وجاہت مسعود

  • نااہل پیادہ اور نالائق گھڑسوار

    ملک عزیز میں ان دنوں پھر سے نااہلیوں کا موسم ہے۔ کہیں عدل کی غلام گردشوں میں نااہلی کے سرٹیفکیٹ بٹ رہے ہیں تو کہیں سیاسی زعما آئینی نکتے تراش رہے ہیں۔ کچھ معاملات اعلیٰ عدالتوں تک پہنچ چکے اور باقی راستے میں ہیں۔ افواہوں کا بازار گرم ہے۔ بے یقینی کی ان ہواﺅں میں درویش معمولی � [..]مزید پڑھیں

  • لولے لنگڑے انصاف کی کہانی

    جب ہدایت اتری تو سب سے پہلا حکم آیا ’پڑھو‘۔ اس کے بہت بعد سورة القلم نازل ہوئی اور قسام ازل نے قلم کی قسم اٹھانے سے پہلے حروف مقطعات میں سے ایک حرف رکھ دیا۔ حروف مقطعات کا قطعی معنی معلوم کرنا فانی انسانوں کا منصب نہیں۔ آپ کا نیاز مند مذہبی علوم میں درک نہیں رکھتا اس لئے ز [..]مزید پڑھیں

  • کچھ باتیں ظہیر کاشمیری کی

    دسمبر 1994 کا دوسرا ہفتہ ختم ہو رہا تھا۔ موسم سرما کی پھیکی دھوپ میں لاہور کی لٹن روڈ کی سمت سے ایک جنازہ میانی صاحب کے قبرستان کی طرف آ رہا تھا۔ غم نصیبوں میں وہ نیاز مند بھی بوجھل قدموں سے شریک تھا جس نے جانے والے کی بزم طرب سے حیات کا سبق لیا تھا۔ ظہیر کاشمیری رخصت ہو رہے تھے۔ و� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • منگھو پیر کے مگر مچھ اور معلق شہر

    نیاز مند کے انکسار کی لاج رہ گئی۔ گزشتہ کالم تحریر کیا تو پنجاب کے ضمنی انتخابات کی پولنگ شروع ہو رہی تھی۔ ’چپکا‘ رہا اگرچہ اشارے ہوا کئے۔ ہم تو سدا سے بے خبرہیں۔ اب کے کوئی پیش گوئی بھی نہیں کی۔ ابہام کی اس حکایت کو صنعت ایہام ہی راس ہے۔ انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے تو م� [..]مزید پڑھیں

  • ضمنی انتخابات: آفتِ فالِ نظر نہ پوچھ….

    استاد نے شاعر اور شعر کی پہچان یہ بھی بتائی تھی کہ ہاتھ پتھر تلے آ جائے یا سرخوشی کا عالم ہو تو شاعر ققنس کی مانند زندہ ہو جاتا ہے اور اس کا شعر برسات کی پروائی کی طرح دلوں پر رم کرتا ہے۔ اب دیکھیے، غالب کے غیر متداول کلام کا یہ ٹکڑا کس قیامت کی گھڑی میں یاد آیا۔  آج جولائی 2022 ک [..]مزید پڑھیں

  • ایاز امیر کا خواب اور چے گویرا

    برادر محترم فاروق سلہریا کی اشتراکی نصب العین سے وابستگی قابل رشک ہے۔ ایک حالیہ تحریر پر مزے کا عنوان جمایا ہے۔ ’ایاز امیر کو خواہش ہٹلر کی ہے، نام چے گویرا کا لے رہے ہیں۔  ‘کشاں کشاں یہ جملہ درویش تک بھی پہنچا۔ عاجز نے رائے دی کہ ’چے گویرا اور ہٹلر میں یک گونہ مناسب [..]مزید پڑھیں

  • دکھ کی تصویر کیسے بنائیں؟

    آج چار جولائی ہے۔ ٹھیک 45 برس گزر گئے۔ 4 جولائی 1977 کی رات ہمارے ملک کی تاریخ، معیشت اور تشخص، سب بدل گیا تھا۔ امریکی عوام کے لئے چار جولائی یوم آزادی ہے۔ چار جولائی ہمارے لئے ایسی طویل رات کا آغاز تھا جس کی سحر ابھی نمودار نہیں ہوئی۔ ایک برس میں کل ملا کے 365 دن ہی تو ہوتے ہیں۔ وقت � [..]مزید پڑھیں

  • ظہیر عباس اور گورنمنٹ کالج لاہور کا زوال

    یہ بیٹھے بیٹھے مجھے کن دنوں کی یاد آئی۔ 1982 کا برس تھا اور دسمبر کا مہینہ۔ قومی تاریخ میں رائیگانی کے عہد سوم کو پانچواں سال گزر رہا تھا۔ خالق نے سورہ المزمل کی آیت 17 میں گمراہ دلوں کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا تھا، ’تم اس دن سے کیسے بچو گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا‘ ۔ بے شک یہ � [..]مزید پڑھیں

  • پاکستان کیسے ترقی کرے؟

    مرزا محمد سعید دہلوی دو زمانوں کا سنگم تھے۔ 1886 میں  پیدا ہوئے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں علامہ اقبال سے تعلیم پائی اور اسی کالج میں احمد شاہ پطرس بخاری کو تعلیم دی۔ 1905 میں انیس برس کی عمر میں  ’خواب ہستی‘ کے عنوان سے ناول لکھا۔  اتفاق سے اسی برس مرزا ہادی رسوا کا ناول [..]مزید پڑھیں

  • بے بے، فیر آیا ای

    اشارہ تو سالانہ بجٹ کی طرف ہے لیکن اس جملے کا حقیقی مفہوم جاننا ہو تو کسی بدیہ گو پنجابی دوست سے رابطہ کیجئے۔ آپ کے نیاز مند کو اردو نثر میں پنجابی نگینے جڑنے کا وہ ہنر ودیعت نہیں ہوا جو استاد مکرم عطا الحق قاسمی نے مبدا فیض سے بدرجہ اولیٰ پایا ہے۔ عابد علی عابد نے کہا تھا، اس ب� [..]مزید پڑھیں