وجاہت مسعود

  • عوام کو تجرباتی چوہے بنانا قائد کاخواب نہیں تھا

    بابائے قوم کے خواب کو پاکستان کی قومی ریاست میں تبدیل ہوئے پون صدی گزر گئی۔ اس دوران اہل پاکستان نے ہر گزرتے دن کے ساتھ قوم کو کمزور اور ریاست کو مضبوط ہوتے دیکھا ہے۔ عوام کے ساتھ اس سازش، جرم اور ناانصافی کی جڑیں ذاتی مفاد، استحصال اور کوتاہ نظری میں پیوست ہیں۔ قائد کا خواب ی [..]مزید پڑھیں

  • دیار مغرب دکان ہی ہے!

    منو بھائی فرمایا کرتے تھے کہ بگڑا ہوا گائیک قوال، بگڑا ہوا عاشق شوہر اور بگڑا ہوا شاعر نقاد بن جاتا ہے۔ ویسے منو بھائی شاعر کی کایا کلپ کو کچھ اور عنوان دیا کرتے تھے جسے آج کل کے مشتعل ماحول میں دہرانا ممکن نہیں۔ البتہ یہ بتایا جا سکتا ہے کہ آج کے پاکستان میں از کار رفتہ اداکار [..]مزید پڑھیں

  • او آئی سی اجلاس: کشکول قبیلے کا ریشتاغ

    پڑھنے والوں میں ایسے صاحبان علم کی کمی نہیں جو یہ عنوان پڑھ کر چونک اٹھیں گے۔ سیالکوٹ کے جوہر بے آب ایل ایل بی مدظلہ سے تو کچھ بعید نہیں کہ انسائیکلوپیڈیا کی کرم خوردہ جلد نکال کر یہ بھی نشاندہی فرما دیں کہ ریشتاغ تو روایتی طور پر جرمن پارلیمنٹ کی عمارت کو کہتے ہیں۔ سو عرض ہے � [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فراموشی: پانچ ایکٹ کی المیہ تمثیل

    ان دنوں سویرا روشن ہوتا تھا اور رات میں نامعلوم کا جادو تھا۔ زندگی ایک دلچسپ اور بہت پھیلا ہوا کھیل تھا۔ یہ معلوم ہو چلا تھا کہ دنیا رنگ برنگی ہے لیکن من کو چنتا لگی تھی کہ آوازوں اور تصویروں کے اس بارونق میلے کا سارا تماشا آنکھ میں کیسے سمویا جا سکے گا۔ دس سے اوپر کون گنے؟ بالک [..]مزید پڑھیں

  • قلم کی روشنائی اور تاریخ کی سیاہی

    درویش شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں جگہ پانے کی خواہش نہیں رکھتا۔ افتاد طبع کو تو ایک طرف رکھیے، انحرافی فکر اور تقلید کی روش سے گریز پائی کا رجحان اپنی جگہ بھاری پتھر تھا کہ لغت میں مشکل پسندی بھی بغیر بتائے چلی آئی۔ لفظ تو مشکل نہیں ہوتا، لغت میں رکھا ہے تو معنی جاننا � [..]مزید پڑھیں

  • قائد اعظم کی عینک اور دیگر مال مسروقہ

    اس برس اکبر الہ آبادی کی وفات پر ایک صدی گزر گئی۔ 1846 میں پیدا ہونے والے اکبر الہ آبادی نے 1857  کا ہنگامہ بھی مشاہدہ کیا اور پہلی عالمی جنگ بھی دیکھی۔ اکبر اردو ادب میں قدامت پسندی کی اولین آوازوں میں سے تھے۔ سرسید، علی گڑھ تحریک اور آزادی نسواں کے سخت مخالف تھے۔ بدیشی علوم [..]مزید پڑھیں

  • عقل مند لوگو! معیشت ہی میں راہ نجات ہے

    مارچ 1971 کے دن تھے جب قائد اعظم کے پاکستان کی بنیاد کھودی جا رہی تھی۔ مشرقی پاکستان میں شفیع الاعظم چیف سیکرٹری تھے جنہیں عملی طور پر حکومت اور شیخ مجیب الرحمن کے درمیان رابطہ کار کی حیثیت بھی حاصل تھی۔ ایک اعلیٰ فوجی افسر نے خانہ جنگی کے بڑھتے ہوئے خدشات کے پیش نظر شفیع الاعظم [..]مزید پڑھیں

  • قائد اعظم کے کھوٹے سکے

    تحریک پاکستان میں بہت سے ایسے افراد شامل تھے جنہوں نے بعد ازاں اس تحریک کے مفروضہ مقاصد سے اختلاف کیا جیسے جی ایم سید، میاں افتخار الدین۔ کچھ افراد تحریک پاکستان کے مخالف تھے لیکن قیام پاکستان کے بعد ان مقاصد کے علم بردار بن گئے جو مبینہ طور پر نظریہ پاکستان کہلائے۔ اور بہت س� [..]مزید پڑھیں

  • شارق جمال خان کی خرد پسندی

    پطرس کے مضامیں ہم سب نے پڑھ رکھے ہیں۔ اردو مزاح کی یہ کلاسیک تصنیف 1927 میں شائع ہوئی جب پطرس کیمبرج سے انگریزی ادبیات میں ٹرائی پوز مکمل کر کے لاہور لوٹ آئے تھے۔ یہ بات قدرے کم معروف ہے کہ برطانیہ میں قیام کے دوران پطرس بچوں کے منفرد رسالے پھول کے لئے ہلکی پھلکی تحریریں بھی بھیج [..]مزید پڑھیں

  • سیکورٹی اسٹیٹ یا جمہوری ریاست؟

    نومبر کا تیسرا ہفتہ بالآخر گزر گیا۔ یہ اور بات کہ ہمارے سیاسی بحران، معاشی مسائل اور داخلی امن وسلامتی کی گْتھیاں وا نہیں ہوئیں۔ خرابی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف حکومتیں دراصل ایک خاص ریاستی نمونے کا تسلسل رہی ہیں۔ ہم نے اس ریاستی نمونے کا انتخاب اب سے ستر برس پہلے کیا تھا [..]مزید پڑھیں