وجاہت مسعود

  • پگڈنڈی شاہراہ نہیں ہوتی

    ابوالکلام آزاد کے نیک ذکر سے بات شروع کرتے ہیں۔ قصے کا اختتام تو بہرصورت لدھیانہ کے لندن پلٹ سردار جی کی واردات ہی پر ہو گا جس کی تفصیل پنجابی احباب خوب جانتے ہیں اور اگر کچھ تسمہ لگا رہ گیا تھا، وہ حالیہ سیاست میں آڈیو ویڈیو ٹکڑوں کی بدولت ایک پوری نسل کے رگ و پے میں اتر گیا۔ [..]مزید پڑھیں

  • فیض اتنے وہ کب ہمارے تھے

    کان کو ہاتھ لگا کر کہتا ہوں کہ کالم کے عنوان میں فیض نامی جس شخص کا ذکر آیا ہے اس کا تحصیل چکوال کے گاؤں منگوال سے کوئی تعلق نہیں۔ خطہ پوٹھوہار کی اس مردم خیز دھرتی منگوال کو محکمہ مال کے شہرہ آفاق تحصیلدار نجف حمید جیسی اعلیٰ انتظامی شخصیت کا وطن مالوف ہونے کا شرف حاصل ہے۔ ہما [..]مزید پڑھیں

  • فصیل دہشت سے ہاتھ بھر فاصلہ

    جون 1959 کا بھوبل مہینہ تھا۔ یوں تو بکرمی مہینہ اساڑھ آسمان سے برستی آگ، لو کے تند خو تھپیڑوں اور بگولوں کا استعارہ ہوتا ہے مگر چھ دہائیاں پہلے یہ مہینہ منقسم پنجاب کی سرحد کی دونوں طرف آباد زخم زخم روحوں کے لئے ٹھنڈک کا پیغام لایا تھا۔ تقسیم کو بارہ برس گزر چکے تھے، لکیر کے دونو [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ہمارا تمہارا خدا بادشاہ

    بادشاہوں کی دنیا ہم ایسے درویشوں کی جہان فانی میں آمد و رفت سے مختلف ہے۔ مجید امجد نے کہا تھا۔ ’میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے / میں کل ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا‘۔ بادشاہ لوگوں کا جلوس شاہی مبارک سلامت کی ہما ہمی میں برآمد ہوتا ہے۔ کچھ برس بعد سفر آخرت کا � [..]مزید پڑھیں

  • یاسر پیرزادہ کے اتباع میں

    ہماری دھرتی ہزاروں قرن پر گندھا ایک نقش مسلسل ہے کہ فلک اس کی سمائی کو کم ہے۔ رنگوں اور خوشبوؤں کا جادو ایسا کہ ہر گام پر دامن دل کھینچتا ہے۔ پیڑ بوٹوں کی گلگشت اور چرند پرند کی بوقلمونی کا کیا ذکر، مشت خاک میں ہنر کی کارفرمائی کا ایک سے بڑھ کر ایک معجزہ یہاں گزرا ہے مگر صاحبو میر [..]مزید پڑھیں

  • بے خبر صحافی کے غیر سیاسی خیالات

    وطن عزیز میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں۔ کاروبار کی دنیا میں گرمی بازار کا یہ عالم ہے کہ دکاندار دھڑا دھڑ نئی تجوریاں خرید رہے ہیں۔ امن و امان کی یہ کیفیت ہے کہ قصہ کہانیوں کی وہ عورت پاکستان کا ویزہ لینے کے لئے قطار میں کھڑی ہے جسے کراچی سے پشاور تک بے خوف و خطر سونا اچھالتے ہوئے � [..]مزید پڑھیں

  • سراور دھڑ کی رکھوالی کے قصے

    عین اس لمحے جب یہ سطور لکھی جا رہی ہیں، راولپنڈی میں فوجی کمان کی چھڑی ہاتھ بدل رہی ہے۔ یہ مرحلہ ہم نے بارہا دیکھ رکھا ہے اور ہر مرتبہ ایک نئے رنگ میں۔ ایک بار تو ایسا بھی ہوا کہ نئے کماندار کی تعیناتی سے قبل ایک ہزار میل کے فاصلے پر دومختلف تقریبات میں دستخط ہونے کی شرمساری اٹھ [..]مزید پڑھیں

  • پراجیکٹ عمران: وصال یار فقط آرزو کی بات نہیں

    نومبر کا آخری ہفتہ اپنے اختتام کو پہنچا۔ پوری قوم قریب ایک برس سے مسلح افواج میں چوٹی کے عہدوں پر نئی تقرریوں کے ہیجان میں مبتلا تھی۔ معمول کے ایک انتظامی اقدام پر ایسی اٹھا پٹخ اور کھینچا تانی بذات خود دنیا میں ہمارے قومی وقار کے لئے نقصان دہ تھی۔ خیر گزری کہ گزشتہ ایک ہفتے م [..]مزید پڑھیں

  • 24 نومبر: ترکماں حجرت ِاکبر آئیو

    زوال بادل کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں کی صورت نمودار نہیں ہوتا۔ افق پر چاروں طرف غبار کی ایک تہہ نظر آتی ہے جو آہستہ آہستہ سیاہ دبیز چادر کی طرح ہر سمت پھیل جاتی ہے۔ زوال زندگی کے ہر شعبے میں گراوٹ اور رسوائی کا ہمہ جہتی مظہر ہے۔ سیاسی مکالمہ ہو یا معیشت کے رنگ، صحافت کی ساکھ ہو ی [..]مزید پڑھیں

  • برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50 برس (2)

    اردو پڑھنے والوں میں کوئی کم نصیب ہو گا جس نے مشتاق احمد یوسفی کی تصنیف ’آب گم‘ نہ پڑھ رکھی ہو۔ بہتیرے ایسے ہیں جنہیں یہ ’ماورائے صنف‘ کتاب حفظ ہے۔ کہنے کو اردو مزاح کے درجات بلند کئے ہیں، حقیقت میں ایک تہذیب کے داغوں کی بہار مصور کی ہے۔ مزاح اپنے اعلیٰ ترین درجے پر � [..]مزید پڑھیں