وجاہت مسعود

  • نومید ہم مباش کہ رندان بادہ نوش

    حافظ شیرازی کے اس مصرع کا مفہوم یہ ہے کہ ہم رندان بادہ خوار سے مایوس مت ہونا۔ مصرع ثانی بھی مع ترجمہ عرض کرتا مگر ایک یار طرح دار ونیز بد اطوار کا ذکر حائل ہو رہا ہے۔ شیراز راج میرا قدیمی دوست ہے۔ صاحب علم ہے۔ مگر ایسا دوست دار دشمن ہے کہ ایک جملے میں طبع حساس کے ٹکڑے اڑا کے رکھ دے� [..]مزید پڑھیں

  • مریض عشق پر رحمت خدا کی

    خیال ایک چلبلا پرندہ ہے۔ کب اڑان بھر کے کسی پیڑ کی پھننگ پر جا بیٹھے اور کب کسی گھنی جھاڑی میں یوں اوجھل ہو جائے کہ ڈھونڈنے پر نشان تک نہ ملے۔ دو بظاہر مختلف سانحوں پر کالم لکھنا ہے۔ کوئٹہ میں جعفر ایکسپریس پر دہشتگردوں کے خود کش حملے میں دو درجن سے زیادہ قیمتی جانوں کا زیاں قو [..]مزید پڑھیں

  • ساگوان کی کرسی اور سرمائی خواب

    عبداللہ حسین کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’نشیب‘1981 میں ’قوسین‘ سے شائع ہوا۔ اس مجموعے میں ایک مختصر سا پیش لفظ بھی شامل ہے جسے پطرس کے مضامین کے بعد اردو کے مختصر ترین دیباچوں میں شمار کرنا چاہیے۔ عبداللہ حسین کے مطابق یہ پیش لفظ محترم ریاض احمد کے اصرار پر لکھا گیا ت� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • آمریت اور بگولوں کی نقصان آور فصل

    اپریل 1957 میں پاکستان کا پہلا دستور نافذ ہوئے ایک برس گزرا تھا۔ حسین شہید سہروردی ستمبر 1956 سے وزیراعظم تھے تاہم صدر اسکندر مرزا فوج کے سربراہ ایوب خاں کے ساتھ نادیدہ گٹھ جوڑ کے ذریعے 1951سے ملک کے سیاہ و سفید کے مالک تھے۔ علامہ اقبال کے فرزند جاوید اقبال اپنی خودنوشت سوانح ’ا [..]مزید پڑھیں

  • صنفی مساوات اور ہرزہ سرائی کا مقبول بیانیہ

    اہل مشرق پندرہویں صدی عیسوی میں چھاپہ خانے کی ایجاد کے بعد سے اس انقلاب سے منقطع ہو گئے جسے معروف اصطلاح میں نشاة ثانیہ کہا جاتا ہے۔ صوت کو بامعنی ابلاغ یعنی زبان تخلیق کرنے کے بعد نسل انسانی کی سب سے انقلابی کاوش چھاپہ خانہ کی ایجاد تھی۔ علم کے جو ذخائر ہاتھ سے لکھے مخطوطوں ک� [..]مزید پڑھیں

  • ایک سارجنٹ اور دو وائس چانسلر

    دوسری عالمی جنگ ختم ہوئی تو یورپ کے بیشتر ممالک ملبے کا ڈھیر تھے۔ پانی اور بجلی سمیت بنیادی ضروریات کا نظام درہم برہم تھا۔ سڑکیں باقی تھیں اور نہ پل سلامت تھے۔ ایسے میں امریکا نے مغربی یورپ کے سترہ ممالک کی معاشی تعمیر نو کے لیے اپریل 1948 میں 13.3 ارب ڈالر کا چار سالہ امدادی پروگ� [..]مزید پڑھیں

  • ڈاکٹر ذاکر حسین جالندھر اسٹیشن پر

    (گزشتہ سے پیوستہ) اگست 47 میں جالندھر اسٹیشن پر جو گزری، اس کا حال کیا لکھوں۔ مختصر یہ کہ قید حیات سے رہائی کی ایک صورت نکلی تھی وہ بھی یوں ہی گزر گئی! غالباً 15 یا 16 اگست کو میں نے کشمیر کے سفر کا قصد کیا۔ کئی ہفتے سے بیمار تھا۔ ڈاکٹروں نے کہا ’ کچھ دن مکمل آرام کرو‘۔ آرام کی [..]مزید پڑھیں

  • بیان مجہول اور ذکر ذاکر صاحب کا

    آج ارادہ ہے کہ ایک حقیقی بڑے آدمی کا ذکر کیا جائے۔ ہمارے ممدوح اتنے بڑے ہیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی شیخ الجامعہ ہوئے، برلن یونیورسٹی سے معاشیات میں امتیازی حیثیت سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر رہے۔ ہندوستان میں ایوان بالا کے رکن منتخب � [..]مزید پڑھیں

  • تم یہ کہتے ہو وہ جنگ ہو بھی چکی!

    برادر بزرگ نے ایک پائے کا کالم باندھا ہے۔ ’واٹر لو تو ہو چکا‘۔ حضرت نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی تنازع کے پس منظر میں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی تصویر کھینچتے ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ موجودہ سیاسی بندوبست کی خارجہ کامیابیوں کے نتیجے میں تحریک انصاف کے بیانیے کا � [..]مزید پڑھیں