وجاہت مسعود

  • مصر کا بازار اور صحافی کا قلم

    ہماری سیاست پر ایک اور عشرہ زیاں گزر گیا۔ پیدا کرنے والے کی قسم، ہمیں گزرنے والے ناٹک پر کوئی اختیار تھا اور نہ آنے والے مناظر میں کوئی دخل ہے۔ گزشتہ عہد میں بھی راہ جفا کے اندھے موڑ اور پاتال کی خبر لانے والی کھائیوں کی نشاندہی کرتے رہے، کبھی گوش شنوائی نصیب نہیں ہوا۔ آئندہ ب� [..]مزید پڑھیں

  • جناح ہاﺅس اور سلیم احمد کی تقریر

    اس ملک کی تاریخ کا ایک اور باب ختم ہوا۔ کل تک ایسٹ انڈیا کمپنی کے نامزد چھٹن نواب کے سرکاری دسترخوان پر قطار اندر قطار جمع ہونے والے ’صاف دامن‘ پوربیے ٹھگ اب چور نظروں سے دائیں بائیں دیکھتے کھسک رہے ہیں۔ فون پر گفتگو میں نام تک لینے کے روادار نہیں۔ مداری کا تماشا دیکھنے و [..]مزید پڑھیں

  • اندھیری رات کی امانت اٹھانے والے

    برادر عزیز طاہر یوسف سے ملاقات کم کم لیکن نیاز مندی قدیمی ہے۔ گزشتہ شام فون اسکرین پر ان کا نام جگمگایا تو خوشی ہوئی۔ درویش نے گزشتہ اظہاریے میں غریب بچوں کی تعلیمی محرومی کا ذکر کرتے ہوئے فارسی محاورے ’این خانہ ہمہ آفتاب است‘ میں آفتاب کو ’خوناب‘ میں بدل دیا تھا۔ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • 2035 کس نے دیکھا ہے؟

    ثروت حسین کا ایک مصرع دیکھئے، ’رزم گہ وجود میں آنکھ جھپک نہیں سکی‘۔ ثروت حسین نے 47 برس عمر پائی۔ شاعر کی زندگی ماہ و سال کی اکائیوں میں شمار نہیں ہوتی، اس کی بصیرت اور حد نظر سے متعین ہوتی ہے۔ ثروت حسین نے 1971 کے قیامت خیز دنوں میں ’ایک انسان کی موت‘ کے عنوان سے ایک نظ [..]مزید پڑھیں

  • جنگ اقتدار اور بارودی سرنگوں کی صفائی

    عمر عزیز میں کسی مستقل روزگار کی صورت سے واسطہ نہیں رہا، کسی نے پرسش حال چاہی تو نگہ نیم باز سے طوطی ہند خسرو کا مصرع پڑھ دیا۔ آوارہ و مجنونے و رسوائے سربازارے۔ آوارگی اختیاری تھی، ’شوریدگی کے ہاتھ سے ہے سر وبال دوش‘ اور رسوائی میں مرزا ہادی رسوا سے سند پائی۔ ’آوارگی می� [..]مزید پڑھیں

  • شاہ بلوط کے کٹے ہوئے پیڑ اور قومی بحران

    یہ سطریں تحریر کرتے ہوئے اسلام آباد میں عدالت عظمیٰ کا تین رکنی بنچ قومی انتخابات کے ایک ساتھ معاملے پر سماعت کر رہا ہے۔ کمرہ عدالت سے لمحہ بہ لمحہ خبروں کی لین ڈوری بندھی ہے۔ آج کی سماعت میں کسی نتیجہ خیز پیش رفت کا امکان نہیں۔ فریقین اپنی طاقت دکھانے کے لئے ایک آدھ قدم بڑھات� [..]مزید پڑھیں

  • پیپلز پارٹی اور جمہوریت کی میزان

    صحافت سیاسی منصب نہیں اور نہ ریاستی ملازمت ہے۔ صحافت تو عمومی معنوں میں کسی کاروباری ادارے کی ملازمت بھی نہیں۔ اس لئے کہ اپنے آجر ادارے کے قانونی اور جائز مفادات کا محافظ ہونے کے باوجود صحافی کی بنیادی وابستگی درست خبر کی ترسیل ہے۔ یہی اصول ادارتی صفحے یا برقیاتی ذرائع ابلا� [..]مزید پڑھیں

  • شہری کا لہو اور لیڈر کا پسینہ

    ڈینیئل شیکٹر ہارورڈ یونیوسٹی میں نفسیات کے استاد ہیں۔ 1952 میں پیدا ہونے والے پروفیسر شیکٹر کی تحقیق کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ افرادی اور اجتماعی یاد داشت متعدد عوامل کے زیر اثر اصل واقعات کو از سرِنو مرتب کر لیتی ہے۔ فرد لاشعوری طور پر اپنی عزتِ نفس کی نفی اور احترام ذات کی جسما� [..]مزید پڑھیں

  • سول سوسائٹی …. حق مغفرت کرے

    آندھی دھاندی کے دن ہیں۔ خوب اور ناخوب میں فرق کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ جائز حکومت اور ریاستی عمل داری کا سنجوگ ہم نے اس ملک میں کم کم ہی دیکھا۔ البتہ سپہ سالاروں کی آمد و رفت میں تاریخ کی تلپٹ ہم نے بہت دیکھ رکھی ہے۔ در عدالت پر آویزاں میزان کے پلڑوں میں توازن بھی ہمارا تجربہ نہیں ر� [..]مزید پڑھیں