وجاہت مسعود

  • شارق جمال خان کی خرد پسندی

    پطرس کے مضامیں ہم سب نے پڑھ رکھے ہیں۔ اردو مزاح کی یہ کلاسیک تصنیف 1927 میں شائع ہوئی جب پطرس کیمبرج سے انگریزی ادبیات میں ٹرائی پوز مکمل کر کے لاہور لوٹ آئے تھے۔ یہ بات قدرے کم معروف ہے کہ برطانیہ میں قیام کے دوران پطرس بچوں کے منفرد رسالے پھول کے لئے ہلکی پھلکی تحریریں بھی بھیج [..]مزید پڑھیں

  • سیکورٹی اسٹیٹ یا جمہوری ریاست؟

    نومبر کا تیسرا ہفتہ بالآخر گزر گیا۔ یہ اور بات کہ ہمارے سیاسی بحران، معاشی مسائل اور داخلی امن وسلامتی کی گْتھیاں وا نہیں ہوئیں۔ خرابی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں مختلف حکومتیں دراصل ایک خاص ریاستی نمونے کا تسلسل رہی ہیں۔ ہم نے اس ریاستی نمونے کا انتخاب اب سے ستر برس پہلے کیا تھا [..]مزید پڑھیں

  • ادب کی معیشت

    محمد حسن عسکری نے ساٹھ برس قبل ادب کی موت کا اعلان کیا تو لاہور سے ناصر کاظمی کی آواز آئی، میں غزل لکھ رہا ہوں تو ادب کیسے مر سکتا ہے۔ اب ناصر غزل نہیں لکھ رہا لیکن اسد محمد خان تو افسانہ لکھ رہے ہیں۔ پھر ایسا کیوں ہوا کہ ہمارے لکھنے اور پڑھنے والے ذہین نوجوان انگریزی زبان میں ل� [..]مزید پڑھیں

loading...
  • اسلام، قائد اعظم اور مولانا مودودی

    بات اس نکتے سے شروع ہوئی تھی کہ مسلم لیگ نے ہندوستان کی تقسیم کا مطالبہ کیا تو اس مطالبے کی تشریح میں موعودہ مملکت کے باشندوں سے کیا وعدے کئے۔ اور جب تقسیم کا مرحلہ طے کیا جا رہا تھا تو زمینی حقائق میں کیا تبدیلیاں آئیں۔ مملکت کے بانی نے نئے ملک کا افتتاح کرتے ہوئے ملک کے باشند� [..]مزید پڑھیں

  • رکاکت اور ابتذال کے موسم میں جینا

    برادر محترم ان دنوں خاموش ہیں ۔یوں بھی اسرافیلی طبیعت پائی ہے ۔ مہینوں بلکہ برسوں میں قلم اٹھاتے ہیں ، ان کا قلم بھی برہمن کے ناقوس، جوگی کے سنکھ اور نالہ جرس سے کم نہیں۔ کوئی چار برس پہلے خامہ ہوش ربا کو حرکت دی اور پارٹی ختم ہو نے کی خبر دی۔ یہ برہم ہونے والی محفل یوں بھی برہم [..]مزید پڑھیں

  • سیاست اور سیاست دان کو برا کہنے کی روایت

    اگر آپ نے مختلف تعلیمی درجوں میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے والے طالب علموں کے اردو اخبارات میں انٹرویو پڑھے ہیں تو شاید آپ نے محسوس کیا ہو کہ ان نونہالوں سے ایک سوال سیاست دانوں کے بارے میں ضرور پوچھا جاتا ہے۔  اور ان ہونہاروں نے ہمیشہ ایک ہی جواب دیا: ’ہمیں سیاست سے نفرت � [..]مزید پڑھیں

  • ابرار احمد: قصباتی لڑکا واپس چلا گیا

    عدم اور وجود کے کھیل سے کسے انکار ہو سکتا ہے۔ موت وہ فسطائی فرمان ہے جو مکالمے کا روادار نہیں۔ نامعلوم کی نیند کے ایک لامتناہی سلسلے میں بیداری اور غفلت کے جلتے بجھتے روز و شب کا ایک مختصر وقفہ، فرد کی زندگی یہی ہے۔ گزشتہ نسل جگہ خالی کرے گی تو زمین آئندگان کو خوش آمدید کہہ سکے [..]مزید پڑھیں

  • مکھوٹے، موکھے اور محافظ کی سیاست

    سند باد جہازی جولائی 2018 کے بعد سے احباب کو خبر کیے بغیر ایک نامعلوم سفر پر نکل گیا تھا۔ آپ سے کیا پردہ، گیا کہیں نہیں تھا، یہیں گھر کے عقبی دالان میں در و دیوار لپیٹے پڑا تھا۔ کالم لکھنے کا دن آتا تو آنکھ پر مصلحت کی پٹی باندھ کر دست لرزیدہ سے کلک شکستہ تھام کر ایران توران کی کہا [..]مزید پڑھیں

  • نغمے کی سیاست

    آپ تو جانتے ہیں کہ درویش نے سہل طلب اور عافیت پسند طبیعت پائی ہے۔ مسائل کی دھوپ قدرے تیکھی ہو جائے تو کسی خیال کے سائے میں جا بیٹھتا ہے۔ واقعات کی گتھی الجھ جائے تو خواب میں پناہ ڈھونڈ لیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر مکالمہ گالی دشنام کی راہ پر چل نکلے تو آپ کا نیاز مند عوامی تبصرے دیکھنا [..]مزید پڑھیں