وجاہت مسعود

  • پلٹ رہے ہیں غریب الوطن، پلٹنا تھا….

    بے رنگ مایوسی کے طویل برسوں کے بعد تاریخ کی ٹہنیوں پر زرد پتوں نے ذرا سا رنگ بدلا تو اس خوف نے آ لیا کہ ہمارے تجربے میں کتنے ہی ایسے موڑ آئے، جب امید کے مختصر وقفے دیکھتے ہی دیکھتے سازش کے طویل صحرائی منطقوں میں بدل گئے۔  80 کی دہائی کے نصف آخر میں، عزیز دوست ضیا الحسن نے لکھا ت [..]مزید پڑھیں

  • بیانیہ تبدیل نہیں ہوا

    ہر نسل کے وقفہ حیات میں ایک ایسا مرحلہ آتا ہے جسے خاموش خود کلامی کہا جا سکتا ہے۔ ایسے خیالات جو احاطہ سماعت میں آ بھی جائیں تو گوش سماعت نہیں ملتا۔ جن سے مکالمہ ممکن تھا، ان کے تودہ ہائے خاک پر گھاس اگ آئی ہے۔ نئی دنیا کے اپنے رنگ، اپنے اطوار اور اپنے خواب ہوتے ہیں۔ اقبال گیان� [..]مزید پڑھیں

  • تاریخ کا کوئی اسکرپٹ نہیں ہوتا

    ہماری نسل ابھی دونوں ہتھیلیوں سے سیاسی شعور کی ادھ کھلی آنکھیں مل رہی تھی کہ جنرل ضیا الحق آن پہنچے۔ خدا مرحوم کے درجات دستور کے آرٹیکل چھ کی حد تک بلند فرمائے، انہوں نے قوم کے ساتھ جو کیا، سو کیا، ہم پر ایک احسان عظیم فرما گئے۔ انہوں نے ہمیں کم عمری ہی میں آمریت کی پیچ دار اندھ [..]مزید پڑھیں

loading...
  • الزبتھ دوم کا انتقال اور ہمارے بادشاہ

    8 ستمبر 2022 کو انگلستان کی ملکہ الزبتھ دوم 70 برس اور 214 روز تک برطانیہ عظمیٰ کی آئینی حکمران رہنے کے بعد انتقال کر گئیں۔ اپنے دور حکمرانی کے دوران ملکہ الزبتھ مختلف ادوار میں دولت مشترکہ کی 32 سے 15 خود مختار ریاستوں کی آئینی سربراہ بھی رہیں۔ انہیں برطانیہ میں ونسٹن چرچل اور مارگ� [..]مزید پڑھیں

  • دو شاخہ ترجیحات کی زیاں کاری

    اس میں کیا شک کہ علم ایسی طاقت ہے جسے ہزاروں برس تک زنجیر بند کر کے انسانوں کے استحصال اور ناانصافی کو یقینی بنایا گیا۔ کہیں علم کے گرد اوہام، نامعلوم کے خوف اور ننگے استبداد کی دیواریں اٹھائی گئیں تو کہیں علم کے حصول پر مخصوص طبقات کا اجارہ قائم کیا گیا۔ تجسس، دریافت، ایجاد ا [..]مزید پڑھیں

  • گاندھی جی اور دہلی کے مسلم سبزی فروش

    محمد حسن عسکری کا تنقیدی مجموعہ ’انسان اور آدمی‘ 1953 میں شائع ہوا۔ یہ عنوان ’آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا‘ سے ماخوذ نہیں تھا بلکہ عسکری صاحب کی فکر اس زمانے میں غالب کے برعکس ’آدمی‘ کو ’انسان’ سے برتر سمجھتی تھی۔ ان کے نزدیک آدمی وہ تھا جو کچھ حیاتیات� [..]مزید پڑھیں

  • عمران خان اور منٹو کا افسانہ ’ننگی آوازیں‘

    ادب ہو یا فنون عالیہ کی کوئی دوسری شاخ، تخلیقی عمل زندگی کی کلیت کا احاطہ کرتا ہے۔ فن کے پیچاک نام نہاد شرفا کی منافقت زدہ اخلاقیات کے متحمل نہیں ہوتے۔ روایات کہنہ کی کتر بیونت سے تیار کی گئی قبا زندگی کی نہاں گہرائیوں اوربسیط آفاق کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ وکٹورین اخلاقیات کے ع� [..]مزید پڑھیں

  • خطرناک (1974) کے مکالمے …

    1974 کا برس ہماری قومی تاریخ میں ایک سنگ میل ثابت ہوا۔ اس سال 22 سے 24 فروری تک لاہور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی۔ لاہور کی بادشاہی مسجد میں اسلامی سربراہان نے نمازِ جمعہ ادا کی۔ اسلامیانِ پاکستان نے مسلم امہ کی قیادت کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر دیے۔ کانفرنس کے آغاز سے � [..]مزید پڑھیں

  • محسن لغاری کے لئے چند اچھے لفظ

    قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان کی تاریخ میں کسی سیاسی یا دوسرے رہنما سے کوئی مقابلہ نہیں۔ ان کی شخصیت روشن خیالی، دستور پسندی اور حریت فکر و عمل کا یگانہ روزگار مظہر تھی۔ بابائے قوم اور لیاقت علی خان کی سیاست کے اجزائے ترکیبی مختلف تھے لیکن قائد اعظم کے بعد مسلم لیگ کی صف� [..]مزید پڑھیں