وجاہت مسعود

  • معیشت کا سوال ہے بابا!

    1977 کا برس تلاطم انگیز واقعات سے شروع ہوا۔ 7 جنوری کو بھٹو صاحب نے قومی اور صوبائی اسمبلیاں تحلیل کر کے مارچ میں عام انتخابات کا اعلان کر دیا۔ آئینی طور پر حکومت کے پاس انتخابات کے لیے کم و بیش ڈیڑھ برس کی مہلت باقی تھی لیکن بھٹو صاحب کو اقتدار پر اپنی گرفت کا یقین تھا۔ ان کے خفی� [..]مزید پڑھیں

  • خوشیوں کے باغ میں گھنٹہ گھر

    لکھنا عطائے توفیق ہے۔ کسی کی اچھی تحریر پڑھ کر محظوظ ہونا حسد میں مبتلا ہونے سے بدرجہا بہتر ہے۔ حالیہ برسوں میں اس اخبار کے ادارتی صفحے پر حماد غزنوی اور فرنود عالم نمودار ہوئے ہیں۔ دونوں کا رنگ تحریر جدا ہے مگر پڑھنے والا علم کی وسعت، مشاہدے کی گہرائی اور زبان کی سلاست کے سہ جہ [..]مزید پڑھیں

  • صحافت عیار کی زنبیل میں ہے

    تاریخ کے موجودہ عہد ظلمات کو آئندہ مورخ مقبولیت پسندی سے منسوب کرے گا۔ مقبولیت پسندی صرف سیاسی ہتھیار ہی نہیں، صحافت میں بھی رائے عامہ گمراہ کرنے میں کام آتی ہے۔ اس کا پہلا اصول پارسائی کی ڈھال اٹھا کر دوسروں پر تیر اندازی کرنا ہے۔ مقبولیت پسندی کو دلیل یا توازن سے نہیں، اند� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • تھکے ہوئے شانوں سے بوجھ اتر گیا

    ایک ہی دن میں اتنے بہت سے ستارے بجھ گئے۔ سہ پہر میں محترمہ سیدہ عارفہ زہرا کے انتقال کی خبر آئی۔ رات گئے معلوم ہوا کہ استاذی عرفان صدیقی بھی رخصت ہو گئے۔ کوئٹہ سے برادرم عابد میر نے اطلاع دی ہے کہ میرے مہربان بزرگ اور سیاسی استاد سرور آغا بھی دس نومبر ہی کو داغ مفارقت دے گئے۔ &nbs [..]مزید پڑھیں

  • مجھے گفتگو عوام سے ہے

    صاحبان عالی مقام ایسے آہنگ درا سے متصف ہوئے ہیں کہ کبھی صرف فوج کے سربراہ سے مخاطب ہوتے ہیں تو کبھی اپنے فرمودات کسی جلیل القدر سیاسی رہنما کے لئے مختص فرماتے ہیں۔ ہم خرقہ پوش تو اپنے جیسے خاک نشینوں ہی سے مخاطب ہو سکتے ہیں اور ہماری معروضات بھی دستور نامی مختصر کتابچے کی حدود ا [..]مزید پڑھیں

  • ایک قابل احترام ہم عصر کے بارے میں

    کوئی خطہ اور کوئی زمانہ اچھے انسانوں سے خالی نہیں ہوتے۔ یہ البتہ ہمارے بخت کے پیچاک ہیں کہ ہمیں اپنے جوار کے خس و خاشاک سے واسطہ پڑتا ہے یا ہمارے وقفہ حیات میں موجود لعل و گہر ہمیں نصیب ہوتے ہیں۔ درویش زندگی کا تہ دل سے شکر گزار ہے کہ سفر حیات میں خوش خصال بزرگوں کی بے پناہ شفقت ن� [..]مزید پڑھیں

  • احمد شمیم: شعر اور نقشے پر کھنچی لکیریں

    شعر اور اقتدار کی دنیائیں الگ ہیں۔ شعر فرد پر گزرنے والی قیامت بیان کرتا ہے۔ اقتدار جذبات کی دنیا سے بے نیاز پیوستہ مفادات کی حرکیات سے تعلق رکھتا ہے۔ ایک جملہ سٹالن سے منسوب کیا جا تا ہے کہ ایک انسان کی موت المیہ ہے اور دس لاکھ افراد کی موت محض ایک عدد۔ یہ بتانا تو مشکل ہے کہ س� [..]مزید پڑھیں

  • ہم غدار وطن نہیں تھے

    نصف صدی قوموں کی زندگی میں شاید ایک مختصر وقفہ کہلائے گی لیکن ایک فرد کی فعال بالغ زندگی کے کل برس غالباً اتنے ہی ہوتے ہیں۔ درویش نے ستر کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں شعور کی آنکھ کھولی۔ ملک ٹوٹ چکا تھا اور قومی تاریخ میں پہلی منتخب حکومت قائم ہو چکی تھی۔ اب مڑ کے دیکھتا ہوں تو [..]مزید پڑھیں

  • توفیق کس حال میں ہے؟

    ستمبر 1948 میں قائداعظم کی رحلت کے بعد پاکستان میں سیاسی افراتفری کے سیلاب کا وہ بند ٹوٹ گیا جس کے آثار آزادی کے فوراً بعد ظاہر ہو گئے تھے۔ اگست 1947 میں سرحد حکومت تحلیل کرنا غیر جمہوری تھا۔ اکتوبر 1947میں ریاست کشمیر پر قبائلی مجاہدین کا حملہ دور رس نتائج کا حامل تھا۔  21 مارچ 1948 [..]مزید پڑھیں

  • آئین کے برساتی پاسبان

    ایسٹ انڈیا کمپنی مغل شہنشاہ جہانگیر کے عہد میں تجارت کے نام پر ہندوستان آئی۔ اٹھارہویں صدی میں کمپنی کے سیاسی عزائم سامنے آنا شروع ہوئے۔ اس وقت عالمی سیاسی بندوبست سلطنتوں، نو آبادیات، مقامی رجواڑوں، احیائے علوم اور ابتدائی صنعتی انقلاب کا ایک پیچیدہ نقشہ تھی۔  قومی ریا� [..]مزید پڑھیں