وجاہت مسعود

  • پرائیویٹ ریان کو کون بچائے گا؟

    آج کچھ محسنوں کی یاد نے دل کو عجب محبت سے گرفت کیا ہے۔ اردو میں بچوں کے ادب کی داغ بیل مولانا محمد حسین آزاد اور مولوی اسماعیل میرٹھی نے ڈالی۔  1901 میں عورتوں کے حقوق پر پہلی اردو کتاب ’حقوق نسواں‘ لکھنے والے شمس العلما مولوی سید ممتاز علی اور ان کی اہلیہ محمدی بیگم نے ا� [..]مزید پڑھیں

  • الف لیلیٰ کا ابوالحسن اور سوتے جاگتے کی حکایت

    پنجاب کے سکولوں میں رواں تعلیمی سال سے یکساں نصاب تعلیم رائج کر دیا گیا ہے۔ ’رائج کرنا‘ از رہ احتیاط لکھا ہے۔ مسلط کرنے کا پیرایہ بیان قرین مصلحت نہیں اور ’نفاذ‘ کا امکان ورائے حقیقت ہے۔ آپ کے اس نیاز مند کو لے دے کر اردو کے نصاب ہی میں دلچسپی ہو سکتی تھی لیکن سچ بتا [..]مزید پڑھیں

  • کوہ ندا پر آوارہ بشارتیں

    فیض صاحب نے شب غم کے چاند کو یہ کہہ کر قریب بلایا تھا کہ ’نظر پہ کھلتا نہیں کچھ اس دم…. کہ دل پہ کس کس کا نقش باقی ہے کون سے نام بجھ گئے ہیں‘۔ علی گڑھ میں ریاضی کے مایہ ناز استاد ڈاکٹر ضیا الدین احمد کے بارے میں کہا جاتا ہے کسی شوخ چشم طالب علم کی فرمائش پر ’طول شب فراق&l [..]مزید پڑھیں

loading...
  • پڑھنے والوں سے رہنمائی کی درخواست

    دنیا کی کل آبادی کا موجودہ تخمینہ سات ارب 80 کروڑ سے زائد ہے۔ مسلمانوں کی تعداد ایک ارب نوے کروڑ سے زیادہ ہے گویا دنیا کا ہر چوتھا شہری مسلمان ہے۔ بدقسمتی سے دنیا کی اس 25 فیصد آبادی کے سیاسی، تمدنی، علمی اور معاشی خد و خال قابل رشک نہیں ہیں۔ بیشتر مسلم اکثریتی ممالک کے شہری آمر� [..]مزید پڑھیں

  • درویش کے دانت سویلین ہو گئے

    میر تقی میر نے خود کو دریا کہا تھا۔ بے شک وہ ایسے ہی تھے۔ لاہور مگر ایک سمندر ہے اور ایسا سمندر جس کا پانی میٹھا اور مہربان ہے۔ دور دور سے ٹھنڈے چشمے زرخیز زمینوں کی خزانے اپنے سینے میں سموئے جھومتے بل کھاتے لاہور پہنچتے ہیں، تہذیب اور کشادہ دلی کے اس ساگر میں اتر جاتے ہیں، لاہ� [..]مزید پڑھیں

  • جبر کی ناقابلِ برداشت کثافت

    بیسویں صدی میں فکشن اور فلم میں ایک دلچسپ تعلق دریافت ہوا۔ نثربیانیے کے لفظ کو تصویر میں تبدیل کرنا بذات خود ایک تخلیقی فن کی صورت اختیار کر گیا۔ کئی صفحات پر پھیلے ہوئے واقعے کو چند لمحات کے منظر میں کیسے بیان کیا جائے؟ لکھنے والے نے ایک لفظ میں جو کیفیت رکھی تھی، اسے مکالمے � [..]مزید پڑھیں

  • فرد کی مسیحائی اور جمہوریت کا کرشمہ

    بھٹو صاحب نے اقتدار سنبھالا تو ان کی عمر 43 برس، گیارہ ماہ اور پندرہ روز تھی۔ 1971 کے بحران کا تجزیہ مطلوب نہیں لیکن یہ واضح ہے کہ ملکی حالات غیرمعمولی طور پر ابتر تھے۔ ایک شکست خوردہ قوم جس کی سیاسی بنیادیں کھودی جا چکی تھیں، جو پیوستہ مفادات کے لئے تقسیم در تقسیم کی آزمائش سے دو [..]مزید پڑھیں

  • ففتھ جنیریشن وارفیئر اور پانچواں کالم

    جوانی خواب دیکھنے کا موسم ہے۔ محبتوں کے خواب، خوبصورتی کے خواب، دنیا کو جاننے کے خواب، ناانصافی سے لڑنے کے خواب، دنیا کو بہتر بنانے کے خواب۔ ہم ایسے تو زمین کا بوجھ ہیں، ہمارے لئے یہی بہت ہے کہ تاریخ کی کثافت میں اضافہ کئے بغیر خاموشی کی وادی میں اتر جائیں۔ بڑے انسان اس خواب ک� [..]مزید پڑھیں

  • نکولائی گوگول کی ’مردہ روحیں‘ اور ہماری سیاست

    دل ایسے آزاد پرندے کی اڑان کے کیا کہنے! یہ محض نیلے آسمان اور بادل کی دھانی ٹکڑیوں کے بیچ مرتعش ہواؤں پر وارفتہ پرواز کا مضمون نہیں، اس میں پرانے پیڑوں، آشنا گلی کوچوں اور وہاں بسنے والوں سے رشتے کی پابستگی کے اشارے بھی ملتے ہیں۔ میرؔ سے خوش نوا پرندے کا یہ عالم تھا کہ ’تری [..]مزید پڑھیں