وجاہت مسعود

  • شاہد محمود ندیم: ضمیر کا ناقابل اصلاح قیدی

    سلمان رشدی نے اپنے اولین ناول میں تقسیم ہند کے ارد گرد دونوں ملکوں میں پیدا ہونے والی نسل کو ”نیم شب کے بچوں“ کا نام دیا تھا۔ ناول میں نو آبادیاتی غلامی سے نجات کو ایک نئی دنیا کی پیدائش کی امید سے تعبیر کیا گیا تھا۔ میرے ملک میں رہنے والوں کو سرحد کے پرلی طرف ان امیدوں کی ت� [..]مزید پڑھیں

  • پہلے کچھ لوگ ہوا کرتے تھے

    یہ برس کچھ عجب رنگ سے نمودار ہوا ہے۔ دلوں کے حوصلے شل کرتا ہوا۔ یوں ہر برس فروری کے پہلے ہفتے کا انتظار رہا کرتا تھا۔ خزاں کی بے برگ شاخوں پر کونپلوں اور شگوفوں کی نمود سے خوابوں کو امید بخشتا ہوا۔ اس برس کیفیت بدل گئی ہے۔ آنکھ کو کچھ اور ہی اشارے مل رہے ہیں۔ پرانی صحبتیں یاد آ ر [..]مزید پڑھیں

  • یہ کون لوگ ہیں؟

    مولانا ابوالکلام آزاد کے بارے میں آغا حشر کی رائے ذاتی تعلق اور مشاہدے پر مبنی تھی۔ فرمایا ’آزاد ڈھیل کے پیچ لڑانے کا عادی تھا‘۔ یہ رائے نامکمل ہے۔ آغا حشر نے یہ نہیں بتایا کہ مولانا آزاد کنکوے سے پتنگ کا پیچ لڑاتے تھے اور ایک جملے میں حریف کا پیٹا کاٹ لیتے تھے۔  آزادی [..]مزید پڑھیں

loading...
  • جنریشن زی کو لبرل سے نفرت کیوں ہے؟

    رواں صدی میں پیدا ہونے والی پاکستانی نسل کا ناپسندیدہ ترین لفظ لبرل ہے۔ اگرچہ قوی گمان ہے کہ اس نسل کی اکثریت نہ تو اس اصطلاح کا مفہوم سمجھتی ہے اور نہ اپنی اس نفرت کا تاریخی پس منظر جانتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ 1999 سے قبل لبرل کا لفظ پاکستان کی سیاسی لغت کا حصہ ہی نہیں تھا۔ اکتوبر 199 [..]مزید پڑھیں

  • جنگ تہذیب نہیں، وحشت کا استعارہ ہے

    جنگ معصومیت، محبت، رشتوں، بستیوں، گلیوں، خوابوں اور ہنسی پر اترتے شعلوں کا ظلم ہے۔ موت کے سوداگروں کا مجرمانہ کاروبار ہے۔ میں نے جنگ کو پہلی بار اپنی ماں کی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ہندوستان کا بٹوارا ہوا تو ماں آٹھ یا شاید نو برس کی رہی ہوگی۔ یہ کہانی میں نے گرمیوں کی اندھیرے می� [..]مزید پڑھیں

  • سواد رومة الکبریٰ اور طمنچہ جان

    سرسید احمد خان کے محسن قوم ہونے میں کیا کلام ہے۔ انہوں نے قریب 75 برس بعد اس نکتے کو سمجھا اور حرز جان بنایا جو راجہ رام موہن رائے انیسویں صدی کی ابتدامیں سمجھ چکے تھے۔ راجہ رام موہن ہندوستانی شناخت، قومی خود داری اور جدید علوم کے اولین موید تھے۔ فرسودہ رسوم مثلاً بیوہ کی شادی کے [..]مزید پڑھیں

  • مذہبی سیاست کا المیہ اور جمہوریت

    جمہوریت میں دائیں اور بائیں بازو کے دھارے اپنی مخصوص ترجیحات سے قطع نظر جائز سیاسی رجحان کا درجہ رکھتے ہیں۔ تاہم مذہبی سیاست سے مراد ایسی سوچ ہے جو کسی مخصوص مذہبی شناخت کے تابع ہو اور اس ترجیحی مذہبی فکر کی معاشی اور قانونی بالادستی کو سیاسی نصب العین سمجھتی ہو۔ اگلے روز ایک [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ جگر فگاراں اور ترمیم زہد کی گھڑی

    2014  کا برس تھا۔ اپریل کی 22 تاریخ تھی۔ حامد میر پر قاتلانہ حملہ ہوئے دو دن گزرے تھے۔ اسی ادارتی صفحے پر بے خبر صحافی کا کالم شائع ہوا ’دشمن کے انتخاب میں غلطی‘۔ عرض کی تھی کہ صحافی کو نشانہ بنانے کی بجائے بندوقوں کا رخ وطن کو درپیش حقیقی خطرے کی طرف کیا جائے۔ شنید تھی کہ � [..]مزید پڑھیں

  • امین مغل کے نام ایک خط

    استاد من، برادر بزرگ، پروفیسر امین صاحب مغل، عالم ہمہ داں، تفقہ فی العصر، تفقہ فی السان، تفقہ فی الادب، حضرت بعد ایک طویل مدت کے اگلے روز فون پر آپ کی شفیق آواز گوش نواز ہوئی۔ آپ غالباً شفا خانے میں تھے۔ جس آواز نے عشرہ در عشرہ آئندگاں کو تاریخ کے پیچاک کا درس دیا تھا، سیاست کے [..]مزید پڑھیں