وجاہت مسعود

  • فصیل دہشت سے ہاتھ بھر فاصلہ

    جون 1959 کا بھوبل مہینہ تھا۔ یوں تو بکرمی مہینہ اساڑھ آسمان سے برستی آگ، لو کے تند خو تھپیڑوں اور بگولوں کا استعارہ ہوتا ہے مگر چھ دہائیاں پہلے یہ مہینہ منقسم پنجاب کی سرحد کی دونوں طرف آباد زخم زخم روحوں کے لئے ٹھنڈک کا پیغام لایا تھا۔ تقسیم کو بارہ برس گزر چکے تھے، لکیر کے دونو [..]مزید پڑھیں

  • ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

    بادشاہوں کی دنیا ہم ایسے درویشوں کی جہان فانی میں آمد و رفت سے مختلف ہے۔ مجید امجد نے کہا تھا۔ ’میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے / میں کل ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا‘۔ بادشاہ لوگوں کا جلوس شاہی مبارک سلامت کی ہما ہمی میں برآمد ہوتا ہے۔ کچھ برس بعد سفر آخرت کا � [..]مزید پڑھیں

  • یاسر پیرزادہ کے اتباع میں

    ہماری دھرتی ہزاروں قرن پر گندھا ایک نقش مسلسل ہے کہ فلک اس کی سمائی کو کم ہے۔ رنگوں اور خوشبوؤں کا جادو ایسا کہ ہر گام پر دامن دل کھینچتا ہے۔ پیڑ بوٹوں کی گلگشت اور چرند پرند کی بوقلمونی کا کیا ذکر، مشت خاک میں ہنر کی کارفرمائی کا ایک سے بڑھ کر ایک معجزہ یہاں گزرا ہے مگر صاحبو میر [..]مزید پڑھیں

loading...
  • بے خبر صحافی کے غیر سیاسی خیالات

    وطن عزیز میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کاروبار کی دنیا میں گرمی بازار کا یہ عالم ہے کہ دکاندار دھڑا دھڑ نئی تجوریاں خرید رہے ہیں۔ امن و امان کی یہ کیفیت ہے کہ قصہ کہانیوں کی وہ عورت پاکستان کا ویزہ لینے کے لئے قطار میں کھڑی ہے جسے کراچی سے پشاور تک بے خوف و خطر سونا اچھالتے ہوئے � [..]مزید پڑھیں

  • سراور دھڑ کی رکھوالی کے قصے

    عین اس لمحے جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، راولپنڈی میں فوجی کمان کی چھڑی ہاتھ بدل رہی ہے۔ یہ مرحلہ ہم نے بارہا دیکھ رکھا ہے اور ہر مرتبہ ایک نئے رنگ میں۔ ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ نئے کماندار کی تعیناتی سے قبل ایک ہزار میل کے فاصلے پر دومختلف تقریبات میں دستخط ہونے کی شرمساری اٹھ [..]مزید پڑھیں

  • پراجیکٹ عمران: وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

    نومبر کا آخری ہفتہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پوری قوم قریب ایک برس سے مسلح افواج میں چوٹی کے عہدوں پر نئی تقرریوں کے ہیجان میں مبتلا تھی۔ معمول کے ایک انتظامی اقدام پر ایسی اٹھا پٹخ اور کھینچا تانی بذات خود دنیا میں ہمارے قومی وقار کے لئے نقصان دہ تھی۔ خیر گزری کہ گزشتہ ایک ہفتے م [..]مزید پڑھیں

  • 24 نومبر: ترکماں حجرت ِاکبر آئیو

    زوال بادل کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کی صورت نمودار نہیں ہوتا۔ افق پر چاروں طرف غبار کی ایک تہہ نظر آتی ہے جو آہستہ آہستہ سیاہ دبیز چادر کی طرح ہر سمت پھیل جاتی ہے۔ زوال زندگی کے ہر شعبے میں گراوٹ اور رسوائی کا ہمہ جہتی مظہر ہے۔ سیاسی مکالمہ ہو یا معیشت کے رنگ، صحافت کی ساکھ ہو ی [..]مزید پڑھیں

  • برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50 برس (2)

    اردو پڑھنے والوں میں کوئی کم نصیب ہو گا جس نے مشتاق احمد یوسفی کی تصنیف ’آب گم‘ نہ پڑھ رکھی ہو۔ بہتیرے ایسے ہیں جنہیں یہ ’ماورائے صنف‘ کتاب حفظ ہے۔ کہنے کو اردو مزاح کے درجات بلند کئے ہیں، حقیقت میں ایک تہذیب کے داغوں کی بہار مصور کی ہے۔ مزاح اپنے اعلیٰ ترین درجے پر � [..]مزید پڑھیں

  • برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50 برس

    اٹھارہویں صدی میں اہل یورپ کی آمد سے پہلے ہندوستان ایک اقلیم تھا۔ حملہ آور وں کی مسلسل یلغار اور داخلی جنگ و جدل سے سکڑتی پھیلتی مغل سلطنت کی مجموعی معاشی پیداوار عالمی معیشت کا 24.4 فیصد تھی۔ نئی دنیا یعنی امریکہ کے وسائل کا استحصال کرنے، غلاموں کی تجارت اور ابتدائی صنعتی ا [..]مزید پڑھیں

  • خلا میں تیرتے 23 کروڑ بے وزن اجسام

    نومبر کا نصف آن پہنچا۔ آئندہ دو ہفتوں کی ٹھیک ٹھیک پیش بینی ممکن نہیں ۔ قیاس کے گھوڑے دوڑانے والے البتہ بہت ہیں۔ اگر کوئی اس جم غفیر سے نکل کر قیافہ آرائیوں کی دھول پر غور کرے تو کیا مضائقہ ہے۔ آئیے، پندرہویں صدی کے ڈچ مصور ہائیرونیمس بوش اور بیسویں صدی کے سلواڈور ڈالی کی باتی [..]مزید پڑھیں