وجاہت مسعود

  • کچھ باتیں ظہیر کاشمیری کی

    دسمبر 1994 کا دوسرا ہفتہ ختم ہو رہا تھا۔ موسم سرما کی پھیکی دھوپ میں لاہور کی لٹن روڈ کی سمت سے ایک جنازہ میانی صاحب کے قبرستان کی طرف آ رہا تھا۔ غم نصیبوں میں وہ نیاز مند بھی بوجھل قدموں سے شریک تھا جس نے جانے والے کی بزم طرب سے حیات کا سبق لیا تھا۔ ظہیر کاشمیری رخصت ہو رہے تھے۔ و� [..]مزید پڑھیں

  • منگھو پیر کے مگر مچھ اور معلق شہر

    نیاز مند کے انکسار کی لاج رہ گئی۔ گزشتہ کالم تحریر کیا تو پنجاب کے ضمنی انتخابات کی پولنگ شروع ہو رہی تھی۔ ’چپکا‘ رہا اگرچہ اشارے ہوا کئے۔ ہم تو سدا سے بے خبرہیں۔ اب کے کوئی پیش گوئی بھی نہیں کی۔ ابہام کی اس حکایت کو صنعت ایہام ہی راس ہے۔ انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے تو م� [..]مزید پڑھیں

  • ضمنی انتخابات: آفتِ فالِ نظر نہ پوچھ….

    استاد نے شاعر اور شعر کی پہچان یہ بھی بتائی تھی کہ ہاتھ پتھر تلے آ جائے یا سرخوشی کا عالم ہو تو شاعر ققنس کی مانند زندہ ہو جاتا ہے اور اس کا شعر برسات کی پروائی کی طرح دلوں پر رم کرتا ہے۔ اب دیکھیے، غالب کے غیر متداول کلام کا یہ ٹکڑا کس قیامت کی گھڑی میں یاد آیا۔  آج جولائی 2022 ک [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ایاز امیر کا خواب اور چے گویرا

    برادر محترم فاروق سلہریا کی اشتراکی نصب العین سے وابستگی قابل رشک ہے۔ ایک حالیہ تحریر پر مزے کا عنوان جمایا ہے۔ ’ایاز امیر کو خواہش ہٹلر کی ہے، نام چے گویرا کا لے رہے ہیں۔  ‘کشاں کشاں یہ جملہ درویش تک بھی پہنچا۔ عاجز نے رائے دی کہ ’چے گویرا اور ہٹلر میں یک گونہ مناسب [..]مزید پڑھیں

  • دکھ کی تصویر کیسے بنائیں؟

    آج چار جولائی ہے۔ ٹھیک 45 برس گزر گئے۔ 4 جولائی 1977 کی رات ہمارے ملک کی تاریخ، معیشت اور تشخص، سب بدل گیا تھا۔ امریکی عوام کے لئے چار جولائی یوم آزادی ہے۔ چار جولائی ہمارے لئے ایسی طویل رات کا آغاز تھا جس کی سحر ابھی نمودار نہیں ہوئی۔ ایک برس میں کل ملا کے 365 دن ہی تو ہوتے ہیں۔ وقت � [..]مزید پڑھیں

  • ظہیر عباس اور گورنمنٹ کالج لاہور کا زوال

    یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی۔ 1982 کا برس تھا اور دسمبر کا مہینہ۔ قومی تاریخ میں رائیگانی کے عہد سوم کو پانچواں سال گزر رہا تھا۔ خالق نے سورہ المزمل کی آیت 17 میں گمراہ دلوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، ’تم اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا‘ ۔ بے شک یہ � [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کیسے ترقی کرے؟

    مرزا محمد سعید دہلوی دو زمانوں کا سنگم تھے۔ 1886 میں  پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں علامہ اقبال سے تعلیم پائی اور اسی کالج میں احمد شاہ پطرس بخاری کو تعلیم دی۔ 1905 میں انیس برس کی عمر میں  ’خواب ہستی‘ کے عنوان سے ناول لکھا۔  اتفاق سے اسی برس مرزا ہادی رسوا کا ناول [..]مزید پڑھیں

  • بے بے، فیر آیا ای

    اشارہ تو سالانہ بجٹ کی طرف ہے لیکن اس جملے کا حقیقی مفہوم جاننا ہو تو کسی بدیہ گو پنجابی دوست سے رابطہ کیجئے۔ آپ کے نیاز مند کو اردو نثر میں پنجابی نگینے جڑنے کا وہ ہنر ودیعت نہیں ہوا جو استاد مکرم عطا الحق قاسمی نے مبدا فیض سے بدرجہ اولیٰ پایا ہے۔ عابد علی عابد نے کہا تھا، اس ب� [..]مزید پڑھیں

  • وزیر اعظم کی ہمالیائی غلطی

    ہماری تاریخ میں بارہا ایسا ہوا کہ عوام ادھر ادھر کے تماشوں میں الجھے تھے اور اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی سے کسی قانون، پالیسی یا محض انتظامی حکم کی مدد سے قوم کی تقدیر لکھ دی گئی۔ ایسی خبر ذرائع ابلاغ تک پہنچتی ہے تو صحافی اسے بڑی احتیاط سے غیر نمایاں انداز میں بیان کر کے اپنے � [..]مزید پڑھیں

  • ’نمبردار کا نیلا‘ پھر کھل گیا

    ہندوستان کا بٹوارہ جدید عالمی تاریخ کے بڑے واقعات میں شمار ہوتا ہے۔ تقسیم کے بعد جو علاقے بھارت کے حصے میں آئے، 1941  کی مردم شماری میں وہاں مسلمانوں کی تعداد چار کروڑ 24 لاکھ تھی جو کہ 1951  میں تین کروڑ چون لاکھ رہ گئی۔  گویا ستر لاکھ مسلمان اپنی جنم بھومی سے رخصت ہوئے یا ف� [..]مزید پڑھیں