وجاہت مسعود

  • خواب زلیخا کا طلسم اور دام بردہ فروش

    ہمارے عہد میں چار شاعر ایسے گزرے جنہیں خود نمائی ، شہرت ، ادبی گروہ بندیوں اور دنیائے رنگ و بو میں نمود سے غرض نہیں تھی۔ مجید امجد، مختار صدیقی، عزیز حامد مدنی اور محبوب خزاں۔  آج رائے پور کے عزیز حامد مدنی یاد آرہے ہیں۔ 1922میں پیدا ہونے والے عزیز حامد مدنی نے انگریزی ادبی� [..]مزید پڑھیں

  • گھونسلہ جلانے والے

    سعدی شیرازی بھی کیا نادر روزگار ہستی تھے۔ بعد از وفات تربتِ ما در زمیں مجو / در سینہ ہائے مردمِ عارف مزارِ ما۔ آپ سے تو درویش کا کیف و کم پوشیدہ نہیں۔ فارسی کجا، بندہ تو مادری زبان پنجابی ڈھنگ سے نہیں جانتا۔ اردو کی تحصیل میں پچاس برس گزرے۔ اگلے روز سید شاہد بخاری (روز نامہ جن� [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے گناہ عورتیں کیوں ڈھوئیں؟

    اچھا خاصا مشاعرہ جم رہا تھا۔ قومی تشکیل میں قرارداد مقاصد کی سبز قدمی کا بیان مقصود تھا۔ شمع ابھی قبلہ شبیر احمد عثمانی کے رخ انور کی بلائیں لے رہی تھی۔ تشبیب کی موج ہوائے واقعہ کے ہلکوروں میں دلیل قائم کر رہی تھی کہ گریز نے یوں دخل اندازی کر کے محفل برہم کر دی جیسے کوئٹہ کے لٹ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جلال الدین رومی کی بانسری کیا کہتی ہے؟

    واقعہ اور حکایت میں رشتہ اتنا ہی قدیم، پراسرار اور بامعنی چلا آ رہا ہے جتنا صاحب اقتدار کے مفاد اور اہل شہر پر گزرنے والی افتاد میں تعلق رہا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ مہاتما بدھ نے بھوساگر میں تیرتی مچھلیوں اور جنگل پر اترے پت جھڑ میں گرے پیلے پتوں سے ہاتھ آنے والے حکیمانہ نکات [..]مزید پڑھیں

  • درویش کے دانت نمائشی ہو گئے

    تنویر جہاں اور درویش میں تعلق در بارہ اعلان بازار چھتیس برس سے تجاوز کر گیا۔ اب رائے، خیال اور زاویہ نظر میں فاصلہ اس قدر بڑھ گیا ہے جو پنجند کے مقام پر پنجاب کے پانچ دریاﺅں کے پاٹ کے برابر ہوتا ہے۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک حد نظر جواب دے جاتی ہے مگر دریا تو وہی ہیں اور یہ کہ [..]مزید پڑھیں

  • سید حیدر تقی: وہ یادگارِ کمالاتِ شہر امروہہ

    ادارہ جنگ کے انگریزی روزنامے سے 1991 کے ابتدائی مہینوں میں وابستگی ہوئی تھی۔ پاؤں میں ایک چکر تھا، زنجیر نہیں تھی۔ ملک کے حالات دگرگوں تھے۔ حکومتیں آج ہی کی طرح حباب بر آب بلا خیز تھیں۔ کبھی خسروان نادیدہ کے اشارہ ابرو پر زیر و زبر ہو جاتی تھیں تو کبھی دل بے خبر کو درون سینہ کوئی آ [..]مزید پڑھیں

  • رحمن اینڈ رحمن: دھوپ کا ٹکڑا اور بادل کی چھاؤں

    شہر تو سب پیارے ہوتے ہیں، زمین کو آسمان سے ملاتی ہوئی لکیر پر اونچی نیچی مانوس عمارتیں، کہیں برسوں سے خاموش کھڑے پیڑ جن کے نیچے کسی تیز رفتار فلم کے منظر کی طرح بے نیازی سے گزرتے چہرے۔ کہیں ٹھنڈے پانی کے شفاف دھارے، کہیں وسیع شاہراہیں، کہیں بل کھاتی گلیاں، آوازوں سے گونجتے گلیا [..]مزید پڑھیں

  • چیت کے دکھ کون گن سکتا ہے؟

    غالب اچھے رہے، سیدھے سیدھے بتا دیا کہ دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار نیز یہ کہ چراغاں کا اہتمام بے معنی ہو چکا کیونکہ کارفرما جل چکا ہے۔ یہ خبر لاہور کی شہری انتظامیہ کو نہیں پہنچی، برسوں سے ان مہینوں میں جشن بہاراں کے عنوان سے جیل روڈ کے ایک پارک نما باغ میں چند اجاڑ د� [..]مزید پڑھیں