وجاہت مسعود

  • محل سرا خاموش مگر قبریں بولتی ہیں

    ہمارے ملک میں شرمناک انکشافات کا موسم ہے۔ انکشاف مگر گزرے دنوں اور سابق اقتدار کے غبار میں اوجھل ہونے والوں کے بارے میں ہیں۔ اب کیا ہو رہا ہے؟ کوئی نہیں بتا رہا اور بتائے گا بھی نہیں۔  25 فروری 1956 کو بیسویں کمیونسٹ کانگرس میں خروشچیف کی نام نہاد خفیہ تقریر سے پہلے کوئی سٹالن [..]مزید پڑھیں

  • آدھی بھوک اور پوری گالیاں

    یادداشت کی تختی پر جگہ جگہ کچھ نقش مٹنے لگے ہیں۔ چہرہ جگمگاتا ہے تو نام بجھ جاتا ہے، واقعہ یاد آئے تو سنہ اور مقام خلط ملط ہو جاتے ہیں۔ بڑھوتری کی منزل پر ایسا ہونا غیرمعمولی نہیں لیکن آپ کے نیاز مند کے لئے یہ مرحلہ بھی کچھ تیز قدمی سے آن پہنچا۔ خیر، گھر میں تھا کیا کہ ترا غم اس� [..]مزید پڑھیں

  • 75 برس پرانی عمارت کی دیوار پھلانگنے والے

    انسانی قافلے پر ایک نظر ڈالئے۔ پہلی صف میں متخیلہ سے متصف فنکار ہوتے ہیں۔ خیام، ڈاؤنچی، موزارٹ، دستوئیوفسکی سے لے کر کافکا، پکاسو اور لینورڈ برنسٹائن تک ایک قافلہ سخت جان ہے جہاں انسانی ذہن کی رسائی مقتدی ہجوم سے بہت آگے نظر آتی ہے۔ دوسری صف میں فنکار نے جو حدود دریافت کر � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • سیاستدان اور بلھے شاہ مرا نہیں کرتے

    یاد کی باز آفرینی کا موسم آن پہنچا ہے۔ گزری صدی کی کسی غیرمتعین رات میں ایک نادانستہ حادثے سے جنم لینے والے سفر کا بڑا حصہ کٹ چکا۔ زندگی کا احسان ہے کہ اس نے بن مانگے اپنا آپا دکھایا۔ خوشی کے رنگ دیکھے۔ موسموں کے بھید پائے، سبز پتوں سے لدی تہ در تہ شاخوں سے گزرتی ہواؤں کی سمپورن [..]مزید پڑھیں

  • کیا بھارت میں قرار داد مقاصد منظور ہوئی؟

    اس کا سادہ جواب یہ ہے کہ ہندوستان کی دستور ساز اسمبلی نے قرار داد مقاصد منظور کی۔ یہ قرار داد پنڈت جواہر لال نہرو نے 13 دسمبر 1946 کو پیش کی اور چھ ہفتے کے بحث مباحثے کے بعد 22 جنوری 1947 کو متفقہ طور پر منظور کی گئی۔ اس وقت پاکستان قائم نہیں ہوا تھا۔ مسلم لیگ کے 73 ارکان دستور ساز اسمب [..]مزید پڑھیں

  • ہمارے نوجوان پاکستان میں کیوں نہیں رہنا چاہتے؟

    کچھ روز ہوئے، آپ کے نیاز مند نے عرض کی تھی کہ اس نے جوانی میں پاکستان کیوں نہیں چھوڑا اور اب بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں۔ اخبار کا صفحہ ذاتی مکتوب نہیں ہوتا نیز یہ خیال رکھا جاتا ہے کہ ممکنہ حد تک متنازع نکات سے گریز کیا جائے۔ اس احتیاط سے مراد سچائی کی پردہ پوشی یا جھوٹ بولنا نہیں [..]مزید پڑھیں

  • دل مضطر اور ہماری معاشی نادانیاں

    اندھیری رات میں بجلی کی لپک لمحے بھر کو منظر روشن کرتی ہے مگر اسے دن کا اجالا تو نہیں کہہ سکتے۔ درد مند ذہن امید اور نا امیدی کی دبدھا میں یوں گرفتار ہیں جیسے دن اور رات کے آنے جانے میں زنجیر کی کڑیوں ایسا اٹوٹ تعلق۔ نا امید ہوں تو جینے کا جواز کیا باقی رہے گا اور امید کی کرن ڈھونڈ [..]مزید پڑھیں

  • مہذب کسے کہتے ہیں ؟

    اپنی کم علمی کا اعتراف کرنے میں کوئی ہرج نہیں ہوتا۔ ایک ایسا ملک جہاں ہر شخص جیب میں دنیا بھر کے مسائل کا حل لیے پھرتا ہو، جہاں ہر رکشے کے پیچھے ”دل کے مرض میں بائی پاس نہ کروائیں، ہمیں آزمائیں “ کا اشتہار لٹک رہا ہو، جہاں ہر استاد افلاطون ہو، ہر صحافی بادشاہ گر ہو، ہر جنرل � [..]مزید پڑھیں

  • ادھوری تاریخ کا کارخانہ اور ناکارہ مصنوعات

    چوہدری نثار علی خان ہماری سیاسی تاریخ کا طرفہ کردار ہیں۔ ایچی سن کالج سے تعلیم پانے والے 68 سالہ چوہدری نثار 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار قومی اسمبلی پہنچے۔ مئی 2018 تک مسلسل آٹھ بار قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔  کم از کم پانچ مرتبہ وفاقی وزیر رہے۔ جولائی 2018 کے انت� [..]مزید پڑھیں

  • میں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

    آج قلم میں اعتراف کی بوند ہنگامہ آرا ہے۔ فیض صاحب نے فرمایا تھا، ’آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے‘۔ ہماری روایت میں میرؔ صاحب بہت بڑے آدمی گزرے ہیں۔ اردو شعر میں کمالِ ہنر، نزاکتِ احساس اور کائناتی شعور کے امتزاج کا معجزہ میرؔ ہی کے حصے میں آیا۔ انہیں خود رائی اور طنازی زی [..]مزید پڑھیں