئی سکھ دا سنیہا آیا؟

    پنجابی زبان میں عنوان باندھا ہے۔ نسرین انجم بھٹی حیات ہوتیں تو نہال ہو جاتیں۔ مفہوم سادہ ہے کہ کہیں سے کوئی خوشی کی خبر آئی؟ صحافت مگر وحشی صفت پیشہ ہے۔ اساتذہ نے خبر کی تعریف یہ باندھی کہ اس میں کچھ نحوست، ملال یا کم از کم خرق عادت پہلو پایا جائے۔ بزرگوں کا احترام بر چشم ما ل [..]مزید پڑھیں

  • ان دیکھی منجدھاریں اور انجان مانجھی

    یونہی ماضی کے کچھ گھاؤ دیکھنا چاہے تھے، تاریخ کی نمائش گاہ میں کچھ بے پرکھی پتواروں کا تذکرہ تھا۔ بات ابھی عالمی جنگ کے اختتام پر برطانوی ہند کی سیاست کے ان برسوں تک پہنچی تھی جہاں، ’دونوں وقت آن ملا کرتے ہیں دم بھر کے لئے‘ ۔ ایسے میں ایک مہربان نے بلمپت کے انترے میں بے ج [..]مزید پڑھیں

  • ایک انسان کی زندگی اور مبتدی تاریخ دان

    گزشتہ اظہاریے میں ہندوستان پر برطانوی تسلط کی تاریخ کے بارے میں چند سوال اٹھائے تھے۔ یہ اشارہ مقصود تھا کہ دونوں ملکوں میں تقسیم کے بعد پیدا ہونے والی نسلیں تاریخ کا نامکمل اور گمراہ کن تصور رکھتی ہیں۔ اخباری کالم ایک مشکل صنف ہے۔ لفظوں کی تعداد طے ہے اور حقائق سے انحراف کی و� [..]مزید پڑھیں

  • ویکلاف ہیول کا ڈرامہ ’یادداشت‘ اور دیگر فتنے

    ’پاکستانی ادب میں مزاحمتی روایت‘ پڑھا رہا ہوں۔ حبیب جالب پر بات میانی افغاناں (ہوشیارپور) سے شروع ہوئی۔ ایوب خان کی آئینی عنایت پر لکھی نظم ’دستور‘ پڑھی گئی۔ گفتگو بے ارادہ سنجیدہ ہو رہی تھی۔ گزشتہ لیکچر میں فیروز الدین منصور پر فیض صاحب کا غزل نما مرثیہ ’تیرے [..]مزید پڑھیں

  • معلق محل سے آتی صدائیں

    کہانی ختم نہیں ہوتی، کہانی کہنے والے کو کسی موڑ پر خاموش ہونا پڑتا ہے۔ جیسے ہم سب کو، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ سردیوں کی کہر زدہ شام ہو گی یا موسم گرما کی صبح میں پھیلتی ہوئی دھوپ، ایک روز خاموش ہونا ہے۔ ہماری چپ سے دنیا کا شور ختم نہیں ہو گا۔ بچے بستہ اٹھائے روزانہ کی طرح � [..]مزید پڑھیں

  • اندھیرے کنویں میں اترتی سیڑھیاں

    محض ماہ و سال کا حساب ہوتا تب بھی اکرام اللہ لمحہ موجود میں بزرگ ترین اردو فکشن نگار قرار پاتے۔ اسد محمد خان 1932 اور محمد سلیم الرحمن 1934 میں پیدا ہوئے تھے۔ اکرام اللہ جنوری 1929 میں جالندھر کے قصبے جنڈیالہ میں پیدا ہوئے۔ 1961 میں اکرام اللہ کی پہلی کہانی ’اتم چند‘ ادب لطیف میں [..]مزید پڑھیں

  • منحرف شہری کا رضاکارانہ اعتراف

    آج کچھ دل کی باتیں کرتے ہیں۔ مجھے کرہ ارض کے اس ٹکڑے پاکستان پر رہتے چھ دہائیاں ہونے کو ہیں۔ میں نے ’رہنے‘ کا لفظ لکھا ہے، ’بسنے‘ کا ذکر نہیں کیا۔ رہنے اور بسنے میں باریک سا فرق ہے۔ ’بستیاں بسنے کو لازم ہے کہ دو چار رہیں، دہر کو کوچہ دلدار سمجھنے والے‘۔ میری مد� [..]مزید پڑھیں