وجاہت مسعود

  • برصغیر میں معیشت کے حالیہ 50 برس

    اٹھارہویں صدی میں اہل یورپ کی آمد سے پہلے ہندوستان ایک اقلیم تھا۔ حملہ آور وں کی مسلسل یلغار اور داخلی جنگ و جدل سے سکڑتی پھیلتی مغل سلطنت کی مجموعی معاشی پیداوار عالمی معیشت کا 24.4 فیصد تھی۔ نئی دنیا یعنی امریکہ کے وسائل کا استحصال کرنے، غلاموں کی تجارت اور ابتدائی صنعتی ا [..]مزید پڑھیں

  • خلا میں تیرتے 23 کروڑ بے وزن اجسام

    نومبر کا نصف آن پہنچا۔ آئندہ دو ہفتوں کی ٹھیک ٹھیک پیش بینی ممکن نہیں ۔ قیاس کے گھوڑے دوڑانے والے البتہ بہت ہیں۔ اگر کوئی اس جم غفیر سے نکل کر قیافہ آرائیوں کی دھول پر غور کرے تو کیا مضائقہ ہے۔ آئیے، پندرہویں صدی کے ڈچ مصور ہائیرونیمس بوش اور بیسویں صدی کے سلواڈور ڈالی کی باتی [..]مزید پڑھیں

  • میں اور اندیشہ ہائے سود و زیاں

    ’پاکستان میں اسلامی نظام کا قیام روز اول سے ہمارا مقصد اولیٰ رہا ہے‘۔ 50 برس قبل یہ جملہ ہمیں سرکاری سکولوں میں رٹایا جاتا تھا۔ تعلیم کے نام پر تلقین سے سرشار درویش کے ہم عمر اب اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ اس آموختے کی علمی اصابت اور تاریخی حقیقت سے قطع نظر، سوچنا چاہیے [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پت جھڑ کا ایک اور موسم

    مقبولیت اور احترام دو الگ الگ لفظ ہی نہیں، دو مختلف تصورات ہیں۔ قبول عام تو لمحہ موجود میں گلی کوچے کا ہنگامہ ہے، خام، ناآزمودہ اور سیماب صفت۔ احترام وہ نقد خالص ہے جو آزمائش کی بھٹی سے کندن کی صورت برآمد ہوتا ہے، تکمیل اور افادیت کے اوصاف سے مملو۔ افسوس ہے اس قوم پر جس کے تعلی [..]مزید پڑھیں

  • شہر غریب کیسے ہوتے ہیں؟

    پڑھنے والے گیان کے دیوتا ہیں۔ میں کم ہنر معافی چاہتا ہوں کہ آج کی نوحہ گری میں صیغہ متکلم کا عیب شامل ہوگا۔ اگر اخبار لفظوں کی بستی ہے تو کالم کو گلی سمجھنے میں کیا ہرج ہے۔ لکھنے والا ایک کے بعد دوسرے دروازے پر خبر پہنچاتا ہوا نکڑ پار کر جاتا ہے۔ خبر اہم ہے، نامہ بر کو تو بہرصور� [..]مزید پڑھیں

  • لانگ مارچ ، شارٹ مارچ

    عمران خان صاحب کا لانگ مارچ آج پانچویں روز میں داخل ہو گیا ہے۔ غیر جانبدار مبصرین کے مطابق اس مارچ میں شرکا کی تعداد توقعات سے خاصی کم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عمران صاحب اس لانگ مارچ کو وقفے وقفے سے شارٹ کر رہے ہیں۔ لاہور کے لبرٹی چوک میں عمران خان کی تقریر کے دوران 8 سے دس ہزار افراد [..]مزید پڑھیں

  • ضمیر (قریشی) کیوں قتل ہوتا ہے؟

    جنوری 1965 کی ایک سرد شام تھی۔ گلبرگ کے ایک بنگلے سے دو افراد برآمد ہوئے اور باہر کھڑی گاڑی میں بیٹھ گئے۔ ستاون برس قبل گلبرگ لاہور کے نواح میں اشرافیہ کی کسی قدر غیر آباد سی بستی تھی۔ یہ عوامی لیگ کے صوبائی رہنما ملک غلام جیلانی کا گھر تھا اور ان کے دونوں مہمانوں میں ایک مغربی پ [..]مزید پڑھیں

  • حادثہ ٹائی راڈ کھلنے سے نہیں ہوا

    محمد خالد اختر نے اردو ادب میں جو مقام پایا، ان کے بارے میں تعارفی پیرایہ بیان اختیار کرنا بذات خود سوئے ادب کے زمرے میں شمار ہو گا۔ جس لکھنے والے نے سعادت حسن منٹو اور فیض احمد فیض سے داد پا رکھی ہو، اسے ہماری شکستہ پا، لکنت زدہ نسل سے توصیف کی کیا حاجت؟ ناول لکھا تو چاکیواڑہ م [..]مزید پڑھیں

  • لاوارث لاش، معلق شہری اور گم گشتہ ریاست

    مولانا ابوالکلام آزاد فروری 1922 میں بغاوت کے الزام میں کلکتہ کی عدالت میں پیش کیے گئے۔ انگریز مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیتے ہوئے ایک ایسا تراشیدہ اور ٹھکا ہوا جملہ کہا کہ قول فیصل قرار پایا۔ ’تاریخ عالم کی سب سے بڑی نا انصافیاں میدان جنگ کے بعد عدالت کے ایوانوں ہی میں ہوئی ہیں۔ [..]مزید پڑھیں

  • ایک بہادر بیٹی اور خانہ بدوش عورت کی مامتا

    کچھ برس پہلے اوائل سرما کی ایک سہ پہر گہرے بادل گھر کر آئے اور پھر ایسی برکھا برسی کہ جل تھل ایک ہو گئے۔ اب تو خیر دل و دماغ پر ایک مسلسل اداسی طاری رہتی ہے۔ ’دن گزرتے جا رہے ہیں، ہم چلے‘۔ چند سال پہلے جمہوریت کے شکستہ حال تجربے کی ایک دہائی مکمل ہوئی تو ایسی صورت نہیں تھی۔ [..]مزید پڑھیں