وجاہت مسعود

  • افغانستان: خواہشوں کے پرندے اور امید کی ہجرت

    وہی کابل کی گلیاں ہیں، وہی وحشت زدہ آنکھیں۔ گہرے پانیوں پر رواں حریف بجرے مختلف رنگوں کے جھنڈوں سے دور فاصلاتی اشارے دے رہے ہیں۔ کرزئی ائرپورٹ سے بلند ہوتے جہازوں سے ٹوٹتے ستاروں کی طرح گرتے خاک زادے، کابل کے صدارتی محل کے مرصع ایوانوں میں بندوق بردار فاتحین، بم دھماکوں میں ہل [..]مزید پڑھیں

  • سانحہ لاہور اور روشن خیالی کی گرہیں

    آج سے ٹھیک بیاسی برس پہلے 23 اگست 1939 کو سوویت یونین نے نازی جرمنی کے ساتھ امن معاہدہ کر کے دنیا بھر کے روشن خیال اور امن پسند انسانوں کو گنگ کر دیا تھا۔ دس روز بعد جرمن افواج مشرق میں پولینڈ اور مغرب میں بیلجئم کے راستے فرانس پر حملہ آور ہو رہی تھیں تو ہمارے اشتراکی احباب اسے سرم [..]مزید پڑھیں

loading...
  • فزکس کے اینٹی میٹر سے سیاست میں اینٹی سٹیٹ تک

    درویش سمیت ہم میں سے بیشتر احباب جدید سائنس کی باریکیوں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتے لیکن اتنا بہرصورت معلوم ہے کہ بیسویں صدی میں نظری اور عملی سائنس میں ایسے نئے تصورات سامنے آئے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے سائنسی نظریات پیش پا افتادہ نظر آنے لگے۔  فزکس ہی کو لیجئے۔ آ� [..]مزید پڑھیں

  • داغ داغ اجالا اور آزادی موہوم

    وقت کا ظلم اس بے نیازی سے دلوں پر پاﺅں دھرتا آگے بڑھتا ہے کہ دھوپ ڈھلنے کی خبر نہیں ہوتی۔ فرد آخر سرراہ کھڑے پیڑ پر ایک پتہ ہی تو ہے، ایک طرف شاہراہ پر دھول اڑاتا پرشور ہجوم اور دوسری طرف فنا کی گہری ندی کا سکوت۔ برگ سبز کو زرد پتے میں بدلتے دیر ہی کتنی لگتی ہے۔  مگر یہ کہ شاہر [..]مزید پڑھیں

  • تنویر جہاں کا لان اور نارسائی کا اندھیرا

    کچھ برس پہلے لاہور کے انتہائی جنوب میں تنویر جہاں نے اپنا گھروندہ بنایا تو اس میں سبزے کے ایک لان نما قطعے کا التزام بھی کیا۔ قریب قریب اتنا ہی حدود اربعہ جتنے رقبے پر گاﺅں میں چوہدری کی چارپائی سماتی تھی۔  اس پر غضب یہ کہ ایک کونے میں Rockery  بنانے کی بھی ٹھان لی۔ روکری � [..]مزید پڑھیں

  • زمانہ عدالت نہیں ہے

    یہ عنوان بیسویں صدی میں اردو کے ایک بڑے شاعر مبارک احمد کی 1961 میں لکھی نظم سے ماخوذ ہے۔ مبارک احمد کا کچھ ذکر رہے گا مگر اس سے پہلے صاف کہنا ہے کہ پچھلے کچھ دن بے کراں ذہنی انتشار، پژمردگی اور اعصابی دباؤ  میں گزرے۔  ملکی سیاست بدستور دگرگوں ہے اور میری نسل کے عرصہ حیات میں [..]مزید پڑھیں

  • جمہوریت کی آزادی یا آمریت کی کج روی

    منٹو لفظ کا جوہری تھا۔ اسے اونچی دکان کی جھالر پٹی یا دست فروش کی کم مائیگی سے غرض نہیں تھی۔ وہ اپنے قلم کی نوک سے ایسا لفظ اٹھاتا تھا جو معنی ہی نہیں، کیفیت بھی بیان کرے۔ احساس کے کیف و کم ہی پر اکتفا نہ کرے، سوچ کے پیچ و خم کا احاطہ بھی کرے۔ اواخر نومبر یا دسمبر 47 کے ابتدائی ہفت [..]مزید پڑھیں

  • دہشت کی منقسم یاد اور نظریے کا جبر

    باتیں تو درویش کی زنبیل میں بھی وہی ہیں جو ن م راشد کا  ’اندھا کباڑی‘  لئے پھرتا تھا۔ افسوس کہ ڈاکٹر خورشید رضوی سے کبھی نیاز نہ رہے ورنہ ان سے عربی زبان میں تثنیہ کا قاعدہ ٹھیک سے سمجھ لیتا۔  ایک خیال سا ہے کہ فارسی کے نامعلوم شاعر اور نجد کے قیس بن الملوح میں  &rs [..]مزید پڑھیں

  • عید، ناانصافی…. مجھے گھر یاد آتا ہے

    ایک دو روز میں عید ہوگی۔ لغت میں لفظ کا معانی کچھ اور ہوتا ہے اور زبان استعمال کرنے والوں کے احساس میں اس کی کیفیت کچھ اور ہوتی ہے۔ میر ہی کو لیجئے، خدائے سخن نے لکھا۔ ہوئی عید، سب نے پہنے خوشی و طرب کے جامے، نہ ہوا کہ ہم بدلتے یہ لباس سوگواراں۔ میر نے نوے برس کی عمر پائی۔ باہر س� [..]مزید پڑھیں