وجاہت مسعود

  • ادھوری تاریخ کا کارخانہ اور ناکارہ مصنوعات

    چوہدری نثار علی خان ہماری سیاسی تاریخ کا طرفہ کردار ہیں۔ ایچی سن کالج سے تعلیم پانے والے 68 سالہ چوہدری نثار 1985 کے غیر جماعتی انتخابات میں پہلی بار قومی اسمبلی پہنچے۔ مئی 2018 تک مسلسل آٹھ بار قومی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔  کم از کم پانچ مرتبہ وفاقی وزیر رہے۔ جولائی 2018 کے انت� [..]مزید پڑھیں

  • میں نے پاکستان میں رہنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

    آج قلم میں اعتراف کی بوند ہنگامہ آرا ہے۔ فیض صاحب نے فرمایا تھا، ’آج اظہار کریں اور خلش مٹ جائے‘۔ ہماری روایت میں میرؔ صاحب بہت بڑے آدمی گزرے ہیں۔ اردو شعر میں کمالِ ہنر، نزاکتِ احساس اور کائناتی شعور کے امتزاج کا معجزہ میرؔ ہی کے حصے میں آیا۔ انہیں خود رائی اور طنازی زی [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان کی مون واک سیاست

    جیسا کہ ہم جانتے ہیں، پاکستان کے عوام امریکا سے بے حد نفرت کرتے ہیں۔ اس میں دائیں بازو کے قدامت پسند طبقے اور بائیں بازو کے ترقی پسند طبقے کی تمیز نہیں۔ قدامت پسند پاکستانی امریکا کو اخلاق باختگی اور اسلام دشمنی کا مرکز قرار دیتے ہیں۔ ہمیں شکوہ ہے کہ امریکا نے کشمیر حاصل کرنے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اسلم ملک ریٹائر ہو گئے

    اگر ایک سرکاری اہلکار کی ریٹائرمنٹ مع خطیر پنشن اور بے پناہ پرکشش مراعات ایسی خبر بن سکتی ہے کہ 23 کروڑ عوام کی روزمرہ زندگی صاحب بہادر کی سبکدوشی یا ممکنہ توسیع نیز مسائل جانشینی کی پاڑ سے بندھ جائے۔ افواہوں کی دھند نو لاکھ مربع کلومیٹر رقبے پر اس طرح چھا جائے کہ ہاتھ کو ہاتھ � [..]مزید پڑھیں

  • کرائے کا تانگہ اور ہانکے کی سواریاں

    پارلیمانی جمہوریت میں عدم اعتماد کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کو معمول کی سیاست کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ تاہم گزشتہ برس 9 اور 10 اپریل کی درمیانی رات عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی سے پہلے   اور بعد ملک ایک سیاسی بحران کا شکار ہے۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ ڈ� [..]مزید پڑھیں

  • پیسہ اخبار سٹریٹ سے بازار صحافت تک

    پشاور سے کلکتہ تک 1500 میل لمبی جرنیلی سڑک شیر شاہ سوری نے سولہویں صدی کے وسط میں تعمیر کرائی تھی۔ اس شاہراہ پر وزیر آباد سے لاہور کا فاصلہ نوے میل سے زیادہ نہیں لیکن اس مختصر سے منطقے نے اردو صحافت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وزیرآباد کے مولوی محبوب عالم نے 1887 میں ہفت روزہ پیسہ اخ� [..]مزید پڑھیں

  • 24 کروڑ کردار مصنف کی تلاش میں

    سویرے کے جھٹپٹے میں سفر آغاز کیا تو گفتہ غالب توشہ آرزو تھا۔ ’کہ جاگنے کو ملا دیوے آ کے خواب کے ساتھ‘۔ اب شام اس طور ہو رہی ہے کہ میر کی حیرت بار دوش ہے، ’جاگتا ہوں کہ خواب کرتا ہوں‘۔ گزرے برس کی آخری رات رائیگانی اور خسارے کی بے قراری سے عبارت تھی۔ سرسید احمد خان کی ن [..]مزید پڑھیں

  • آمریت ادیب سے کیوں ڈرتی ہے؟

    پاکستان پر عظیم عسکری رہنما ایوب خان کے نزول کی تفصیلات خاصی عجیب و غریب ہیں۔ جنوری 1951 میں پاکستانی فوج کا کمانڈر انچیف مقرر ہونے سے قبل ایوب خان مزید پیشہ ورانہ ترقی کے لیے نا اہل سمجھے جاتے تھے کیونکہ انہیں برما کے محاذ پر 1945 میں ’میدان جنگ میں بزدلی‘ دکھانے پر کمان سے ہ� [..]مزید پڑھیں

  • رندان قدح خوار پھر جیت گئے

    دسمبر کے آخری دن آن لگے۔ مٹھیوں سے پھسلتی لمحوں کی ریت کے لئے زیاں کی چبھن تو اب واقعہ نہیں، طبیعت ہو چلی ہے۔ کیوں نہ ہو، ہمیں تاریخ انسانی کا ایسا زرخیز منطقہ میسر آیا جس میں دنیا نے منزلوں پر منزلیں سر کیں۔ جولائی 1969 میں چاند پر قدم رکھنا تو محض ایک استعارہ تھا جسے نیل آرمسٹر� [..]مزید پڑھیں

  • میں نے حب الوطنی سیکھ لی

    میرے کچھ مہربان دوستوں کو شدید اعتراض ہے کہ ہر وقت اپنے وطن پر تنقید کرتا ہوں۔ کچھ دوست تو میری عدم موجودگی میں مجھے یوگنڈا ، منگولیا ، یوراگوئے اور قبرص وغیرہ جیسی عالمی طاقتوں کا درپردہ ایجنٹ بھی قرار دیتے ہیں۔ ان کی یہ دلیل ہے کہ پاکستان پر اندھا دھند تنقید کرنے سے پاکستان [..]مزید پڑھیں