وجاہت مسعود

  • آئزن ہاور کی رحم دلی اور عمران خان کی سیاست

    لارڈ اسمے دوسری عالمی جنگ میں چرچل کے قریب ترین عسکری مشیر تھے۔ جنگ کے بعد نیورمبرگ ٹرائل شروع ہوا تو شکست خوردہ جرمن رہنماؤں کے خلاف فرد جرم میں حقیقی جرائم (مثلاً جنگی قیدیوں اور شہریوں کا قتل عام، نسل کشی، عقوبت خانے، شہری آبادیوں پر مظالم اور مقبوضہ علاقوں میں دانستہ تباہ � [..]مزید پڑھیں

  • میں بزدل کیسے ہوا؟

    1978 کا برس تھا۔ آئزک بیشواس سنگر کو ادب کا نوبل انعام ملا تھا۔ درویش ان دنوں پنجاب کے ایک قدامت پسند، نیم خواندہ قصبے میں ایسی نوجوانی سے گزر رہا تھا جیسے آج کل کچھ پرجوش نوجوان سلاخوں کے پار محبوس ہیں۔ منٹو نے باری علیگ کے خاکے میں اس آمادہ بہ جستجو کیفیت کو ایک جملے میں سمو دی� [..]مزید پڑھیں

  • خلا اور تعطل میں کیا فرق ہے؟

    عنوان میں تجرید کا عنصر کچھ زیادہ ہو گیا ہے۔ جیسا کہ ہماری آبادی کے پھیلاﺅ سے واضح ہے، ہم اجتماعی طور پر مجرد طبع نہیں ہیں۔ 3 کروڑ 40 لاکھ سے چلے تھے، شبانہ روز محنت اور یک نکاتی ارتکاز کی مدد سے 24 کروڑ 90 لاکھ کا ہندسہ عبور کر چکے ہیں۔ اس میں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی آبادی ہ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • دیار خواب میں طویل رات اور خاک آلود آنکھیں

    کچھ روز گزرے، اگست کی ایک حبس آلود شام تھی۔ شہر کی گہماگہمی سے دور بیٹھے دو عمر رسیدہ اور تھکے ہوئے جمہور پسند سپاہی اپنے سفر کے پیچ و خم کا تبادلہ کر رہے تھے۔ شیکسپیئر کی تمثیل کنگ لیئر کے آخری ایکٹ کا وہ حصہ تو آپ کو یاد ہو گا جہاں گلوسسٹر کا بیٹا ایڈگر اسے کنگ لیئر کی شکست اور [..]مزید پڑھیں

  • اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری

    اقبال کی عظمت سے کوئی کور مادر زاد ہی انکار کرے گا الا یہ کہ سنہ 1978 ہو، ضیا الحق کا عہد بے اماں ہو، اسلامی نظام کے نام پر قوم کا مردہ خراب ہو رہا ہو اور ہفت روزہ ’زندگی‘ میں عبدالغنی فاروق نامی کسی صحافی کی ایک تحریر اس مضمون کی شائع ہو کہ علامہ اقبال کے کلام سے مسلمہ دینی عق� [..]مزید پڑھیں

  • پرانی فائلوں میں کیا لکھا ہے؟

    غالب نے ’مقطع میں سخن گسترانہ بات‘ چلی آنے پر معذرت کی تھی۔ یہاں مشکل یہ ہے کہ کلام امروزہ کے لئے روئے سخن طے پا چکا تھا لیکن چرخ فلک نے مطلع ہی میں آن لیا۔ سو، پہلے اس سے نمٹ لیں۔ ٹھیک پانچ برس پہلے اگست کی 18 تاریخ تھی۔ صاحبان ذی قدر کے من بھاؤ نے عمران خان کو وزارت عظمیٰ ک [..]مزید پڑھیں

  • افغان پالیسی کے قبرستانی ہیولے (3)

    پاکستان کی افغان پالیسی پر تحریروں کے اس سلسلے کا مقصد محض یہ واضح کرنا ہے کہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کے خلاف بدترین ریاستی جرم افغان معاملات میں مداخلت رہی ہے۔ اس فضیحتے میں پاکستان کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا۔ علیحدگی کے بعد پاکستانی عوام کے خلاف بدترین ر [..]مزید پڑھیں

  • افغان پالیسی: غیر سیاسی سوچ کے قبرستانی ہیولے (2)

    1947 میں بیرونی حکمرانوں کی رخصتی کے بعد ہمارے ملک کا بنیادی المیہ عوام اور ریاست میں ایسا نامیاتی اور جمہوری تعلق پیدا کرنے میں ناکامی رہا ہے جس میں عوام کو ریاست پر اعتماد ہو کہ انہیں معاشی وسائل کی تقسیم پر فیصلہ سازی میں بامعنی طور پر شریک کیا جائے گا، وفاق کی اکائیوں کو ان اص [..]مزید پڑھیں

  • افغان پالیسی: غیر سیاسی سوچ کے قبرستانی ہیولے (1)

    12 جولائی کی صبح بلوچستان کے شمال مشرقی ضلع ژوب میں مذہبی دہشت گردوں کے قابل نفرین حملے کی مزاحمت کرتے ہوئے نو فوجی جوانوں نے وطن پر جان نچھاور کر دی۔ اسی روز صوبے کے مشرقی ضلع سوئی میں ایک اور حملے میں تین جوان شہید ہوئے۔ دونوں واقعات میں 5 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔ رواں برس کے پ [..]مزید پڑھیں

  • پھٹے ہوئے جوتے اور بے داغ دستار

    یاسر پیرزادہ ایسے دوست ہیں جنہیں جاننا عمر رواں کا تشکر ٹھہرتا ہے۔ تخلیقی تحریر تیز رو دریا میں خالی ہاتھوں مچھلی پکڑنے جیسا مشکل کام ہے۔ یاسر پیرزادہ پورے انہماک سے یہ کار گراں انجام دیتے ہیں۔ متعین لفظ اور مکمل ابلاغ سرگراں سنگی دیوتا ہیں مگر یاسر کی انگلیوں میں مٹی کا لون� [..]مزید پڑھیں