وجاہت مسعود

  • چیت کے دکھ کون گن سکتا ہے؟

    غالب اچھے رہے، سیدھے سیدھے بتا دیا کہ دل نہیں ورنہ دکھاتا تجھ کو داغوں کی بہار نیز یہ کہ چراغاں کا اہتمام بے معنی ہو چکا کیونکہ کارفرما جل چکا ہے۔ یہ خبر لاہور کی شہری انتظامیہ کو نہیں پہنچی، برسوں سے ان مہینوں میں جشن بہاراں کے عنوان سے جیل روڈ کے ایک پارک نما باغ میں چند اجاڑ د� [..]مزید پڑھیں

  • دریائے دل کی روانی اور خوابِ بہارِ جاوداں

    میر تقی میر نے کیا دماغ پایا تھا۔ ایک ہی وقت میں فریب وجود کا احاطہ بھی پیش نظر ہے اور موجود کی قدر پیمائی میں بھی آنکھ تہ در تہ جاتی ہے۔ جس زمین میں ’لوگ کچھ جمع آن ہوتے ہیں‘ جیسی نقد کہی، اسی میں ’میر و مرزا رفیع و خواجہ میر‘ جیسے لعل و گہر بھی گنوا دیے۔ اندوہ دروں تو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ناقہ لیلیٰ، اندھیری رات اور تاریخ کا اندھا موڑ

    گزشتہ اظہاریے میں ایک جملہ لکھا کہ ’پاکستان کی ریاست اگست 1991 کے سوویت یونین میں کھڑی ہے۔ سابق ہیئت مقتدرہ اور موجودہ ریاستی بندوبست میں خلیج پیدا ہو چکی ہے‘۔ ملفوف اشارہ تھا مگر پڑھنے والے کی نگہ تیز بین سے خبردار رہنا چاہیے۔ ایک عزیز محترم نے اسی بیان پر انگلی رکھ کر وض [..]مزید پڑھیں

  • شبیر احمد عثمانی۔ خواب اور وصیت کے درمیاں

    درویش نے ہماری موجودہ سیاسی بے ترتیبی کے ذکر میں برسبیل تذکرہ قرار داد مقاصد اور لیاقت علی خان کا ذکر کرتے ہوئے مولانا شبیر احمد عثمانی مرحوم کا حوالہ دیا تو ایک محترم بھائی کو سخت اختلاف ہوا۔ اپنے رد عمل میں انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ قائداعظم نے وصیت کی تھی کہ مولانا شبیر اح [..]مزید پڑھیں

  • ہوا کا دباؤ اور دباؤ کی دیگر اقسام

    سکول کے ابتدائی درجوں میں سائنس اور ریاضی کے نام پر جو پڑھایا گیا، بالکل یاد نہیں۔ اساتذہ بہت اچھے اور شفیق تھے۔ مشکل یہ تھی کہ وہ خود سائنس اور ریاضی سے نابلد تھے۔ کتاب میں جو لکھا تھا، اسے بار بار دہرانے اور حفظ کروانے کی کوشش کی جاتی تھی۔ ایک جگہ ریاضی کی کتاب میں لکھا تھا، � [..]مزید پڑھیں

  • پھر برق فروزاں ہے سر مارگلہ کوہسار….

    شہباز شریف کو وزارت عظمیٰ کا حلف اٹھائے ابھی چار ہفتے مکمل نہیں ہوئے۔ اس مختصر عرصے میں معیشت، خارجہ امور، قومی سلامتی اور سیاسی منظر پر بہت کچھ بدل گیا ہے۔ نئی حکومت کو فوری طور پر 24 ویں مرتبہ آئی ایم ایف کے پاس جانا تو طے تھا کہ لیکن آئی ایم ایف ذرائع کے مطابق ابھی تو گزشتہ پر [..]مزید پڑھیں

  • آوازوں کا رزق اور شہر میں قحط صدا

    چالیس برس پہلے 20 نومبر 1984 کو فیض صاحب کا انتقال ہوا تو مجید امجد کے بعد ہمارے غالباً سب سے بڑے اردو نظم گو اختر حسین جعفری نے ایک نہایت دل گداز نوحہ لکھا تھا۔ جعفری صاحب کی ذہنی افتاد ترقی پسند، انصاف پسند اور آمریت دشمن تھی لیکن ان کا شعری سانچہ جدید عالمی شعریات کے اجزا سے مرتب [..]مزید پڑھیں

  • استاد گرامی مجیب الرحمٰن شامی کی تادیب

    برادر عزیز یاسر پیرزادہ علی الصباح دریافت کرتے ہیں کہ آپ نے استاذ الاساتذہ مجیب الرحمن شامی کا کالم دیکھ لیا۔ کیا عرض کرتا۔ ہمارا اپنا ادارتی صفحہ اب سہیل وڑائچ، سلیم صافی اور حامد میر کے طفیل چھپتا ہے۔ یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا۔ محض یہ سمجھنے کے لئے دیکھ لیتا ہوں کہ آج کس [..]مزید پڑھیں

  • فارسی پنجاب کے کھیتوں میں دوڑائی گئی

    قابل اجمیری اگست 1931 میں راجستھان کے قصبہ اجمیر میں پیدا ہوئے۔ بچپن درگاہ خواجہ معین الدین چشتی کے نواح میں گزرا۔ گوش سماعت کی تربیت کا سامان موجود تھا۔ فہم سخن کے مقامات طے کر رہے تھے کہ ملک تقسیم ہو گیا۔ قابل اجمیری لکیر کے اس طرف حیدر آباد میں آن آباد ہوئے۔ شعر کے ہنر کو سین� [..]مزید پڑھیں