وجاہت مسعود

  • افغان پالیسی: غیر سیاسی سوچ کے قبرستانی ہیولے (1)

    12 جولائی کی صبح بلوچستان کے شمال مشرقی ضلع ژوب میں مذہبی دہشت گردوں کے قابل نفرین حملے کی مزاحمت کرتے ہوئے نو فوجی جوانوں نے وطن پر جان نچھاور کر دی۔ اسی روز صوبے کے مشرقی ضلع سوئی میں ایک اور حملے میں تین جوان شہید ہوئے۔ دونوں واقعات میں 5 دہشت گرد واصل جہنم ہوئے۔ رواں برس کے پ [..]مزید پڑھیں

  • پھٹے ہوئے جوتے اور بے داغ دستار

    یاسر پیرزادہ ایسے دوست ہیں جنہیں جاننا عمر رواں کا تشکر ٹھہرتا ہے۔ تخلیقی تحریر تیز رو دریا میں خالی ہاتھوں مچھلی پکڑنے جیسا مشکل کام ہے۔ یاسر پیرزادہ پورے انہماک سے یہ کار گراں انجام دیتے ہیں۔ متعین لفظ اور مکمل ابلاغ سرگراں سنگی دیوتا ہیں مگر یاسر کی انگلیوں میں مٹی کا لون� [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا جمہوری تذبذب اور معاشی تزلزل

    علامہ اقبال اپنی فضاؤں کے طائر خوش پرواز تھے، گاندھی جی اپنی روایت کے مہاتما تھے۔ کسی تقابل کا شائبہ ہی نہیں۔ اقبال نے 1924 میں اشاعت پذیر ہونے والی بانگ درا میں گاندھی جی پر چوٹ کی۔ ’یہ آیہ نو جیل سے نازل ہوئی مجھ پر‘ ۔ آپ سے کیا پردہ۔ یہ طالب علم کیسے جان پاتا کہ ’آیہ نو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • نو مئی حادثہ نہیں، طویل تمثیل ہے

    ماہ مئی کی کیا تخصیص ہے؟ پون صدی پر پھیلی قومی تاریخ میں کون سا مہینہ ہے جس میں کوئی منحوس منظر نہ کھلا ہو؟ ان دنوں نو مئی کا منتر زبان زِد عام ہے تو مئی کی تقویم ندامت پر ایک نظر ڈال لیتے ہیں۔ 3 مئی 1950کو وزیراعظم لیاقت علی خان دورہ امریکا پر روانہ ہوئے تھے۔ اس دورے نے پاکستان کو [..]مزید پڑھیں

  • وش کا پیالہ رانا جی نے بھیجا

    وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ دلچسپ شخصیت ہیں۔ سیاست کی ابتدائی منزلیں پیپلز پارٹی کے ساتھ طے کیں۔ 1993 میں مسلم لیگ (نواز) میں شامل ہو گئے۔ پرویز مشرف کی آمریت میں بدترین ایذا رسانی کا نشانہ بنے۔ قریب ڈیڑھ دہائی بعد عمران خان کی یک ورقی حکومت نمودار ہوئی تو محترم ثنااللہ یکم ج� [..]مزید پڑھیں

  • پولیو کے قطرے اور شربت تلقین شاہ

    آمریت کیا ہے؟ ریاستی طاقت کے ناجائز استعمال سے عوام کو ان کے بدیہی حق حکمرانی سے محروم کرنا، انہیں فیصلہ سازی کے عمل سے بے دخل کرنا اور ان کے وسائل ذاتی اور گروہی مفادات کے لئے غصب کرنا۔ آمریت کی مزاحمت ہر محب وطن شہری کا بنیادی فرض ہے۔ آمریت قوم کے سیاسی امکان کو ختم کرنے کے ح� [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کا انتخاب: امریکا یا چین؟

    ہم میں سے کون ہے جس نے منٹو کا افسانہ ٹھنڈا گوشت نہیں پڑھا۔ بڑے ادب کی نمود ایک سہ نکاتی قوس بناتی ہے، استرداد، قبول عام اور پھر ضرب المثل۔ سنسر کے محتسب، صحافت کے متحجر کتبے اور کور ذوق مدرس البتہ ہر زمانے میں موجود ہوتے ہیں۔  تخلیقی عمل اور تہذیب کا سفر ان حیاتیاتی حادثات � [..]مزید پڑھیں

  • سامری کا بچھڑا اور ہمارا سیاسی شعور

    ہم خوش نصیب قرآن پاک کی تعلیم کے لئے ٹیکسٹ بک بورڈ کے ’لازمی نصاب‘ کے محتاج نہیں تھے، ہم نے اپنے گھروں پر والدین اور دوسرے بزرگوں کی شفقت کے سائے میں کتاب مبین سے آگہی پائی۔ بڑے ابا شوکت علی خان (بھاجی) درویش کو آداب تلاوت بھی سکھاتے تھے، تلفظ درست کرتے تھے، اکثر کسی آیت ک� [..]مزید پڑھیں

  • ماسکو ٹرائل اور ہماری برساتی حب الوطنی

    معاف کیجئے گا، قیامت کے ان دنوں میں میرا دماغ چل بچل ہو گیا ہے۔ قلم سے سطر مستحکم برآمد نہیں ہو رہی۔ زبان بے سبب بہک رہی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ ابن انشا اور ابراہیم جلیس کی شوخ رنگ ارواح میرے اندر حلول کر گئی ہیں۔ آج کی زبان میں بات کرنا ہو تو سمھجیے کہ عطاالحق قاسمی اور محمد حنی� [..]مزید پڑھیں

  • زمان پارک کی خالی گلیاں اور قومی خزانہ

    کسی قوم کے سیاسی شعور کی پختگی کا ایک بنیادی پیمانہ شہریوں کے مابین پرامن سیاسی اختلاف رائے کے حق پر غیر مشروط اتفاق ہوتا ہے۔ اختلاف رائے کی اسی روایت سے جمہوری ثقافت کا یہ پہلو بھی برآمد ہوتا ہے کہ شہری سے کسی سیاسی رہنما، سیاسی جماعت یا سیاسی نصب العین کی غیر مشروط حمایت یا � [..]مزید پڑھیں