وجاہت مسعود

  • دل محرر ہے…

    دریاؤں کے رنگ نیارے ہیں۔ اونچے پہاڑوں کی بل کھاتی ترائیوں سے کہیں جھرنے اور کہیں چشمے کی صورت نکلتی آبی لکیریں ناچتی گاتی میدانوں کی جانب بہتی ہیں۔ پاکستان تو وادی سندھ ہے۔ دریائے سندھ قراقرم کے جنوب میں گلگت کے راستے پاکستان میں داخل ہوتا ہے۔ کالا باغ سے قریب ایک سو کلومیٹ� [..]مزید پڑھیں

  • اور اک سال گیا۔۔۔

    آج دسمبر کا آخری دن ہے۔ آج محض 2025 کا برس ختم نہیں ہوا، ایک ربع صدی مکمل ہوئی ہے۔ اس عرصے میں زمانے نے کیا رنگ بدلے، علم کی کون سی منزلیں طے کیں۔ سیاست کن گھاٹیوں سے گزری، معاشرت کے خد و خال کیسے بدلے، یہ سب ہم سے بہت دور کسی اجنبی سیارے کی باتیں ہیں۔ ہم پدر سوختہ، آوارہ نصیب تو د� [..]مزید پڑھیں

  • آب رواں کا خواب اور ناﺅ کی رائیگانی

    اقبال خوش قسمت تھے کہ اندلس کے قلب میں واقع شہر قرطبہ کے بیچوں بیچ بہتے دریائے وادی الکبیر کے کنارے ایک اور زمانے کا خواب دیکھ سکتے تھے۔ اقبال کی شاعری ایک تہ در تہ خواب کا پھیلاﺅ ہے۔ اقبال کے خواب کا ایک کنارہ لاہور میں ہے تو دوسرا سرا شمالی افریقہ کے منطقوں تک پہنچتا ہے۔ اقب� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دن گزرتے جا رہے ہیں

    گیارہ برس گزرے، 2014 میں پت جھڑ کے یہی دن تھے۔ ایک موقر انگریزی اخبار میں محترم اشرف جہانگیر قاضی نے 16 دسمبر کو ایک مضمون لکھا تھا۔ ابتدائی جملہ ہی ایسا کھنکتا ہوا ٹکسالی سکہ تھا کہ حافظے پر مرتسم ہو گیا۔ قاضی صاحب نے لکھا تھا: Fortunate is the country that has professionally “thinking” generals, but unfor [..]مزید پڑھیں

  • سوہنی کا بینڈ اور ہمارا سیاسی شعور

    بٹوارے سے پہلے ہندوستان کے کچھ شہروں نے رنگ و رامش میں نام پایا تھا۔ انگریز حکومت کا صدر مقام کلکتہ صحافت کا پہلا مرکز تھا۔ ہندوستان کا پہلا ریڈیو سٹیشن یہیں قائم ہوا۔ واجد علی شاہ اور گوہر جان نے یہاں راگ راگنی اور رقص کی چمن آرائی کی۔ پارسی سیٹھوں کے طفیل بنارس تھیٹر کا مرکز ب [..]مزید پڑھیں

  • رضی الدین رضی: یادداشت اور فراموشی کے درمیان

    (بھائی رضی الدین رضی کی کتاب ’رفتگان ملتان‘ کے تیسرے ایڈیشن پر یہ چند سطریں 18  اکتوبر 2025 کو ملتان آرٹس کونسل کے محترم ڈائریکٹر سلیم قیصر صاحب کے دفتر میں بیٹھ کر تحریر کی تھیں۔ ان میں رضی بھائی کی والدہ ماجدہ کا ذکر بھی آیا۔ تب معلوم نہیں تھا کہ رضی الدین رضی کی والدہ م [..]مزید پڑھیں

  • نی مائے سانوں کھیڈن دے

    ان دنوں درویش گزرے ہوئے زمانوں کی بار دگر سیر کی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ فیض حمید کو فوجی عدالت نے سیاسی سرگرمیوں میں ملوث ہونے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی، اختیارات اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال اور شہریوں کو مالی نقصان پہنچانے سے متعلق چار الزاما� [..]مزید پڑھیں

  • تجربہ گاہ اور پیڑ کی بربادی

    دریا کے کنارے کھڑے ہیں۔ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ دریا پار کر لیا ہے یا ابھی پانی میں پاؤں دھرا ہے اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ اس کے بعد ایک اور دریا کا سامنا ہو گا۔ ہم یونانی دیومالا کے دیوتا سسی فس کی آزمائش میں ہیں جسے سزا ملی تھی کہ بھاری پتھر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو پت� [..]مزید پڑھیں

  • جنگل نہیں، چمن بندی چاہیے

    انسانوں نے جنگل میں ان گنت صدیاں گزاریں اور پھر رہن سہن کے لئے بستیاں انتخاب کیں۔ اس لیے کہ جنگل میں طاقت کا قانون کمزور کے لئے ہر سانس میں خوف لیے تھا۔ بارش، طوفان، زلزلے، برفانی سردی اور جھلستی دھوپ جیسے مظاہر فطرت انسان کے اختیار سے باہر تھے۔ وسائل کی قلت ایک مستقل مسئلہ تھی� [..]مزید پڑھیں

  • خاک صحرا پہ لکیریں اور اختلافی نوٹ

    درویش نے انگریزی ادب اور قانون میں تعلیم پائی۔ تخلیق ادب سے معذور رہا۔ قانون کی تعلیم مکتبی تھی۔ اقتدار کی بے چہرہ گرفت اور فرد کی بے بسی کے پیچ و خم پڑھنے میں عمر رواں کی دھوپ گزر گئی۔ 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے مقدمہ قتل میں بھٹو صاحب کی اپیل مسترد کر دی۔ دو عورتیں اس عدالتی نا [..]مزید پڑھیں