وجاہت مسعود

  • بزرگ صحافی اور تاریخ کا امتحانی پرچہ

    میر صاحب 1810 میں رخصت ہوئے تھے۔ اس دوران فلک نے کیسا کیسا انقلاب دیکھا، اجداد پہ کیا گزری اور خود ہماری محضر پر کیسا کیسا نوشتہ مُہر کیا گیا۔ خدائے سخن کے نشتر کی کاٹ مگر بدستور حقیقت کی پرتیں وا کئے جاتی ہے۔ فرمایا، ’عہد ہمارا تیرا ہے یہ جس میں گم ہے مہر و وفا / اگلے زمانے میں [..]مزید پڑھیں

  • سویا ہوا محل اور شاہی جوڑے کی سحرسازیاں

    سلیم احمد حیات تھے تو اردو دنیا میں ان کا سکہ چلتا تھا۔ شعر، تنقید اور سرکاری نشریات غرض کسی گھر بند نہیں تھے۔ اس پہ طرۂ یہ کہ فکری طور پر غالب ریاستی بیانیے کے دو ٹوک حامی تھے۔ فن اور اقتدار میں اساسی کشمکش پائی جاتی ہے۔ فن انسان کے ارتفاع کی جہد ہے اور اقتدار شرف انسانی پرجب� [..]مزید پڑھیں

  • خالص زبان میں لکھا گیا ایک کالم

    اس فقیر پُرتقصیر کے پڑھنے والے بھلے (ہم کو غریب جان کے، ہنس ہنس پکار کے ) تسلیم کرنے سے انکاری ہوں، خلوص اور موانست کا رشتہ تو ان سے طے پا چکا۔ کچھ مہینے ہوئے، غالباً گزشتہ اکتوبر کا پہلا ہفتہ تھا، ایک کالم لکھا تھا، ’درویش کے دانت سویلین ہو گئے‘ ۔ سیدھے سیدھے بتا دیا تھا � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • ڈاکٹر مہدی بہاراں پہ خاک ڈال گئے

    23 فروری کی دوپہر عین اس گھڑی جب اسلام آباد ہائی کورٹ پاکستان میں اظہار کی آزادی پر تازہ ترین ریاستی حملے پیکا (PECA) کے سیکشن 20 پر عمل درآمد روک رہی تھی، لاہور کی ایک نواحی بستی میں صحافت کی آزادی کے ایک بہادر سپاہی ڈاکٹر مہدی حسن نیند کے عالم میں بغیر آہٹ کیے ابدی نیند کی وادی میں � [..]مزید پڑھیں

  • تبدیلی کی ہوائیں

    لیاقت علی خان کی شہادت ہماری تاریخ میں وہ نقطہ تھا جہاں غیر سیاسی قوتوں کے اونٹ نے سادھارن عوام کے خیمے میں گردن داخل کر لی۔ خواجہ ناظم الدین نے وزارت عظمیٰ سنبھالی اور روہیل کھنڈ ریلوے میں اسسٹنٹ آڈٹ افسر کی ملازمت سے عملی زندگی شروع کرنے والے غلام محمد پاکستان کے گورنر جنرل ب [..]مزید پڑھیں

  • عمران حکومت اور مونتیل کی بیوہ

    جوانی بھی کیسا خواب در خواب کا جادوئی سلسلہ ہے۔ ہماری نسل کے لئے 80 کی دہائی کے آخری برس فروری میں خزاں زدہ ٹہنیوں سے پھوٹتی کونپلوں جیسی لطیف آرزوؤں کا موسم تھے۔ ہمارے ملک میں تیسری آمریت کی طویل رات ختم ہو رہی تھی۔ مشرقی یورپ سے لے کر لاطینی امریکا تک جمہوریت کے چشمے ابل رہے [..]مزید پڑھیں

  • قوم کیسے منحرف ہوتی ہے؟

    ہم فانی انسانوں کا مشاہدہ اور علم محدود ہے اور کیوں نہ ہو۔ کائنات بہت وسیع ہے اور دنیا بے حد پیچیدہ۔ ادھر اس کرہ خاکی پر ہمارے ٹھکانے کا احوال غالب کے ہم عصر نسیم دہلوی نے ایک ہی مصرعے میں سمو دیا۔ ’اجل ہے استادہ دست بستہ، نوید رخصت ہر ایک دم ہے‘۔ اگر یہ مصرعہ مغلق یا مشکل [..]مزید پڑھیں

  • جلاوطن حکومت سے جلا وطن شہریت تک

    بہت نازک موضوع ہے۔ ذرا سی بے احتیاطی سے قلم پھسل کر ممنوعہ حددو میں داخل ہو سکتا ہے۔ ہماری صحافت میں ایک عرصے سے ایسے موضوعات پر قلم اٹھانے کی روایت ختم ہو چکی ہے۔ اب ہماری صحافت میں کسی بدنصیب زمین پر قابض غنیم کی مسلط کردہ اجنبی دھنوں جیسی بے معنویت اور بیزار کن یکسانیت پائی [..]مزید پڑھیں