وجاہت مسعود

  • کچھ خبر اور صحافت کے بارے میں

    اخبار کی صحافت آخری دموں پر ہے۔ رواں صدی کے آغاز پر نجی ٹیلی ویژن چینلز نے سرکاری نشریات کے ملبے سے برآمد ہونے والی نانک شاہی اینٹوں سے جو عمارت اٹھانا چاہی تھی، وہ عدلیہ بحالی کی تحریک میں کارفرما پس پردہ عناصر کے ہاتھوں منہدم ہو گئی۔ سرکار دربار کے بقراطوں نے نجی ٹیلی ویژن � [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت کی آزمائش کے دن

    اکتوبر 1826 میں غالب کانپور کے راستے لکھنو پہنچے۔ غازی الدین حیدر اودھ کے بادشاہ تھے اور معتمد الدولہ آغا میر ان کے وزیر اعظم۔ شعرا کی سرپرستی کے شائق آغا میر نے غالب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ غالب نے امام بخش ناسخ کے مشورے سے آغا میر کی شان میں قریب سو اشعار کا قصیدہ لکھا مگر آغ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • رائے عامہ کے نام پر رائے مخصوصہ

    ایک ہم عصر نے پاکستان میں موجودہ رائے عامہ کے بارے میں کچھ گل افشانی کی ہے۔ اس پر کچھ عرض و معروض کرنا ہے لیکن ساغر کہنہ کا ذکر کیے بغیر تناظر واضح نہیں ہو سکے گا۔ فردوسی اسلام، شاعر پاکستان اور قومی ترانے کے خالق محمد حفیظ المتخلص بہ حفیظ جالندھری بیسویں صدی کے آغاز پر جالندھ� [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت سے خوف کھانے والے

    واللہ! ہماری دعا بھی گویا اسپن باؤلر کی بہت محنت سے نکالی ہوئی گیند بن گئی ہے، جارح مزاج بلے باز کو غچہ دینے میں کامیاب ہو بھی جائے تو وکٹوں کو چھونے سے انکار کر دیتی ہے۔ اکثر تو عقاب کی طرح لپکتا وکٹ کیپر بھی چکمہ کھا جاتا ہے اور گیند عقبی منطقے میں لڑھکتی ہوئی باؤنڈری پار کر ج [..]مزید پڑھیں

  • کچھ ضمیر کی موقع شناسی کے بارے میں

    فضا میں اگرچہ آلودگی کی سطح بدستور بلند ہے لیکن بکرمی تقویم میں 2080 کا موسم سرما دو خوش رنگ پرندوں کی لاہور کے چشمہ حیواں کے کنارے آمد کی نوید لایا ہے۔ احمد مشتاق نے 1982 میں اول اول ترک وطن اختیار کیا تھا۔ کچھ برس آمد و رفت کا سلسلہ چلا۔ بالآخر 1992 میں امریکا میں مستقل قیام ہی طے پ [..]مزید پڑھیں

  • کیا مریم نواز صحافی ہیں؟

    اصحاب دانش سے یہی خدشہ تھا۔ عنوان دیکھتے ہی بیشتر مہربانوں کا خیال مسلم لیگ کی رہنما مریم نواز کی طرف گیا اور کسی قدر حیرانی سے سوچتے ہوئے کہ مریم نواز کو صحافی بننے کی کیا ضرورت ہے۔ درجنوں صحافی ان کے اشارہ ابرو پر قرطاس سیاہ کرنے کی آرزو سینوں میں دبائے پھرتے ہیں۔ غریب صحاف� [..]مزید پڑھیں

  • پرندوں کی واپسی اور دھوپ کے ٹکڑے

    جھوٹی سچی، الم ناک اور مضحکہ خیز خبروں کے ریلے میں ایک خوش کن خبر ایسی ہی ہے، جیسے لشکر غنیم کے سموں تلے تاراج کھیتی میں جہاں تہاں بچ رہنے والی گندم کی بالی۔ احمد مشتاق پاکستان تشریف لائے ہیں۔ اب اگر کسی بچہ شتر نے پوچھ لیا کہ احمد مشتاق کون ہیں؟ تو درویش جواب نہیں دے سکے گا۔ سو [..]مزید پڑھیں

  • یہ اشتہاری کالم نہیں ہے

    دلی کے خواجہ حسن نظامی عمر میں علامہ اقبال سے دو چار برس ہی خورد تھے لیکن مزاج میں کئی نوری سال کا فاصلہ تھا۔ علمی زاویے سے دیکھنا ہو تو اقبال اور خواجہ حسن نظامی میں وہی فرق تھا جو پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ اور پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کے حصے میں آیا۔ حالیہ سیاسی تناظر میں سم� [..]مزید پڑھیں

  • اترائے ہوئے لوگوں کا شہر

    پت جھڑ کی رت ہے، بارش کا نشان نہیں۔ آلودہ دھند نے آسمان سے ابتدائی سرما کی روپہلی دھوپ چھین لی ہے۔ آنکھ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر ایک نامعلوم پرچھائیں کی چادر تنی ہے۔ بصیرت کا دامن تو مدت ہوئی تار تار ہو چکا، بصارت کا دائرہ بھی چشم حسود کی طرح تنگ ہو رہا ہے۔ صحا� [..]مزید پڑھیں