وجاہت مسعود

  • تخت سے عیسیٰ کب اترے گا؟

    چھ مارچ 2024، بروز بدھ، پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں آویزاں گھڑی پر صبح کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔ ٹھیک 44 برس اور گیارہ ماہ قبل چھ فروری 1979 کے روز اسی عدالت کے ایک سات رکنی بنچ نے چار / تین کے منقسم فیصلے سے نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل میں ذوالفقار علی بھٹو کی سزائے موت کے خلاف اپی [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے ہنر کا کوئی مول لگانے والا بھی نہیں

    ہمارے سیاسی رہنما اور خودساختہ قائدین قوم اٹھتے بیٹھتے ہمیں بتا رہے ہیں کہ ہمارا بنیادی قومی مسئلہ معیشت ہے۔ بات باون تولے پاؤ رتی درست ہے لیکن یہ کوئی نہیں بتاتا کہ ہماری معیشت کی نوعیت دراصل ہے کیا؟ الحمد للہ آج پاکستان کی آدھی سے زیادہ آبادی 1992 میں پیدا نہیں ہوئی تھی۔ تب م� [..]مزید پڑھیں

  • قوم، ملک، سلطنت: علی عثمان قاسمی کا فرض کفایہ

    قیام پاکستان کے فوراً بعد تاریخ نویسی نے بٹوارے کے تناظر میں خاص اہمیت حاصل کرلی تھی۔ یہ محض زمین پر کھینچی گئی لکیر یا مالی اور عسکری اثاثوں کی تقسیم کا سوال نہیں تھا۔ دونوں نوآزاد ممالک کو ایک ہزار سالہ تاریخ کے ملبے سے اپنی ثقافتی میراث، تمدنی روایت، تاریخی بیانیہ اور مخصوص [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اشتعال کے یرغمالی پناہ مانگتے ہیں

    حالیہ انتخابات کے دوران خیبر پختونخوا میں طالبان عناصر کا کردار ایک طرف، 8 فروری 2024 کے بعد تین اہم واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان واقعات کا زیر خط پیغام ایک دوسرے سے جڑا ہے۔ چیف جسٹس محترم قاضی فائز عیسیٰ بوجوہ پاکستان تحریک انصاف کے نشانے پہ ہیں۔ حسن معاویہ نامی شہری نے 2022 میں کس� [..]مزید پڑھیں

  • نذیر ناجی: چشم تر سے ادھر اور سمندر کے پار

    اکیس فروری کی شام تھی۔ محترمہ یاسمین حمید کا انٹرویو کرنا تھا۔ لاہور کی نہر پہ جیل روڈ کے انڈر پاس سے گزر رہا تھا۔ فون کی گھنٹی بجی۔ تنویر جہاں کا نام تھا۔ فون اٹھایا۔ مختصر پیغام تھا ’نذیر ناجی نہیں رہے‘۔ گویا کسی نے بدن کے حساس حصے پر نشتر چبھو دیا ہے۔ آنسو میری آنکھوں � [..]مزید پڑھیں

  • مرید پور کا پیر اور جرمن چانسلر کی کہانی

    مرحوم احمد شاہ پطرس بخاری کے مضمون ’مرید پور کا پیر‘ کو ان کا بہترین فن پارہ نہیں کہہ سکتے۔ اس لیے کہ اردو مزاح کی بائبل ’پطرس کے مضامین‘ میں کل گیارہ تحریریں ہیں اور کسی ایک تحریر کو بہترین قرار دینا اعتراف بدذوقی کے مترادف ہے۔ یوں ہے کہ اوائل اپریل میں پڑنے والی ا� [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ کا جبر اور معیشت کی منطق

    برادرم یاسر پیرزادہ نے فکاہیہ کالم سے قلمی سفر شروع کیا تھا۔ علم ان کے شجرے میں ہے۔ بے پناہ ذہانت کو ناقابل یقین محنت سے صیقل کیا ہے۔ نتیجہ یہ کہ چھتنار برگد کے سائے میں سر اٹھانے والے اس پودے نے اپنا ایک رنگ پیدا کیا۔ پھر یوں ہوا کہ وطن عزیز پر دہشت گردی کی آفت اتری۔ سارتر نے ک� [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت ایک مسلسل امتحان ہے

    عام انتخابات کے بعد حکومت سازی کا مرحلہ درپیش ہے۔ حسب توقع 8 فروری کو ایک منقسم قوم کا منقسم مینڈیٹ سامنے آیا ہے۔ سندھ میں پیپلز پارٹی کو واضح اکثریت ملی ہے۔ پنجاب میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔ مسلم لیگ نواز سنگل لارجسٹ پارٹی بن کر ابھری ہے لیکن نواز شریف کے بیشتر قریبی رفقا شکست کھ [..]مزید پڑھیں

  • انتخاب 2024 : آنکھ اور شہر دونوں دھندلا گئے

    8فروری 2024 بالآخر جمہوریت کی شاہراہ پر دھول اور غبار کے دبیز منطقے چھوڑ گیا ہے۔ ہماری انتخابی تاریخ میں یہ کوئی اچنبھا نہیں۔ دسمبر 70 کے انتخابات کا نتیجہ ماننے سے انکار کرکے ملک دو لخت کیا گیا تھا۔ 77کے انتخابات گیارہ سالہ آمریت کی وعید لائے تھے۔ 1985 کے غیر جماعتی انتخابات سے دولت [..]مزید پڑھیں

  • سنہ 1958: آٹھ ستمبر سے آٹھ دسمبر تک

    آٹھ فروری 2024 کا سورج طلوع ہونے میں چند گھنٹے باقی ہیں۔ عنوان میں آٹھ فروری کی بجائے ستمبر اور دسمبر نظر آنے پر آپ کی حیرت بے جا نہیں۔ لکھنے والا دراصل 18 فروری 2008سے 8 فروری 2024 کے بیچ گزرے 16 برس کا آشوب لکھنا چاہتا ہے۔  18 فروری 2008 کو منعقد ہونے والے انتخابات کے نتائج کا پہلے سے ط [..]مزید پڑھیں