وجاہت مسعود

  • یہ اشتہاری کالم نہیں ہے

    دلی کے خواجہ حسن نظامی عمر میں علامہ اقبال سے دو چار برس ہی خورد تھے لیکن مزاج میں کئی نوری سال کا فاصلہ تھا۔ علمی زاویے سے دیکھنا ہو تو اقبال اور خواجہ حسن نظامی میں وہی فرق تھا جو پروفیسر ڈاکٹر حمید اللہ اور پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری کے حصے میں آیا۔ حالیہ سیاسی تناظر میں سم� [..]مزید پڑھیں

  • اترائے ہوئے لوگوں کا شہر

    پت جھڑ کی رت ہے، بارش کا نشان نہیں۔ آلودہ دھند نے آسمان سے ابتدائی سرما کی روپہلی دھوپ چھین لی ہے۔ آنکھ اٹھا کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ زمین پر ایک نامعلوم پرچھائیں کی چادر تنی ہے۔ بصیرت کا دامن تو مدت ہوئی تار تار ہو چکا، بصارت کا دائرہ بھی چشم حسود کی طرح تنگ ہو رہا ہے۔ صحا� [..]مزید پڑھیں

  • صحافی کا ضمیر اور حکم کی ملکہ

    شاعر، ڈرامہ نگار اور ناول نویس الیگزینڈر پشکن کو روسی ادب میں وہی مقام حاصل ہے جو انگریزی ادب میں جیفری چاسر اور امریکی ادب میں والٹ وٹمین کو دیا جاتا ہے۔ ان تینوں ادیبوں نے موضوعات اور تکنیک میں جدید رجحانات متعارف کرا کے اپنے ادب کو اس کے مخصوص قومی خدوخال عطا کیے۔ الیگزین� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • میر صاحب کی سادگی اور بے انت رات کا اندھیرا

    شاہ جہاں آباد کے شاعر نے تو ’میر کیا سادہ ہیں۔ ‘ کے آب دار ٹکڑے میں اپنی تہ دار شکست تسلیم کر لی تھی لیکن یہاں اشارہ دلی والے میر صاحب کی طرف نہیں۔ ہمارے ہم عصر حامد میر صاحب کا ذکر ہے۔ حامد میر صف اول کی صحافت میں 36 سالہ پیشہ ورانہ تجربہ ہی نہیں رکھتے، تاریخ کا مطالعہ بھی ا [..]مزید پڑھیں

  • آئندہ انتخابات سے کیا امید باندھی جائے؟

    مارچ 2022 سے اماوس کی رات میں دلدلی جنگلوں میں چلتے ہوئے یہاں تک تو پہنچے کہ اگلے سال کے ابتدائی مہینوں میں انتخابات کی توقع ٹھوس شکل اختیار کرتی نظر آ رہی ہے۔ 21 تاریخ کو میاں نواز شریف وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز میں انتخابی نوک جھونک کی ابتدائی جھلکیاں [..]مزید پڑھیں

  • بے نامی شب عبور کے پڑاﺅ میں الاﺅ

    پون صدی بیت گئی۔ طبع آشفتہ نے انداز شکیبائی نہیں سیکھے۔ پرانی بستیوں سے نکل کر نئے نگر کے لیے عازم سفر ہوئے تو تیز ہواﺅ ں میں ایک خیال کا دیا جلتی بجھتی لو دے رہا تھا کہ تاحد نظر پاپیادہ، بیل گاڑیوں اور رکتی کٹتی ریل گاڑیوں پر آگے بڑھتا یہ قافلہ جہاں لنگر ڈالے گا وہاں جینے اور مر [..]مزید پڑھیں

  • بھیڑوں کا باڑہ اور بھوکا بھیڑیا

    ہرمن ہیسے 1877 میں جرمن قصبے بلیک فارسٹ میں پیدا ہوا۔ ماں باپ کٹر مذہبی تھے۔ ہرمن ہیسے تعلیم مکمل نہیں کر سکا۔ کتابوں کی دکان پر ملازمت کر لی۔ فارغ وقت میں ہم عمر محفلوں سے الگ تھلگ، موٹے شیشوں والا چشمہ ناک پر جمائے نظمیں اور افسانے لکھا کرتا تھا۔ 1946 میں ہرمن ہیسے کو ادب کا ناول [..]مزید پڑھیں

  • چشم نم کا حوصلہ جواب دے گیا

    30 ستمبر کو ولادت رسول ﷺ کا تہوار منایا جا رہا تھا۔ مسلم تقویم میں یہ دن مسلمانوں کے لیے کسی بھی دوسرے تہوار سے زیادہ جذباتی معنویت رکھتا ہے۔ کوئٹہ سے پچاس میل جنوب میں مستونگ کے مقام پر بھی عید میلاد النبی کا جلوس نعت اور درود کی آوازوں میں آگے بڑھ رہا تھا۔ کل پونے تین لاکھ آب� [..]مزید پڑھیں

  • سیاسی استحکام کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں

    ایشین ڈویلپمنٹ بینک نے بدھ کے روز ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق 2023 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 0.3 فیصد رہی جب کہ آئندہ برس پاکستان کی معیشت ممکنہ طور پر 1.9 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکے گی۔ مگر…. اور اس مگر میں چھپے مگرمچھ پر خاص توجہ کی درخواست ہے…. شرط یہ ہے کہ پاکستا [..]مزید پڑھیں